پاکستان کی فتح، بھارت کی پسپائی

پاکستان کی فتح، بھارت کی پسپائی
پاکستان کی فتح، بھارت کی پسپائی

  

پاکستان کی تمام سیاسی پارٹیوں ، سیاست دانوں ، حکومت اور افواج پاکستان نے جس طرح قومی یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے،وہ ناقابلِ فراموش اور لائق تحسین ہے حکومت مخالف سیاستدانوں کی طرف سے اس حساس مرحلہ پر جو قومی اتحاد کا دیکھنے کو ملا ہے وہ قابلِ قدر ہے عوام نے اسے قدر کی نگاہ سے دیکھا ہے اور اس سے ان کو حوصلہ ملا ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ اس جذبہ کو قائم رکھا جائے ملکی تعمیر و ترقی،استحکام اور عوامی بہبود کے پیش نظر سیاست دانوں میں قومی اتحاد کی ضرورت جس قدر اب ہے پہلے نہیں تھی کہ ابھی ابھی ہم نے ملک میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خاطر خواہ کامیابی حاصل کی ہے ،جس کے لئے ہمیں بڑا بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا جس سے ہماری معیشت بڑی حد تک متاثر ہوئی ہے۔

ہمیں اس نقصان کو پورا کرنے کے لئے سخت محنت ، باہمی اتحاد و یگانگت کی اشد ضرورت ہے،جس طرح بھارت کے خلاف حکومت، حکومت مخالف سیاست دان اور افواج پاکستان نے آپس کے اختلافات کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے ایک پیج پرہونے کا جو مثبت عمل اٹھایا ہے اسے دائمی بنیادوں پر قائم ر کھا جائے اور یہ ملکی حالات کو سنوارنے نکھارنے اور معیشت کو ترقی سے ہمکنار کرنے کے لئے از بس ضروری ہے۔ ہمارا ازلی دشمن بھارت جو کوئی ایسا موقع نہیں جانے دیتا جو پاکستان کے لئے نقصان دہ ہو اس بات کا متقاضی ہے کہ وطن عزیز کی سلامتی اور خوشحالی کے لئے ملک کے سارے ستون تسبیح کے دانوں کی طرح ایک دوسرے سے متصل رہیں یہ بجا کہ لغزش کسی سے بھی ہوسکتی ہے اس پر تنقید ایک فطری امر ہے، مگر اس تنقید میں تعمیر کے پہلو کو نظر انداز نہ کیا جائے۔

حالیہ ناکام حملے کے حوالے سے بھارت کی جو جگ ہنسائی ہوئی وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں دُنیا بھر نے بھارت کا اصلی اور مکروہ چہرہ دیکھ لیا ہے بھارت کے اس اقدام کو عالمی سطح پر ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے خود بھارت کے اندر ہر سطح پر بھارتی حکومت کے قابل نفرت رویہ پر اسے مطعون ٹھہرایا جا رہا ہے اور مودی حکومت پر کڑی تنقید کے ساتھ اس کی پالیسیوں کو بڑی ناکامی سے تعبیر کیا جارہا ہے۔

بھارتی نامور صحافیوں ، دانشوروں اور سنجیدہ فکر کے حامل طبقہ نے پاکستان کی امن کی کوششوں کو سراہا ہے اور تائید کی ہے اور وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی جنگ سے اجتناب اور دونوں ملکوں کے درمیان پائیدار امن کے لئے کور ایشو کشمیر سمیت تمام متنازعہ امور پر مذاکرات کی پیشکش کو بہ نظر تحسین دیکھا ہے۔

بھارت میں برسر اقتدار بی جے پی کی حکومت مسلم اور پاکستان دشمنی کی بنیاد پر عوامی جذبات کو بھڑکا کر اقتدار میں آئی اوراب تک وہ اس پہ عمل پیرا ہے ۔ مودی حکومت نے حسب سابق مسلم اور پاکستان دشمنی کو اپنی انتخابی مہم کا مرکزی نقطہ بنایا اور اپنی اس انتخابی مہم کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے پاکستان پر فضائی حملہ کرایا جو بُری طرح ناکام رہا نہ صرف اس کے جہاز تباہ ہوئے،بلکہ ان کا ایک پائلٹ موت سے ہمکنار ہوا اور دوسرا پکڑا گیا،جس سے بھارت کا متعصب اور داغدار چہرہ مزید گھناؤنی شکل میں نمایاں ہوا اور وزیراعظم پاکستان نے اہم اداروں کے سربراہوں اوراپنے رفقاء سے مشاورت کے بعد دانشمندانہ اقدام اٹھایا اور نہ صرف گرفتار پائلٹ کے ساتھ خوشگوار رویہ اپنایا اس کی دو دن بعد اسے بھارت کے حوالے کرکے عالمی سطح پر امن کا پیغام دے کر ستائش وصول کی اور مودی حکومت کونہ صرف بے بس کردیا،بلکہ اس کی انتخابی مہم کو جس کا محور پاکستان دشمنی تھی اسے ریورس کر دیا اور اب مودی سرکار کے لئے نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن۔

پاکستان،جو ایک طویل عرصہ سے خود دہشت گردی کا شکاررہا ہے اس پر مستزاد یہ کہ بھارتی حکومت اور بعض اسلام اورپاکستان دشمن قوتیں پاکستان پر دہشت گردوں کی اعانت کا بے سروپا اور بے بنیاد الزام لگا رہی تھیں حکومت پاکستان نے بالغ نظری کا ثبوت دیتے ہوئے خطے میں پائیدار قیام امن کے لئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے آرڈر 2019ء کو مد نظر رکھتے ہوئے کالعدم تنظیموں پرپابندی عائد کرتے ہوئے یہاں تک کہ ان تنظیموں کے فلاحی منصوبے اپنی تحویل میں لے لئے اور اس طرح بھارت اوردیگر اسلام اور پاکستان دشمن قوتوں کے منہ پر مہر سکوت ثبت کردی ہے۔

اب اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہی کہ ہماری خارجہ پالیسی اور اس حوالے سے حکومتی دانشمندانہ اقدامات نے ہمارے سفارتی محاذ کو ایک مہمیز دے کر بھارت کو اس محاذ پر بھی شکست فاش دی ہے،جو ایک قابلِ تعریف عمل ہے۔

ان سارے اقدامات کے باوجود بھی مودی کا جنگی جنون اب بھی جوں کا توں قائم ہے اور ادھر ہماری بہادر افواج بھی چوکس ہیں، جس کے باعث دلیر پاکستانی عوام کو فکر مند ہونے کی نہیں بس صرف احتیاط کی ضرورت ہے۔

مزید :

رائے -کالم -