اطلاعات کے وزراء میجر جنرل آصف غفور سے سیکھیں

اطلاعات کے وزراء میجر جنرل آصف غفور سے سیکھیں
اطلاعات کے وزراء میجر جنرل آصف غفور سے سیکھیں

  

وزراء کے بیانیے اور اظہاریئے کیا غضب ڈھا رہے ہیں، اُن کا ذکر تو ہو بھی رہا ہے اور خود تحریک انصاف شرمندگی کے دریائے مہیب میں غوطے لگا رہی ہے،مگر مَیں جب فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کی طرف دیکھتا ہوں تو یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہوں کہ آخر یہ ٹھہراؤ، ذہانت، بذلہ سنجی اور گفتگو کی خوبصورتی انہوں نے کہاں سے سیکھی ہے، شکر کریں کہ حالیہ جنگی کشیدگی کے دوران پریس بریفنگ کی ذمہ داری کسی فواد چودھری یا فیاض الحسن چوہان جیسے وزیر کو نہیں سونپ دی گئی، وگرنہ وہی لطیفے سرزد ہونے تھے، جو بھارت کے ایک سے زیادہ ترجمانوں کی طرف سے سرزد ہوئے اور بھارت پوری دُنیا میں پٹ کے رہ گیا۔

مَیں پہلے بھی کئی کالموں میں لکھ چکا ہوں کہ موجودہ وزراء مائیک اور کیمرے کو دیکھ کر یا تو بدحواس ہو جاتے ہیں یا پھر وہ اتنے بے تاب ہوتے ہیں کہ اپنے آپ پر قابو نہیں رکھ سکتے۔حکومت کے چھ ماہ کے عرصے میں ان وزراء نے جو جو گل کھلائے ہیں،وہ اب بڑے لطیفوں میں شمار ہوتے ہیں۔ مثلاً ہیلی کاپٹر کے 55روپے فی کلو میٹر خرچ والے بیان کی بازگشت تو ابھی تک سنائی دیتی ہے اور لوگ اسے ٹھٹھہ مخول کے لئے استعمال کرتے ہیں۔اب فیاض الحسن چوہان نے جو بقراطی جھاڑی ہے اور بھارتی جارحیت کا کوئی مدلل جواب دینے کی بجائے ہندوؤں کی توہین کا صیغہ استعمال کیا ہے، اُس نے پوری دُنیا میں پاکستان کے مثبت امیج کو منفی کر کے رکھ دیا ہے۔

ہمارے ہاں لاکھوں ہندو پاکستانی ہیں،اُن کا جینا مرنا پاکستان کے لئے ہے۔ اب اُن کی مذہبی رسومات کو بنیاد بنا کر انہیں بھارت کے ہندوؤں سے کیسے ملایا جا سکتا ہے؟ جب ہندوؤں میں مسلمانوں کے خلاف کوئی ظلم و زیادتی کا واقعہ پیش آتا ہے تو ہم احتجاج کرتے ہیں،لیکن اُس کے جواب میں اپنے ہندو شہریوں کو نشانہ نہیں بناتے۔عقل و خرد کی کمی ہو تو انسان کہیں کا نہیں رہتا۔ایسی بات کہہ جاتا ہے، جو اُس کی شخصیت کو عین بیچ بازار رسوا کر دیتی ہے۔

آپ ذرا غور کریں کہ بھارتی جارحیت پر آرمی کے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کس طرح صورتِ حال کی ترجمانی کی۔ اپنے تو کیا دشمن بھی اُن کے گرویدہ ہو گئے۔بھارت میں بھی اُن کا یہ جملہ جنگ کے مخالف بھارتی دانشور اور صحافی دہراتے رہے کہ جنگ میں کسی کی ہار یا جیت نہیں ہوتی، صرف انسانیت ہار جاتی ہے۔

اب یہ ایسا بیانیہ ہے جس میں کسی مسلمان، ہندو، سکھ، عیسائی، یہودی یا بدھ مت کو ماننے والے کی بات نہیں کی گئی،بلکہ انسانیت کا ذکر کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے اس کی تائید کئے بغیر کوئی بھی مہذب ملک یا شہری نہیں رہ سکتا۔ پھر جب بھارت کی جارحیت بڑھی اور اُس نے پاکستان کے اندر آ کر ہماری حدود کی خلاف ورزی کی تو میجر جنرل آصف غفور نے جذبات کا سہارا لینے کی بجائے پُرعزم لہجے میں ٹھوس گفتگو کی۔

وہ بھی نادان وزراء کی طرح یہ کہہ سکتے تھے کہ ہندوؤں نے ہمیں للکارا ہے، وہ مسلمانوں کا مقابلہ کیسے کر سکتے ہیں،لیکن اس کی بجائے انہوں نے کہا کہ بھارت نے پاکستان کو نشانہ بنایا ہے، اب وہ ہمارے جواب کا انتظار کرے،جواب اُسے ضرور ملے گا،البتہ وقت اور جگہ کا فیصلہ ہم خود کریں گے۔ یہ اتنا بڑا اور واضح پیغام تھا کہ بھارت میں سراسمیگی کی لہر دوڑ گئی، وہاں ایک خوف طاری ہو گیا کہ نجانے کس وقت اور کہاں پاکستان جارحیت کا جواب دے۔

پھر اُن کی صلاحیتیں اُس وقت مزید نکھر کر سامنے آئیں، جب انہوں نے پاکستانی جواب اور بھارت کے دو جنگی طیارے گرانے کے بعد میڈیا کو بریفنگ دی۔انہوں نے اُس نازک بات کو بڑی مہارت سے بیان کیا جو حملے کے اہداف تک پہنچنے،مگر انہیں نشانہ بنائے بغیر جواب دینے کی حکمتِ عملی سے متعلق تھی۔انہوں نے بھارتی ترجمان کی طرح حماقت والا بیانیہ جاری نہیں کیا کہ حملے میں دہشت گردوں کے کیمپ کو نشانہ بنایا گیا،جس میں 350دہشت گرد مارے گئے، بلکہ میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ حملے کا مقصد کسی کو نقصان پہنچانا تھا ہی نہیں،اِس لئے بڑی تباہی مقصود ہی نہیں تھی۔ مقصد صرف یہ تھا کہ بھارت کی قیادت کو یہ احساس دلایا جائے کہ ہم جب اور جس جگہ چاہیں اپنا ہدف حاصل کر سکتے ہیں۔

بھارتی طیاروں کو بھی اُس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ حملہ کرنے کے لئے پاکستانی جہازوں کے پیچھے ہماری حدود میں داخل ہوئے۔فوج کے ترجمان کی اس اہم ترین بریفنگ نے بھارت کے پروپیگنڈے کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ ایف 16 طیارہ گرانے کے دعوے کو میجر جنرل آصف غفور نے یہ کہہ کر رد کر دیا کہ حملے میں ایف16 طیارے شامل ہی نہیں تھے،اس لئے گرائے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے صرف لفظوں میں بھارت کو جھوٹا نہیں،بلکہ دلیل کے ساتھ ثابت کیا کہ بھارت جھوٹ بول رہا ہے۔۔۔مثلاً بھارت نے اپنے حملے کے بعد سب سے بڑا دعویٰ یہ کیا تھا کہ اُس کا ہدف جیشِ محمد کے کیمپ تھے، جو آزاد کشمیر میں موجود تھے، اب اسے صرف جھوٹا دعویٰ کہا جاتا تو شاید بات نہ بنتی۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا اتنی بڑی کارروائی اگر ہوئی ہے تو بھارت کسی لاش کی تصویر دکھائے،کسی عمارت کی فوٹیج جاری کرے،ساتھ ہی یہ اعلان بھی کیا کہ ہم آج ہی ملکی و غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں کو موقع پر لے جا کر سب کچھ دکھا دیں گے تاکہ بھارت کے دعوؤں کا پول کھل سکے۔ایسا ہی ہوا، صحافی وہاں گئے اور اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ سوائے درختوں کو نقصان پہنچنے کے وہاں کچھ موجود نہیں تھا۔یہ اتنی بڑی اور بروقت حکمت عملی تھی کہ بھارت کو سانپ سونگھ گیا۔

پھر اُس کے ترجمان آئیں بائیں شائیں کرنے لگے، سیکرٹری دفاع صحافیوں کا سامنا نہ کر سکے۔یہ معاملہ آگے چل کر اتنا بڑھا کہ خود نریندر مودی کے وزراء یہ کہنے لگے کہ ہم نے اتنے بڑے نقصان کا دعویٰ تو کیا ہی نہیں تھا۔رہی سہی کسر امریکی اخبار ’’نیو یارک ٹائمز‘‘ نے پوری کر دی اور سیٹلائٹ سے لی گئی تصویروں کے ذریعے یہ واضح کر دیا کہ حملے کی جگہ پر کسی تباہی کے کوئی آثار نظر نہیں آئے۔ مَیں سمجھتا ہوں ایک جنگ اگر ہماری فضائیہ نے دو طیارے گرا کر جیتی تو دوسری جنگ فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے اپنے مضبوط اور دو ٹوک بیانیہ اور فیئر ٹویٹس کے ساتھ بھارتیوں کے موقف کو رد کر کے جیتی۔اُن کا بیانیہ کس قدر مضبوط تھا، اس کا اندازہ اِس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ بھارتی حکومت نے اُن کی پریس بریفنگ دکھانے پر اپنے چینلز کو شوکاز نوٹس جاری کئے۔

دوسری طرف بھارت کو دیکھیں تو اُس کی بری، بحری اور فضائی افواج کے ترجمان اکٹھی بریفنگ دیتے تھے،پھر بھی صحافیوں کو مطمئن نہیں کر پاتے تھے۔ اکثر انہیں پریس کانفرنس ادھوری چھوڑ کر جانا پڑتا تھا۔

پاکستان میں اُس وقت ایک تنقید شروع ہوئی تھی،جب بھارتی طیارے حملہ کر کے واپس چلے گئے۔یہاں یہ کہا جانے لگا کہ انہیں واپس کیوں جانے دیا گیا،ہمارا ریڈار سسٹم ناکام ہوا یا فضائیہ الرٹ نہیں تھی؟یہ ایک بڑا نازک موقع تھا،عوام کے اندر ایسے سوالات بے چینی پیدا کر رہے تھے،لوگ سننا چاہتے تھے کہ آخر ہوا کیا، کیوں بھارتی طیارے ہماری فضائی حدود کی خلاف ورزی کر کے سلامت واپس چلے گئے؟ اس موقع پر ظاہر ہے وزراء مختلف تاویلیں پیش کر رہے تھے، دور کی کوڑی لاتے اور پھر شرمندہ ہو جاتے۔اس صورت میں مسلح افواج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے قوم کو ریسکیو کیا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا یہ دعویٰ سرا سر جھوٹا ہے کہ اُس کے جہاز21منٹ پاکستان کی حدود میں رہے، وہ صرف چار منٹ حدود میں رہے، ان میں سے دو منٹ اندر آنے اور دو منٹ باہر جاتے لگے۔فضائیہ کا ریسپانس اتنا تیز تھا کہ انہیں اپنا سامان پھینک کر بھاگنا پڑا۔انہوں نے کہا کہ بھارت میں جرأت ہے تو اپنے طیارے 21منٹ تک پاکستانی حدود میں رکھ کر دکھائے۔

اُن کے اِس بیان سے نہ صرف پاکستان میں فضا تبدیل ہوئی، بلکہ بھارت کو بھی سخت پیغام مل گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے بھارت کو ہرشعبے میں مات دی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنے مضبوط سیاسی موقف سے دُنیا کو امن کا جو پیغام دیا، وہ بھارت کو سفارتی محاذ پر تنہا کر گیا، پھر گرفتار پائلٹ ابھی نندن کی رہائی نے بھارت کی شکست پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔

آج ہمارے اس عسکری و سیاسی موقف کے اثرات پورے بھارت پر دیکھے جا سکتے ہیں، جہاں نریندر مودی کو شدید تنقید کا سامنا ہے اور سیاسی قیادت تقسیم ہو چکی ہے۔ ایسی جیتی ہوئی اخلاقی، سیاسی اور عسکری جنگ کو فیاض الحسن چوہان جیسے وزراء اپنی کم فہمی اور بے تدبیری سے شکست میں بدلنا چاہتے ہیں۔

اقلیتوں کے خلاف ہمارا بیانیہ نفرت پر مبنی ہے ہی نہیں،ہمارے تو جھنڈے میں اقلیتوں کی نمائندگی شامل ہے۔ پھر ہندوؤں کے خلاف یہ گھٹیا ہرزہ سرائی کیوں؟ کیا بہتر نہیں ہو گا کہ اطلاعات کے وزراء اور حکومتی ترجمانوں کو کچھ عرصے کے لئے آئی ایس پی آر کے ڈی جی میجر جنرل آصف غفور کی شاگردی میں دے دیا جائے۔

مزید :

رائے -کالم -