عطاء الحق قاسمی کے ’’جرائم‘‘

عطاء الحق قاسمی کے ’’جرائم‘‘
عطاء الحق قاسمی کے ’’جرائم‘‘

  

پچھلے کئی ہفتوں سے عطاء الحق قاسمی پر مختلف الزامات لگ رہے ہیں۔ ایسے لگ رہا ہے کہ پاکستان میں جتنی بھی کرپشن ہے، اس کے موجب صرف عطاء الحق قاسمی صاحب ہیں۔

پاکستان میں ہر چیز میں ملاوٹ بھی انہی کی وجہ سے ہے۔ ملک کی موجودہ حالت کی تمام تر ذمہ داری بھی اُن پر ہے۔ قاسمی صاحب کے جرائم ان کی جوانی میں ہی شروع ہو گئے تھے، جب وہ پاکستان کے عشق میں امریکہ چھوڑ کر پاکستان واپس آگئے تھے۔ اس کے بعد وہ پے درپے جرم کرتے گئے، کبھی اپنے کالم کے ذریعے اور کبھی اپنے ڈراموں کی آڑ میں۔۔۔!

1996ء سے پہلے تک تو مَیں صرف ان کے نام سے واقف تھا اور کبھی کبھار ان کا کالم پڑھ لیتا یا شب دیگ دیکھ لیتا تھا، لیکن 1996ء میں جب انہوں نے پاکستان ایمبیسی ناروے میں سفیر کا منصب سنبھالا تو میری ان سے پہلی بار بالمشافہ ملاقات ہوئی۔ اس کے بعد اکثر و بیشتر ملاقاتیں ہوتی رہیں۔

ان کے ناروے میں دو اڑھائی سالہ سفارتی دور میں بھی ان کے جرائم کا سلسلہ جاری رہا۔ جن کا مَیں بھی چشم دید گواہ ہوں۔ مجھ سے زیادہ جہانگیر نواز چودھری بڑا گواہ ہے ،بلکہ جہانگیر نواز تو قاسمی صاحب کا شریک جرم بھی ہے، ان کا پہلا جرم یہ تھا کہ انہوں نے سفیر کے عہدے کے پروٹوکول کا ستیاناس کیا اور ناروے میں بسنے والے ہر ایرے غیرے کو ملنا شروع کر دیا، عام مزدور وں، ریستورانوں میں کام کرنے والوں ، بے روز گاروں ، ٹیکسی اور بس ڈرائیوروں کو بھی اپنے برابر کا سمجھا۔

اسی وجہ سے کئی سیاستدانوں، بزنس مینوں اور دوسرے امیر لوگوں نے بھی عطاء الحق قاسمی صاحب کو تھڑے کے سفیر کا لقب دینا شروع کر دیا تھا۔ دوسرا جرم ان کا یہ ٹھہرا کہ انہوں نے پاکستانی دکانداروں اور کئی کمپنیوں سے بات کر کے پاکستان سے ناروے میں چاول کی برآمد میں اضافہ کروا یا۔

آم سمیت کئی پھلوں اور سبزیوں کی برآمد میں بھی اضافہ کروایا۔ تیسرے جرم کے طور پر قاسمی صاحب نے ناروے میں پاکستانی ٹی وی چینل پی ٹی وی کا اجرا کروایا۔ اس سے پہلے ناروے میں بسنے والے تمام پاکستانی بھارتی ٹی وی چینل ذی ٹی وی دیکھنے اور بچوں کو دکھانے پر مجبور تھے۔

مجھے یاد ہے کہ جب پی ٹی وی کی نشریات ناروے میں شروع ہوئیں تو ہم جہاں کہیں بھی ہوتے تھے، شام 9بجے گھر پہنچ جاتے تھے ،تاکہ نو بجے کا خبرنامہ دیکھ سکیں کیونکہ پاکستان کی خبروں کا اور کوئی ذریعہ نہیں ہوتا تھا۔

جرائم یہی نہیں ہیں، قاسمی صاحب نے پہلی بار پاکستانی سفارتخانے میں عام لوگوں کو سہولیات بھی دیں اور ویزے اور پاسپورٹ کے حصول کو سہل بنایا۔

پاکستان سے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ممتاز پاکستانیوں کو ناروے میں بلاتے رہے، وہ بھی سرکاری خرچ پر نہیں ،بلکہ ناروے میں پاکستانی تنظیموں اور دوستوں کی مدد سے ۔۔۔ اپنے ساتھ پاکستان سے لے گئے ہوئے ڈرائیور بہادر اور خانساماں ریاض کے ساتھ ان کا سلوک ایسے ہی تھا، جیسے اپنے بچوں اور قریبی عزیزوں سے ہوتا ہے۔

یہ جرم بھی کوئی عام یا چھوٹا جرم نہیں تھا۔ جب 1999ء میں پاکستان کی تاریخ کا چوتھا مارشل لاء نافذ ہوا (جب کوئی جنرل شب خون مارتا ہے تو وہ کسی بھی رنگ میں ہو مارشل لاء ہی ہوتا ہے) تو اس وقت عطاء الحق قاسمی صاحب تھائی لینڈ میں پاکستان کے سفارتکار کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے، انہوں نے فوجی حکومت کے خلاف احتجاج میں سفارت سے استعفیٰ دیا ( استعفے دینے کا جرم بھی نیا نہیں ) اور واپس پاکستان آگئے اور ان مجرموں میں شامل رہے جو فوجی حکومت پر تنقید کرنے والے تھے۔

عطاء الحق قاسمی صاحب کا ایک اور بہت بڑا جرم یہ ہے کہ اپنے تینوں بیٹوں یاسر پیرزادہ، عمر قاسمی اور علی کو بہترین تربیت دی اور مواقعے ملنے کے باوجود اپنے بیٹوں کو یورپ، آسٹریلیا یا امریکہ میں آباد کرنے کے بجائے پاکستان میں رکھا اور سب بیٹوں کو اچھی تعلیم وتربیت دلائی۔

اس جرم کو وسعت دی اور تینوں بیٹوں کو نوکری دلانے کے لئے کوئی سفارش نہیں کروائی۔ (عطاء الحق قاسمی صاحب کے بڑے آدمی ہونے کا کیا فائدہ ہوا کہ اپنے بیٹوں کی سفارش بھی نہ کروا سکے)۔

آج یاسر پیرزادہ جس مقام پر ہیں وہ خالص انہیں اپنی محنت اور قابلیت کی بنیاد پر حاصل ہوا ہے۔ یاسر صاحب نے سب سے کم عمر سی ایس ایس کا امتحان پاس کرنے کا ریکارڈ بنا رکھا ہے اور کئی لحاظ سے وہ اپنے والد گرامی سے بھی زیادہ کھرے، سچے اور قابل ہیں۔

کیا پتہ ان کی قابلیت اور ایمانداری بھی کب ایک بہت بڑا جرم بن جائے۔۔۔!کیونکہ عطاء الحق قاسمی صاحب کا جرم بھی پاکستان سے محبت اور خدمت ہی بنا ہے۔

جب سے انہوں نے پی ٹی وی کی چیئرمینی سنبھالی تھی اس وقت سے تو انہوں نے اپنے جرائم میں پورے پاکستان کو شامل کر لیا تھا، حالانکہ اس سے پہلے پاکستان ایمانداری میں دنیا کے پہلے پانچ ممالک میں شامل تھا اور اب ایک سو ساٹھویں نمبر پر پہنچ گیا، لیکن حیرت ہے کہ اتنے بڑے جرائم کے بعد بھی عطاء الحق قاسمی صاحب پر صرف ستائیس کروڑ کا الزام لگایا گیا ہے وہ بھی محکمہ اطلاعات کے ایک سیکرٹری کی طرف سے، حالانکہ پچھلے سال بلوچستان کے ایک سیکرٹری کے گھر سے جو نقدی برآمد ہوئی تھی، وہ 83 کروڑ تھی، باقی سونا اور دوسرے اثاثے اس کے علاوہ۔۔۔ جبکہ قاسمی صاحب کا معاملہ جس شدت کے ساتھ اٹھایا گیا ہے ۔

اس سے تو یہی لگتا ہے کہ پورے ملک میں جتنی خرابیاں ہیں، ان سب کے ذمے دار صرف عطاء الحق قاسمی ہی ہیں، اگر بات صرف ستائیس کروڑ کی ہوتی تو پھر اتنا شور تو نہیں ہونا تھا، کیونکہ اس سے زیادہ تو ایک کلرک کما لیتا ہے اگر کسی کو یقین نہ آئے تو وہ مجھ سے ملاقات کرے، مَیں ایسے سیکڑوں کلرکوں، پٹواریوں اور انہی کے برابر کے تنخواہ سکیل والے بتا سکتا ہوں جن کے اثاثے کروڑوں کی حدود عبور کر کے اربوں تک پہنچ چکے ہیں۔

قاسمی صاحب کی چیئرمینی کے دوران اس خاکسار کو بھی یہ شرف حاصل ہوا کہ پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں ان سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے مجھے اپنی زندگی کی تصویری جھلکیوں پر مشتمل کتاب سے نوازا، وہ کتاب بھی پی ٹی وی کے پیسوں سے چھپوائی گئی ہوگی، لیکن مجھے ان سے مل کر زیادہ حیرت اس لئے ہوئی کہ اتنے بڑے عہدے پر ہونے کے بعد بھی ان کا عام لوگوں سے ملنے جلنے کا طریقہ نہیں بدلا اور انہوں نے امیروں اور بڑے لوگوں کا سلیقہ نہیں سیکھا، اور تو اور ابھی تک وہی ڈرائیور بہادر ان کے ساتھ ہے اور قاسمی صاحب سے وہ اسی طرح بے تکلف بھی۔

یہ تو اچھا ہوا کہ قاسمی صاحب نے حسب روایت خود ہی استعفا دے دیا، ورنہ ان کو نکالا جانا ضروری ہو گیا تھا کیونکہ وہ ایسے چھوٹے چھوٹے اور غریب غربا کو اہمیت دے کر چیئرمین جیسے بڑے عہدے کی اہمیت کم کرنے کے مرتکب ہو رہے تھے۔انہوں نے اپنے دور میں صرف 27 کروڑ خرچ کیے، یہ تو پی ٹی وی کی توہین کے زمرے میں آتا ہے، اس سے پہلے وطن عزیز میں ایسی کوئی نظیر نہیں ملتی کہ اتنے بڑے عہدے پر برا جمان شخصیت صرف 27 کروڑ خرچ کرے۔

ایک بات کا خیال رہے کہ میرے نزدیک پاکستان کے سب سے بڑے کالم نگار درویش وجاہت مسعود صاحب نے اپنے ایک کالم میں لکھا تھا کہ جس عرصے میں ہزاروں سیکرٹری اور بیوروکریٹ گزرے ہیں، جن کا آج کوئی نام بھی نہیں جانتا، اس عرصے میں عطاء الحق قاسمی صاحب جیسے چند ہی لوگ ہیں جو تاریخ میں زندہ ہیں اور ان کا نام رہے گا۔

مزید :

رائے -کالم -