ویل ڈن پاکستان

ویل ڈن پاکستان
ویل ڈن پاکستان

  



عالمی دباؤ،دشمن کی چالوں کے باوجود پی ایس ایل فائنل کا کامیاب انعقاد ہونا پورے پاکستان کی جیت ہے۔یہ ایک میچ نہیں ،بلکہ دہشت کے خلاف امن کی فتح تھی۔لاہور میں پاکستانیوں نے بلے سے دہشت کو ہرایا ہے گویاپی ایس ایل ٹو کا کامیاب ہونا پاکستان کیلئے بہتر مستقبل کی نوید ہے۔ اس سے پاکستان میں کرکٹ کی واپسی ہوئی ہے۔بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز نے بھی اس کا اعتراف کرلیا ہے اور اب ہمارے ملک میں موجود ناقدین کو بھی کرلینا چاہیے۔اس میچ سے قبل جس طرح کا پراپیگنڈا پھیلایا جارہا تھا ایسی کوئی بات نظر نہیں آئی۔

جب وزیر اعلیٰ پنجاب نے لاہور میں پی ایس ایل فائنل کرانے کا فیصلہ کیا تو ایک صاحب اس کے ردعمل میں اسے احمقانہ اور پاگل پن کہہ گئے اور ساتھ یہ بھی کہا کہ سنگینوں کی چھاؤں اور کرفیو کے ماحول میں یہ میچ کرانے کا کچھ فائدہ نہیں ہوگا،4 اور5مارچ کے دونوں روز میں اسی جستجو میں رہا کہ مجھے کہیں ٹریفک جام مل جائے،سڑکوں پر تعینات آرمی توپوں اور بکتر بند گاڑیوں کے ساتھ مل جائیں افسوس کہ ایسا کچھ نہیں تھا،گلبرگ،جیل روڈ،فیروز پور روڈ سبھی کھلے تھے حسب معمول ٹریفک بھی رواں دواں تھی،ہزاروں لوگوں کے آنے سے نہ شہر بند ہوا نہ ہی کوئی پٹاخہ پھوٹا۔ہاں مجھے یہ ضرور نظر آیا کہ سٹیج سجا تھا،سیٹی بجی تھی،بلا گھوما تھا،ملک کا ہرنوجوان ڈھول کی تھاپ پر جھوما تھا۔

میچ کے دوران ایک وحدت نظر آئی،ایک بار پھر قوم دکھائی دی جسے ہم برسوں سے ڈھونڈ رہے تھے،ایک جذبہ اور ولولہ بھی۔وزیر اعلیٰ شہباز شریف،گورنر پنجاب،وفاقی وزراء،سینیٹر سراج الحق،شیخ رشید،جاوید ہاشمی،تحریک انصاف کے لوگ،عمران خان کی سابقہ اہلیہ ریحام خان،کرکٹ کے بڑے نام سرویون رچرڈ،ڈیرن سیمی،جورڈن سبھی تو موجود تھے۔اور میچ بھی غضب کا تھا، کبھی خوشی تو کبھی غم، کبھی ہاہا تو کبھی تھو تھو۔ شائقین کرکٹ پر جذبات غالب رہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ جنون جیتا ہے تو غلط نہ ہوگا،میدان میں دو ٹیمیں ڈیرن سیمی کی پشاور زلمی اور سرفراز کی کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کھیل رہی تھیں لیکن سایہ ان پر قوم کی دعاؤں کا تھا۔ہرکوئی اس کا پُرامن اختتام چاہتا تھا۔ کرکٹ کے دیوانوں کا جوش خروش بھی دیدنی تھا۔ کچھ ٹی وی سکرینوں پر نظریں جمائے بیٹھے تھے تو کچھ مصلّے بچھا کر دعائیں مانگنے میں لگے تھے۔کھیل میں ایک نے جیتنا اور ایک نے ہارنا ہوتا ہے ۔

موقع کی مناسبت سے اگر کہہ دیا جائے کہ قومی ٹیم اس وقت دعاؤں کے سہارے سانسیں لے رہی ہے تو ہرگز غلط نہ ہوگا۔ شائقین کرکٹ اپنی ٹیم کو کھیلتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ گوروں کے دیس میں سبز ہلالی پرچم لہرانا، پاک سرزمین شاد باد کی گونج سننا ہر پاکستانی کی خواہش ہے۔ میدان میں ملک کے صرف گیارہ کھلاڑی کھیلتے ہیں لیکن ان کی فتح کیلئے پوری قوم میدان کے باہر نظریں جمائے ہوتے ہیں۔ یہ فتحیاب ہوتے ہیں تو کروڑوں چہروں پر خوشی بکھر جاتی ہے۔ جب یہ ہارتے ہیں تو کروڑوں دل ٹوٹتے ہیں، ارمانوں کا خون ہوتا ہے، کئی جذباتی تو قابو سے باہر ہوجاتے ہیں، مقابلہ کرکے ہارنا الگ بات لیکن بغیر لڑے ہارنا قوم نہ برداشت کرتی ہے اور نہ ہی وہ کرسکتی ہے۔

پی ایس ایل ٹو کے بہترین انعقاد اور ملک میں کرکٹ کی واپسی سے پی سی بی کے مردہ گھوڑے میں جان آئی ہے۔ہم نے وہ کردکھایا ہے جو چند روز پہلے اسی لاہور،پھر سیہون شریف،خیبر پی کے اور بلوچستان میں پے درپے بم دھماکوں کے بعد نا ممکن دکھائی دیتا تھا۔ہم نے ثابت کردیا ہے کہ ہم پاکستانی وہ قوم ہیں جس کے لئے ہم ٹھان لیتے ہیں وہ ہر قیمت پر کر گزرتے ہیں۔اس کا کریڈٹ ہر اس پاکستانی کو جاتا ہے جس نے دہشت کو شکست دینے کیلئے محبت اور امن کا ساتھ دیا ہے۔مجھے قذافی سٹیڈیم میں کھڑی خاتون کے ہاتھ میں وہ پلے کارڈ بہت اچھا لگا جس پر تحریر تھا کہ today,Pakistan win!یقیناً یہ پورے پاکستان کی کامیابی ہے ویلڈن پنجاب حکومت،ویلڈن پاکستان!

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ