پاکستان توہین آمیز خاکوں کا اقوام متحدہ سمیت ہر عالمی فورم پر اٹھائے

پاکستان توہین آمیز خاکوں کا اقوام متحدہ سمیت ہر عالمی فورم پر اٹھائے

لاہور(نامہ نگار خصوصی ) پاکستان توہین آمیز خاکوں کے خلاف عالمی سطح پر قانون سازی کے لئے بھرپور کردار ادا کرے۔اسلامی ممالک کا اجلاس بلاکر متفقہ لائحہ عمل ترتیب دیا جائے۔ اقوام متحدہ سمیت ہر عالمی فورم پر اس مسئلہ کو اٹھانا چاہیے۔ کسی مسلمان کا دوسرے مسلمان پر کفر کا فتویٰ لگا کر قتل جائز نہیں۔صلیبی و یہودی مسلمانوں کو آپس میں لڑا رہے ہیں۔ دہشت گردی کی آگ بھڑکا کر پاکستان کو ناکام ریاست ثابت کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔مسلمان تمام انبیاء کی حرمت اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار مختلف دینی وسیاسی قائدین اور وکلاء راہنماؤں نے لاہور ہائی کورٹ بار کے کراچی شہداء ہال میں \"سیرت ہادی عالم \"سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب کا اہتمام حرمت رسول لائرز موومنٹ اور الامۃ لائرز فورم نے کیا تھا۔مقررین میں تحریک حرمت رسول کے سیکرٹری جنرل مولانا امیر حمزہ ، جمعیت علماء پاکستان کے صدر پیر اعجاز ہاشمی، جماعت اسلامی کے مرکزی راہنماء ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، مرکزی جمعیت اہلحدیث کے نائب امیر علامہ زبیر احمد ظہیر، جماعۃالدعوۃ کے رہنما قاری محمد یعقوب شیخ، جمعیت علماء اسلام (ف) کے مرکزی رہنما مولانا محمد امجد خاں اور بادشاہی مسجد کے خطیب مولانا عبدالخبیر آزاد، جمیل احمد فیضی ،علی عمران شاہین،عبدالرشید احمد قریشی، علامہ ممتاز اعوان، راؤ طاہر شکیل اور رانا عبدالحفیظ ایڈوکیٹس شامل تھے ۔اس موقع پر سیکرٹری لاہور ہائی کورٹ بار محمد احمد قیوم ،سابق جسٹس حافظ عبدالرحمن انصاری اور نعمان یحییٰ سمیت دیگر وکلاء کی کثیر تعداد موجود تھی۔سیمینار کے دوران گستاخانہ خاکوں کے خلاف جی پی او چوک میں ہفتہ وار احتجاج کے 112ہفتے مکمل ہونے پر اس تحریک میں حصہ لینے والے وکلاء میں یادگاری سووینئرپیش کئے گئے۔ مقررین کے خطابات کے دوران حرمت رسول پر جان بھی قربان ہے ‘ کے زوردار نعرے لگائے جاتے رہے۔ مقررین نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ حرمت رسول کی حفاظت ہمارے دین کا حصہ ہے۔ہم سب کچھ قربان کریں گے مگر نبی کریم کی حرمت پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔ مسلم حکمرانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اقوام متحدہ میں اس مسئلہ کو اٹھائیں اور عالمی سطح پر قانون سازی کیلئے کوششیں کریں جو ممالک اس پر تیار نہیں ہوتے مسلم ملکوں کو ان کا بائیکاٹ کرنا چاہیے ۔توہین آمیز خاکوں کی اشاعت دنیا کا امن برباد کرنے کی خوفناک سازش ہے جسے صلیبیوں اور یہودیوں کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے۔

سیمینار خطاب

مزید : علاقائی