گورنر خیبرپختونخوا اقبال ظفر جھگڑا عوامی توقعات پر پورا اتریں گے

گورنر خیبرپختونخوا اقبال ظفر جھگڑا عوامی توقعات پر پورا اتریں گے
گورنر خیبرپختونخوا اقبال ظفر جھگڑا عوامی توقعات پر پورا اتریں گے

  

وزیراعظم محمد نواز شریف نے سردار مہتاب احمد خان کے استعفیٰ کے بعد انجینئراقبال ظفر جھگڑا کو گورنر خیبرپختونخوا مقرر کر دیاہے ۔انجینئر اقبال ظفر جھگڑا کے گورنر منتخب ہونے سے پشتون بیلٹ اور خصوصاً مسلم لیگی کارکنوں کے احساس محرومی کا خاتمہ ہو گا، کیونکہ گورنر اقبال ظفر جھگڑا ایک طویل سیاسی کیرئیررکھتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن)کے صوبائی جنرل سیکرٹری سے لے کر مرکزی جنرل سیکرٹری کے عہدے پر فائز رہے، جبکہ اے آر ڈی کے جنرل سیکرٹری کی حیثیت سے بحالی جمہوریت اور آمریت کے خاتمے کے لئے جو جدوجہد کی ہے اس کی مثال مُلک کی تاریخ میں نہیں ملتی ۔اے آر ڈی کے چیئرمین نوابزادہ نصر اللہ خان مرحوم اکثر کہا کرتے تھے کہ اقبال ظفر جھگڑا جیسا فعال اور جمہوریت پسند شخص مجھے ملا ہے۔ بحالی جمہوریت کے لئے اقبال ظفر جھگڑا کی قربانیوں کو نہ صرف ملکی سطح پر، بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا گیا ۔ ان کا شمار وزیراعظم محمد نواز شریف کے قریبی وفادار ساتھیوں اور سینئر مسلم لیگیوں میں ہوتا ہے ۔وفاداری اور شرافت کی داستان رکھتے ہیں ۔راقم الحروف کا ان سے تعلق گزشتہ 18سال سے ہے ۔پشاور کے نواحی علاقے جھگڑا سے تعلق رکھتے ہیں اور بڑے زمیندار گھرانے سے تعلق ہے، لیکن اس کے باوجود اقبال ظفر جھگڑا شرافت کا پیکر ہیں اور عام آدمی سے بھی ملاقات کرتے ہیں اور جھگڑا ہاؤس کے دروازے ہر وقت کھلے رہتے ہیں۔ان کے چہرے پر ہر وقت مسکراہٹ رہتی ہے، جس کی وجہ سے ہر شخص کو اپنا گرویدہ بنا لیتے ہیں ۔

ان سے ایک بار ملاقات کرنے والا شخص اتنا متاثر ہوتا ہے کہ دل میں بار بار ان سے ملاقات کرنے کی خواہش رکھتا ہے ۔ان کا ڈیرہ ہر وقت آباد رہتا ہے ۔سینئر مسلم لیگی رہنما علی خان یوسف زئی بھی طویل عرصے سے اقبال ظفر جھگڑا کے ساتھ بیٹے کی طرح بغیر کسی لالچ اور مراعات کے کام کررہے ہیں اور اقبال ظفر جھگڑا صاحب بھی ان پر مکمل اعتماد کرتے ہیں، کیونکہ جس طرح اقبال ظفر جھگڑا نے اپنے قائد وزیراعظم محمد نواز شریف کے ساتھ مشکل ترین وقت میں وفادار ی کی لازوال داستان رقم کی ہے اسی طرح علی خان یوسف زئی نے بھی سخت وقت میں اقبال ظفر جھگڑا کا ساتھ نہیں چھوڑا اور یوسف زئی قبیلے کے سپوت نے اپنے قبیلے کا نام روشن کیا ۔ گورنر اقبال ظفر جھگڑا ایک طویل سیاسی تاریخ رکھتے ہیں ۔سیاست کو لوگ منافع بخش کاروبار بنا لیتے ہیں اور اقتدار کے بعد اربوں روپے کے بینک بیلنس اور بیرون ممالک جائیدادیں خریدتے ہیں، لیکن اقبال ظفر جھگڑا نے اپنے باپ دادا کی جائیدادیں فروخت کر کے سیاست کی اور ان پر ابھی تک کرپشن کا کوئی داغ نہیں لگا۔ مُلک کے دیگر سیاست دان بھی گورنر اقبال ظفر جھگڑا کی طرح سیاست کا محور عوام کی خدمت بنائیں اور سیاست کو کاروبار نہ بنائیں جب تک مُلک سے کرپشن کا خاتمہ نہیں ہو گا، ملک ترقی نہیں کر سکتا ۔

گورنر قبائلی رسم و رواج اور جرگہ سسٹم سے واقف ہیں ۔ان کے آباؤ اجداد نے قیام پاکستان سے لے کر استحکام پاکستان کے لئے قربانیاں دی ہیں ۔ گورنر اقبا ل ظفر جھگڑا نے اپنے آباؤ اجداد کے نقش قدم پر چل کر عوام کی خدمت کو اپنا شعار بنایا ہے اور عوام کے مسائل کے حل کے لئے اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لائی ہیں ۔کوئی سائل ان کے گھر اور دفتر سے دادرسی کے بغیر نہیں جاتا۔شرافت ،وفاداری اور ملنساری کے حامل گورنر اقبال ظفر جھگڑا قبائلی عوام کے مسائل حل کریں گے اور عوام کے لئے اپنے دروازے کھلے رکھیں گے ۔صوبے سمیت غیور قبائلی عوام ان کی تعیناتی سے خوش ہیں ۔ اقبال ظفر جھگڑا ایک عوامی گورنر ہونگے اور عوام کے ساتھ ان کا رابطہ براہ راست ہو گا ۔صوبے اور فاٹا کے مخلص اور پرانے مسلم لیگی کارکن جنہوں نے گورنر اقبال ظفر جھگڑا کے شانہ بشانہ بحالی جمہوریت کی تحریک میں حصہ لیا تھا ان کی قربانیاں کسی سے پوشیدہ نہیں ۔گورنر اقبال ظفر جھگڑا ان مخلص اور وفا دار ساتھیوں ،کارکنوں کے احساس محرومی کا خاتمہ کریں گے ۔فاٹا کے پرانے لیگیوں نے گورنر سے بہت توقعات وابستہ کر رکھی ہیں وہ ان کی توقعات پر بھی پورا اتریں گے اور فاٹا کے لیگی کارکنوں کو مایوس نہیں کریں گے ۔

قیام پاکستان سے لے کر اب تک فاٹا میں اصلاحات نہیں ہوئی ہیں اور ایف سی آر کا فرسودہ نظام آج بھی قبائلی علاقوں پر نافذ ہے گورنر خیبرپختونخوا فاٹا میں سیاسی اور انتظامی اصلاحات قبائلیوں کی مشاورت سے لائیں گے۔ نظریاتی کارکن ہر سیاسی جماعت کا قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں ۔غیور قبائل یہ امید رکھتے ہیں کہ گورنر اقبال ظفر جھگڑا فاٹا میں امن کی بحالی،متاثرین کی باعزت واپسی اور ان کے گھروں کی تعمیر کے لئے انقلابی اقدامات اٹھائیں گے ۔فاٹا میں انفراسٹرکچر کی بحالی، صحت کی سہولتوں کی فراہمی، ناخواندگی کے خاتمے اور تعلیم کے زیور سے ہر بچے کو آراستہ کرنے کے لئے اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لائیں گے اور وزیراعظم محمد نواز شریف کے ویژن کے مطابق قبائلی علاقوں میں امن ،ترقی ،خوشحالی اور گڈ گورننس کا نفاذ ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہو گا۔قبائلی عوام کے دکھ و درد میں گورنر خیبرپختونخوا شریک ہوں گے ۔اب غیور قبائلی عوام اپنے آپ کو تنہا نہیں سمجھیں گے اور ان کے مسائل حل ہوں گے ۔قبائلیوں کے مقدر میں دہشت گردی نہیں، بلکہ امن ،ترقی و خوشحالی کے لئے ہر قبائلی اُٹھ کھڑا ہو ۔

مزید :

کالم -