کالعدم تنظیموں کے اثاثے اور مدارس؟

کالعدم تنظیموں کے اثاثے اور مدارس؟

  

حکومت پاکستان نے کالعدم تنظیموں کے حوالے سے مزید قانونی اقدامات کے مطابق عمل کا فیصلہ کر لیا، ان تنظیموں کے اثاثے منجمد کرنے کا سلسلہ تو شروع ہے اب یہ بھی طے کیا گیا کہ ان تنظیموں کے تمام اثاثے حکومت اپنی تحویل میں لے لے گی حتیٰ کہ تمام مدارس اور ایمبولینس بھی سرکاری طور پر چلائی جائیں گی۔حکومت نے یہ فیصلہ اب کیا، جب ان تنظیموں پر دہشت گردی کے حوالے سے پابندی لگائی گئی۔ اور طے کیا ہے کہ مدارس میں طلباء کا تعلیمی سلسلہ جاری رہے گا تاہم یہ اہتمام کیا جائے گا کہ طلباء ساتھ ہی نصابی تعلیم سے بھی مستفید ہوں ،جن اداروں میں یہ اہتمام ہو گا ان میں اسے مزید موثر بنایا جائے گا اور جن مدرسوں میں ایسا نہیں وہاں نصابی سلسلہ رائج کیا جائے گا۔یہ مستحسن فیصلہ ہے اگرچہ بڑے حلقے نے اسے تسلیم نہیں کیا، ان کا موقف ہے کہ دہشت گردی کے سبھی خلاف ہیں، اور یہ سب بھی مخالف ہیں اس کے باوجود محض حق گوئی کے باعث ان کو دہشت گرد قرار دیا جا رہا ہے۔دوسری طرف یہ بھی اندازہ لگایئے کہ لاہور کے جامعہ نعیمیہ اور جامعہ اشرفیہ بھی مدارس ہیں تاہم یہاں پہلے ہی بتدریج نصابی تعلیم کا سلسلہ رائج ہے اور اب تو درس نظامی کے ساتھ ساتھ نصابی تعلیم کا سلسلہ پرائمری سے اعلیٰ تعلیم تک جاری ہے اور کمپیوٹر کی تربیت بھی لازم قرار دی گئی ہے۔ ہر دو اداروں کی ساکھ بھی بہت بہتر ہے۔ یہ سلسلہ بہت پہلے سے شروع کر دیا جاتا تو فارغ التحصیل حضرات مفید شہری ہوتے، اب بھی اگر اس طرف قدم بڑھایا گیا تو مستحسن اقدام ہے بلکہ کوشش کی جائے کہ نصابی اور درس نظامی کی تعلیم کے ساتھ ہی نوجوان کوئی ہنر بھی سیکھ لیں، ان کا تعلیمی سلسلہ جدید پیمانے پر شروع اور بحال کیا جانا چاہیے۔

مزید :

رائے -اداریہ -