غیرت کے نام پر ظلم

غیرت کے نام پر ظلم
 غیرت کے نام پر ظلم

  

شرمین عبیدچنائے نے دوسری مرتبہ بھی آسکر ایوارڈ اپنے نام کر لیا۔ یہ ایوارڈ ان کو غیرت کے نام پر قتل پر بنائی جانے والی ڈاکومنٹری فلم ’’اے گرل اِن دی ریور‘‘ پر دیا گیا۔ شرمین عبید نے یہ ایوارڈ جیت کر اپنا اور اپنے ملک کا نام سنہری حروف میں لکھ دیا ہے اب اس سلسلے میں ایک قانون بھی پاس ہونے جا رہا ہے۔ آج کا اخبارپڑھتے ہوئے میرا دل خوشی سے پھولے نہیں سماتا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی مجھے اپنے والدین کے ملتان کے قریب ایک گاؤں میں قیام کے دوران بہت پہلے پیش آنے والا واقعہ بھی یاد آ رہا ہے، جس میں ہمارے گھر کے سامنے ایک خاندان آباد تھا۔خاندان کے سربراہ فقیر حسین کی پانچ بیٹیاں تھیں۔ وہ اکثر و بیشتر ہمارے گھر میری بڑی بہنوں کے پاس ملنے آیا کرتیں۔ یہ ایک شریف خاندان تھا۔ ایک شام جب میرے والد صاحب دفتر سے گھر آئے اور ہاتھ منہ دھو کر ابھی کھانا شروع ہی کیا تھا کہ گلی میں ایک شور بلند ہوا۔ ابو اٹھے اور امی سے کچھ کہتے ہوئے گھر سے باہر نکل گئے۔ امی جان بھی ان کے پیچھے پیچھے باہر کے دروازے پر جا کر کھڑی ہو گئیں۔ گلی میں لوگ کافی تعداد میں جمع تھے۔ سامنے والے فقیر حسین کے ایک ہاتھ میں کلہاڑی تھی اور دوسرے ہاتھ سے اس نے اپنی چھوٹی بیٹی کو چٹیاں سے پکڑ رکھا تھا۔

بچی ہاتھ جوڑ جوڑ کر اپنے والد سے رحم کی درخواست کر رہی تھی۔ ابو نے صورتِ حال جاننے کی کوشش کی تو پتا چلا کہ بچی ڈاکٹر کے کلینک پر اپنے پیٹ کے درد کی دوا لینے کے لئے گئی تھی، لیکن جیسے ہی وہ کلینک میں داخل ہوئی۔ باہر سے کسی نوجوان نے دروازہ بند کرکے کنڈی چڑھا دی۔ یہ بات جب لڑکی کے باپ تک پہنچی تو وہ گھر سے کلہاڑی لے کر کلینک جا پہنچا اور لڑکی کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتا ہوا اپنے گھر تک لے آیا ۔ فقیر حسین کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا، انگارے برس رہے تھے ۔ وہ بلند آواز میں کہہ رہا تھا ’’میرے نزدیک کوئی نہ آئے ورنہ میں اس کا بھی کام تمام کر دوں گا‘‘۔۔۔ جبکہ اس کی بیوی اور بیٹیاں اس کو اس انسانیت سوز بھیانک عمل سے روکنے کی کوشش کررہی تھیں۔ سب لوگ عالمِ حیرت میں غوطہ زن تھے اور کسی میں بھی اس ظالم کے قریب جا کر لڑکی کو چُھڑانے کی ہمت نہیں تھی۔ ایک تماشا سا سرِبازار لگا ہوا تھا۔ اچانک فقیر حسین کی بیوی دوڑتی ہوئی ہمارے گھر کی سمت آئی ۔ آتے ہی اپنا دوپٹہ ابو کے قدموں میں ڈال دیا، جس عورت کا محلے والوں نے کبھی آنچل نہیں دیکھا تھا۔ وہ سرِ عام سر برہنہ کھڑی تھی۔ ابو نے دوپٹہ اٹھا کر اس کے سَر پر ڈالا اور اسے اندر جانے کا اشارہ کیا۔

میری امی کے پاس کھڑی ہو کر وہ عورت اور زیادہ زور زور سے رونے اور چلانے لگی۔’’بی بی! میری بیٹی بہت معصوم اور بھولی ہے۔ اس کا کوئی قصور نہیں ہے۔آپ ہی لوگ اس کی جان بخشی کرائیں‘‘۔ فقیر حسین ابھی تک اپنی بیٹی کا ہاتھ پکڑے بازار میں کھڑا ہوا تھا۔ اس کی دوسری بیٹیاں بھی اپنے والد کو خدا کے واسطے دے رہی تھیں کہ اچانک میرے ابو آگے بڑھے اور انہوں نے بڑی جرات اور بہادری کے ساتھ فقیر حسین کے کلہاڑی والے ہاتھ کو اپنے دونوں مضبوط ہاتھوں سے دبوچ لیا اور فقیر حسین سے مخاطب ہوئے ’’فقیر حسین کیا تو پاگل ہو گیا ہے۔ کیا کوئی اپنے جگر کے ٹکڑے کو بھی ذبح کر سکتا ہے، ہوش سے کام لے۔ یہ تو تیری آنکھوں کا نور ہے۔ تیرے دل کا سُرور ہے۔ کلیجے کی ٹھنڈک ہے،تیرا دست و بازو ہے!‘‘ اور ابو نے کلہاڑی اس کے ہاتھ سے چھین کر دور پھینک دی۔ ابو نے فقیر حسین کو بازوؤں کے گھیرے میں لے لیا اور کہا ’’تو اس معصوم بیٹی سے پوچھ تو سہی کہ اس کی طبیعت کیسی ہے؟ انسان کو کانوں کا اتنا کچا بھی نہیں ہونا چاہیے‘‘۔۔۔ اتنی دیر میں فقیر حسین کی بیوی اپنی سب بیٹیوں کو ساتھ لے کر اپنے گھر کے اندر چلی گئی تھی۔ مجمع چھٹ چکا تھا اور فقیر حسین ندامت سے سَر جھکائے ابو کے سامنے کھڑا ہوا تھا۔

اس طرح کے ہزاروں واقعات شب و روز ہماری آنکھوں کے سامنے سے گزرتے ہیں۔ ان اندوہناک واقعات کی روک تھام کے حوالے سے ہمیں قانون سازی کے ساتھ ساتھ شخصی اور عوامی کردار سازی کی اشد ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں خلوص نیت کے ساتھ حکومت کے علاوہ عوام کو بھی بھرپور کوششیں کرنا ہوں گی کہ جب ایسا منظر دیکھیں تو خاموش تماشائی نہ بنے رہیں، جرات، بہادری، دلیری اور جواں مردی سے ظالم کے ہاتھ پکڑ لیں، نڈر ہو کر اسے زبانی کلامی ہی نہیں عملی طور پر بھی سبق سکھائیں!ہمارے ابو کی طرح۔۔۔والدین کے ساتھ ساتھ نسلِ نو کو بھی اپنے حقوق و فرائض کو سمجھنے اور جاننے کی اشد ضرورت ہے۔ اس طرح سے ایک باشعور معاشرہ قیام میں آئے گا۔ اس قانون سازی سے نہ صرف جرائم کی شرح کم ہوگی، بلکہ انسانی اذہان و کردار میں ایک مثبت تبدیلی پیدا ہوگی۔ انسانی قتل نہ صرف ایک بھیانک جرم ہے، بلکہ انسانیت پر ظلم بھی! اور اسلام ہمیں کسی طرح بھی ظلم کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔

مزید :

کالم -