چارسدہ ،پولیس کے زیر حراست ملزم کے قتل کیس نے نیا رخ اختیا ر کر لیا

چارسدہ ،پولیس کے زیر حراست ملزم کے قتل کیس نے نیا رخ اختیا ر کر لیا

  

چارسدہ (بیورو رپورٹ) پولیس کے زیر حراست ملزم کے قتل کیس نے نیا رخ اختیا ر کر لیا ۔پولیس نے سٹیٹ کی طرف سے مقتول کا شف پر خود کشی کا مقدمہ درج کرلیا۔مقتول کاشف کے اپنے مما نی سے روابط تھے ۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز تھانہ پڑانگ کے خدود میں تاجر ضیاء اللہ ولد شاہ جی گل کو موٹر کار میں نامعلوم افراد نے قتل کیا تھا جس کی رپورٹ تھانہ پڑانگ میں درج کی گئی تھی ۔پولیس نے دوران تفتیش سی ڈی آر کی بنیاد پر مقتول ضیاء اللہ کے بھانجے کاشف ولد چن باچا کو تھانے طلب کیا جہاں وہ پر اسرار طور پر قتل ہوئے ۔لواحقین نے ایس ایچ او پڑانگ محمد عارف خان پر دس لاکھ روپے رشوت طلب کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ مذکورہ رقم نہ دینے پر ایس ایچ او نے کاشف جان کو قتل کیا ہے ۔دوسری طرف ایس ایچ او پڑانگ محمد عارف خان نے سٹیٹ کی طرف سے پی پی سی 325کے تحت مقتول کاشف جان پر خودکشی کی ایف ائی آر درج کی جس میں لکھا گیا ہے کہ کاشف کو اپنے ماموں ضیاء اللہ کے قتل کیس میں شک کے بنیاد پر تھانے طلب کیا گیا تھا کیونکہ سی ڈی آر میں کاشف کی مقتول ضیاء اللہ کی زوجہ جو اس کی ممانی بھی ہے کے ساتھ کافی روابط اور طویل دورانیہ گفتگو پائی گئی ۔ایس ایچ او کی طرف سے درج ایف ائی ار کے مطابق مقتول کاشف کے ساتھ دوران تفتیش سی ڈی آر ڈسکس کیا گیا جنہوں نے اپنی ممانی سے رابطہ کرنے کی تصدیق کی ۔اس دوران مدعی مقدمہ ضیاء اللہ مرحوم سے رابطہ کیا گیا جنہوں نے تھانے آنے کا کہہ دیا ۔اس دوران مقتول کاشف کو حفظ ما تقدم کی خاطر کمرہ مدر محرر سٹاف میں بٹھایا تو تھوڑی دیر بعد فائر کی آواز سن کر جب میں محرر سٹاف و نفری پولیس موقع پر آکر دیکھا تو مزکورہ کاشف نے کمرے میں موجود تیس بورڈپستول سے خود بہ ارادہ خودکشی سر پر فائر کی تھی اوروہ زمین پر پڑے تھے جبکہ پستو ل ان کی ہاتھ میں تھا ۔سٹیٹ کی طرف سے ایف ائی ار کے اندراج سے مذکورہ کیس نے نیا موڑ اختیار کر لیا ۔ایک طرف دو دن کے اندر ایک ہی گھر سے دو جنازے نکل گئے جبکہ دوسری طرف پولیس اور لواحقین کی طرف سے سنگین الزامات بھی سامنے آگئے ہیں جبکہ ڈی آئی جی اور ڈی پی او چارسدہ نے نہ صرف ایس ایچ اوعارف اور تفتیشی عملہ سمیت محرر سٹاف کو معطل کیا ہے بلکہ واقعہ کے حوالے سے جوڈیشل انکوائری کا بھی حکم دیا ہے ۔دلچسپ امر یہ ہے کہ معطل ہونے والے اہلکاروں میں محرر عمران بھی شامل ہے جوقوعہ کے روزچارج لینے تھانہ پڑانگ گئے تھے ۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -