پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن ،کڑی داخلہ پالیسی ،بچوں کو تعلیم سے دور رکھنے کا نیا منصوبہ

پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن ،کڑی داخلہ پالیسی ،بچوں کو تعلیم سے دور رکھنے کا نیا ...

  

جتوئی ( نامہ نگار) پنجاب ایجوکیشن فاونڈیشن کی داخلہ پالیسی جنوبی پنجاب کے بچوں کو تعلیم سے دور رکھنے کا ایک منصوبہ ہے جنوبی پنجاب پہلے ہی بنیادی سہولیات سے محروم اب ایجوکیشن کو بھی سرے سے ختم کیا جارہا ہے صوبہ پنجاب میں 1991 میں اسمبلی ایکٹ کے تحت پنجاب ایجوکیشن فاونڈیشن کا قیام ایک آزاد خود مختار ادارے کے طور پر عمل میں لایا گیا ادارے کا مقصد پنجاب میں سرکاری سکولوں کی کمی اور بڑھتی ہوئی آبادی کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے سکولوں(بقیہ نمبر22صفحہ12پر )

کا قیام عمل میں لانا تھا ادارہ اپنے سخت قوانین اور اصولوں کا پاس رکھتے ہوئے انہتائی تھوڑے عرصہ میں کوالٹی ایجوکیشن دینے میں کامیاب ہوا اور تعلیم کو بچوں کے گھروں کے نزدیک جو بچوں کا بنیادی حق تھا دنیا شروع کردی لوگوں نے اس ادارے کی کارکردگی کو خوب سراہا اور پیف نے دور دراز علاقوں تک ایجوکیشن کو ممکن بنایا سو فیصد نتائج کا حامل ادارہ نے کئی اعزاز بھی سمیٹے اور عالمی دنیا نے اس ماڈل کو دو جدید کا بہترین ماڈل قرار دیا سرکاری سکولوں کو کامیاب بنانے کے کئی منصوبے بنائے گئے لیکن عوام نے پیف سکولوں پر اعتماد کیا اور پیف کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے سرکاری سرکاری سکولوں سے بچوں کو نکال کر پیف سکولوں کو بچے داخل کرواہے حکومت نے پنجاب ایجوکیشن فاونڈیشن کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے ناکام چار ہزار سرکاری سکولوں کو بھی پنجاب ایجوکیشن فاونڈیشن کی سرپرستی میں چلایا اور اس تجربے کو بے حد کامیابی ملی ایسے ناکام سرکاری سکول جہاں ایک بچہ بھی نہ تھا وہاں سینکڑوں بچے سکول تک لانے میں کامیاب ہوا تعلیم کو عام کرنے کی ضرورت کے پیش نظر اس منصوبے کو جنوبی پنجاب میں وسعت دی گئی اور پیف سکول ایسے علاقوں میں قائم کیے گئے جہاں ایک کلو میٹر کی حدود میں کوئی سرکاری سکول نہ ہیں اس منصوبے میں بہاول نگر میں 366 بہاولپور 610 بکھر میں 157 ڈیرہ غازی خان میں 535 خانیوال میں 143 لیہ میں 171 لودھراں میں 352 میانوالی میں 106 ملتان میں 564 مظفرگڑھ میں 1039 رحیم یار خان میں 224 جبکہ راجن پور میں پنجاب ایجوکیشن فاونڈیشن نے 264 سکولز قائم کیے ان سکولوں میں اب تک 26 لاکھ بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں ان تمام اسکولوں میں پڑھنے والے بچے انہتائی غریب ہیں اور ان کے والدین دن بھر مزدوری کرتے ہیں ان سکولوں کو حکومت 550 روپے فی بچہ کے حساب سے اوا کرتی ہے جس میں تمام سہولتیں سکول انتظامیہ کی ذمہ داری میں شامل ہوتی ہیں ان سکولوں کو سخستی سے چیک کیا جاتا ہے اور غفلت برتنے والے اسکولوں کو سخت سزا جرمانے کے طور پر دی جاتی ہے سکول مالکان نے بھتک مخت کرکے سکولوں کو کامیاب بنایا لیکن گزشتہ روز وزیر تعلیم مرادر اس نے پیف سکولز مالکان کی سخت تذلیل کی جونا قابل برداشت ہے پاکستان تحریک انصاف چیرمین عمران خان نے الکشن سے قبل اڑھائی کروڑ بچوں کو سکولوں میں لانے کا وعدہ کیا تھا لیکن پنجاب میں اس وعدے کی تکمیل بچوں کے داخلوں پر پابندی لگا کر پوری کی جارہی ہے لاکھوں طلباء4 کے مستقبل کو داو پر لگانے کی کوشش کی جارہی ہے وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار اس معاملے کو سخجیدگی سے لیتے ہوئے اعلی سطح کی انکوائری کروائیں اور تعلیم دشمن پالیسی کو ختم کرتے ہوئے غریب لوگوں کے بچوں کو تعلیم دلوانے میں دارادا کریں جو آپ کا اور ہمارا قومی فرض ہے اس موقع پر مرکزی صدر ایپسا شبیر ہاشمی نے ویڈیو کال کے زریعے اپنے احتجاج کا تین نقطی ایجنڈا بتایا کہ پیف کی طرف سے داخلہ پالیسی مسترد کرتے ہیں راؤ گلزار احمد نے کہا کہ ایک ہی بچہ جب گورنمنٹ سکول میں داخلہ لے تو کوئی شرط نہیں اور اگر پیف سکول میں داخلہ لے تو ب۔فارم کے ساتھ خاندان بھر کی معلومات دے۔ یہ ہمارے ساتھ ظلم کیوں راؤ فاروق احمد و شمشیر جعفری نے اپنے بیان میں کہا کہ جب سے یہ نئی حکومت آئی ھے پیف پارٹنرز کے مسائل میں اضافہ ہی ہوتا جا رھا ہے اس حکومت کو کون سمجھائے کہ یہ دراصل ان کے اپنے ہی سکول ہیں جو انتہائی کم خرچ میں معیاری تعلیم دے رہے ھیں بلکہ یوں کہنا زیادہ منا سب ہوگا کہ یہ سیمی گورنمنٹ ادارے ہیں جن میں گورنمنٹ کے تمام قانون لاگو ھیں بدقسمتی سے گورنمنٹ انھیں پرائیویٹ سکول سمجھ کر ختم کرنے کے در پے ھے اس طرح سیایک تعلیمی بحران پیدا ھوسکتا ھے وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان سے درخواست ہے کہ فوری نوٹس لیکر پنجاب کی غریب عوام پر مفت معیاری کے بند دروازے کھولے جائیں۔اس احتجاج میں اصغر خان لغاری زاہد خان لغاری رانا نعیم عبدالغفار لاڑ صفدر حسین میاں ریئس جام قیصر ملک یوسف رسول بخش راوطاہر نعیم اوردیگر پیف پارٹنرز نے بازو پر پٹیاں باندھ کر اپنااحتجاج ریکارڈ کرایا۔

منصوبہ

مزید :

ملتان صفحہ آخر -