سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن نائف کو فرانس کے اعلی ترین قومی اعزاز سے نوازدیا گیا

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن نائف کو فرانس کے اعلی ترین قومی اعزاز سے نوازدیا ...
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن نائف کو فرانس کے اعلی ترین قومی اعزاز سے نوازدیا گیا

  

پیرس ( ویب ڈیسک) فرانسیسی حکام کے ساتھ ملاقاتوں کے بعد سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن نایف کا دورہ پیرس اختتام پذیر ہو گیا۔ اپنے دورے میں انہوں نے فرانسیسی صدر فرانسو ادلاندے سے الیزے پیلس کی کابینہ کے متعدد وزراءبھی موجود تھے۔ ملاقات میں دونوں رہنماﺅں نے شامی بحران ، یمن میں آئینی حکومت کی بحالی اور مشرق و سطی میں امن کی بحالی سمیت دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا ۔ ملاقات کے بعد فرانسیسی صدر نے سعودی ولی عہد کو ملک کا اعلیٰ ترین سول ایوارڈ ’ لیجن نیشنل آنرر ‘پیش جو علاقے اور دنیا بھر میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے شہزادہ محمد بن نائف کی کوششوں کا اعتراف تھا۔

شہزادہ محمد بن نایف جمعرات کو فرانس پہنچے تھے جہاں انھوں نے فرانسیسی وزیر دفاع جان لی و رجیان سے مذاکرات کئے جس میں دونوں ملکوں کے درمیان فوجی تعاون دہشت گردی کے خلاف جنگ ، شام میں عبور سیز فائر، فوجی مشقوں میں اضافے اور یمن میں عرب اتحادیوں کے آپریشن جیسے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ فرانسیسی وزیر داخلہ برنارڈ کازونو ا اور وزیر خارجہ جان مارک ایروے نے بھی فرانسیسی دفتر خارجہ میں سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر سے ملاقات کی اور دونوں فریقوں نے متعدد اہم سیاسی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ فرانسیسی وزیر نے یمن میں آئینی حکومت کی بحالی کی خاطر کی جانے والی سعودی کوششوں میں اپنے ملک کی بھرپور حمایت کا یقین دلایا۔سعودی عرب کے اعلیٰ حکومتی عہدیدار کے دورہ فرانس کے دوران دونوں ملکوں کی دو طرفہ مشترکہ کمیٹی کے اپریل میں ہونے والے تیسرے اجلاس سے متعلق بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ اجلاس پیرس میں منعقد ہو گا اس کی صدارت نائب ولی عہد، نائب وزیراعظم اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان کریں گے ۔ فرانس اور سعودی عر ب کے درمیان سالانہ تجارت کا حجم 10 ارب یورو سے زیادہ ہے ۔

اس سے قبل سعودی ولی عہداور فرانسیسی وزیراعظم مانویل والٹز کے درمیان فرانسیسی حکومت کے ہیڈکوارٹرز میں جمعہ کے روز ملاقات ہوئی۔ ایک ورکنگ لنچ پرہونے والی اس ملاقات میں دہشت گردی کیخلاف جنگ سمیت دیگر اہم معاملات پر تبادلہ خیال کیا ۔ اس موقع پر سکیورٹی کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

مزید :

بین الاقوامی -