سعادت حسن منٹو کی وہ خوبی جو انہیں بدنام کرنے والوں کو حیران کردے گی

سعادت حسن منٹو کی وہ خوبی جو انہیں بدنام کرنے والوں کو حیران کردے گی
سعادت حسن منٹو کی وہ خوبی جو انہیں بدنام کرنے والوں کو حیران کردے گی

  

لاہور(ایس چودھری)اردو کے عظیم افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کے دامن پر بڑے رقیق حملے ہوتے رہے ہیں،انہیںفحاشی پھیلانے والا ادیب بھی کہا گیا،مقدمات بھی بنے ،انہیں ملحد بھی قراردیا گیا ۔انکی مہ نوشی انکی بہت بڑی کمزوری تھی لیکن انکی ایک عادت ایسی تھی جو عام طور پر مذہبی نظریات رکھنے والوں میں عام پائی جاتی ہے ۔

بتایا جاتا ہے کہ سعادت حسن منٹو تخلیق کے وقت خود کو سمیٹ لیتے تھے تاکہ یکسوئی حاصل ہوجائے، افسانہ لکھنے سے پہلے دونوں گھٹنے سکیڑ لیتے،بڑے قلم کی بجائے چھوٹی پنسل تھام لیتے اور سب سے پہلے کاغذ پر جو لفظ لکھتے وہ 786 ہوتا تھاجو کہ حروف ابجد میں بسم اللہ الرحمن الرحیم ہے،عام طور خطوط اور تحریروں میں 786 لکھنے کا رواج ہے۔مشہور فلمی صحافی اورڈائریکٹر علی سفیان آفاقی بتایا کرتے تھے کی منٹو ایک مزدور بندہ تھا ،وہ دوران گفتگو بھی بسم اللہ بولا کرتے تھے۔

مزید : ادب وثقافت