قانون نافذ کرنے والے ادارے حکومتی رٹ کوکمزورنہیں ہونے دینگے ،فیروز شاہ

قانون نافذ کرنے والے ادارے حکومتی رٹ کوکمزورنہیں ہونے دینگے ،فیروز شاہ

  

ڈیرہ اسماعیل خان (بیورورپورٹ)ریجنل پولیس آفیسرکیپٹن(ر)فیروز شاہ نے کہاہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے حکومتی رٹ کوکمزورنہیں ہونے دیں گے ۔ دہشت گردوں کاپیچھاکر رہے ہیں ۔دہشت گردی میں ملوث چارگروپس کو ٹریس کرلیا ہے ۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں اب کوئی نوگوایریانہیں ۔ میرٹ کی بنیاد پرکام کر رہے ہیں۔سماجی برائیوں کے خاتمے کے لیے پولیس ہرممکن کاروائی عمل میں لائے گی ۔ ظالم کو روکیں گے مظلوم کا ساتھ دیں گے۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے ڈیرہ اسماعیل خان کے ضلعی اسمبلی ہال میں عوام کے پولیس کے حوالے سے درپیش مسائل کے حل کے لیے تحصیل ڈیرہ اسماعیل خان کے تھانہ جات تھانہ سٹی ،کینٹ ،ٹاؤن ، صدراوریارک پرمشتمل کھلی کچہری سے خطاب کے دورا ن کیا ۔ اس موقع پرڈسٹرکٹ پولیس آفیسرڈاکٹرمحمداقبال اوراے ایس پی سٹی ناصرمحمودسمیت ڈی ایس پیزاورایس ایچ اوز بھی موجودتھے ۔اس موقع پرلوگوں نے پولیس کے حوالے سے عوام کو درپیش مسائل بیان کیے جن کے فوری حل کے احکامات جاری کیے گئے ۔ کھلی کچہری کاماحول کافی بہتررہاجس میں لوگوں نے کھل کراپنے مسائل بیان کیے ۔ریجنل پولیس آفیسرکیپٹن(ر)فیروز شاہ نے کہاکہ ماضی میں جس نے اپنا کھیل کھیلناتھا کھیل لیااب کسی کوقانون سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ جو دہشت گردسرنڈرکرناچاہتاہے سرنڈرکرسکتاہے ۔ دہشت گردی کو ہر حالت میں روکنا ہے ۔ ڈیرہ اسماعیل خان کو پرامن شہر بناناہے ۔ کسی بھی مشکوک شخص کی اطلاع ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر یامجھے عوام دے سکتی ہے ۔ اس کا نام صیغہ راز میں رکھاجائے گا ۔ انہوں نے کہاکہ سی پیک منصوبہ ڈیرہ اسماعیل خان سے گزررہاہے ۔ یہ اس علاقے کی خوش قسمتی ہے ۔ اگریہاں پر امن نہیں ہوگا تواس کے اثرات یہاں کی خوشحالی پر پڑیں گے اس لیے ہم سب کو امن کے لیے کرداراداکرناہوگا۔ ہمارے دروازے ہر کسی کے لیے ہر وقت کھلے ہیں ۔ محکمہ پولیس میں میرٹ کی بنیادپرترقی دینے کاعمل شروع ہوچکاہے ۔ انشاء اللہ جلد میرٹ کی بنیاد پر محکمہ پولیس میں بھرتی ہوگی اوراچھے اورفرض شناس اہلکاربھرتی ہوں گے۔اس موقع پرضلع ممبرمحمدحنیف پیپاایڈوکیٹ ،حاجی اللہ بخش سپل ،گلشن پروین ، خالدناز، چوہدری جمیل احمد،نصیرخان محسود سمیت دیگرنے پولیس کے حوالے سے مسائل بیان کیے جب کہ تقریب میں سابق ایم پی اے حاجی عبدالحلیم خان قصوریہ نے بھی شرکت کی ۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -