قانون کے نفاذ سے عوام کا حکومتی اداروں پر اعتماد کو بحال کرنا ہے ،عظمت حنیف اورکزئی

قانون کے نفاذ سے عوام کا حکومتی اداروں پر اعتماد کو بحال کرنا ہے ،عظمت حنیف ...

  

مردان ( بیورورپورٹ )چیف کمشنررائٹ ٹو انفارمیشن صوبہ خیبر پختونخوا عظمت حنیف اورکزئی نے کہا ہے کہ رائیٹ ٹو انفارمیشن قانون کا بنیادی مقصد سرکاری و عوامی اداروں اور دفاتر میں عوام کوخدمات کی احسن طریقے سے فراہمی کویقینی بنانے کے علاوہ قانون کے نفاذ سے عوام کا حکومتی اداروں پر اعتماد کو بحال کرنا ہے ۔ منتخب نمائندے عوام میں اس سلسلے میں شعور اجاگر کرنے میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں۔ تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس قانون سے مستفید ہو کر ان کے مسائل بروقت حل ہوسکیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے عبد الولی خان یونیورسٹی مردان میں رائیٹ ٹوا نفارمیشن قانون کے حوالے سے منعقدہ سیمینار سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر خورشید خان، پرو وائس چانسلر ڈاکٹر ظہور الحق ، پی آئی اومحمد عقیل نے بھی اظہارخیال کیا اور اپنی اپنی تجاویز اور آراء پیش کیں۔ چیف کمشنر رائیٹ ٹو انفارمیشن عظمت حنیف اورکزئی نے کہا کہ اس قانون کی رو سے ہر شہری کو اب یہ حق حاصل ہے کہ وہ صوبے کے کسی بھی سرکاری یا عوامی ادارے سے معلومات حاصل کرسکتا ہے ، ماسوائے چند خاص نوعیت کی معلومات جن کو استثنیٰ حاصل ہے ۔ یہ قانون سرکاری اداروں میں شفافیت اور خود احتسابی کو فروغ دیگا اور صوبے میں بہتر طرز حکمرانی میں معاون ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون کا بنیادی مقصد ان عوامی اور سرکاری اداروں کو عوام کے سامنے جوابدہ بنانا ہے جو عوامی امور انجام دے رہے ہیں ۔ ان اداروں میں کام کرنے والے اہلکاروں میں یہ احساس پیداہوگا کہ کوئی بھی شہری معلومات حاصل کرنے کا آئینی حق رکھتا ہے ۔ با الفاظ دیگر عوام کو بااختیار کردیا گیا ہے ۔ یہ قانون اداروں کی کارکردگی میں بہتری کا سبب بنے گا۔ عظمت حنیف اورکزئی نے کہا کہ خیبر پختونخوا انفارمیشن کمیشن نے عوام کی رہنمائی کے لئے ایک facilitation centerقائم کیا ہے ، اس سنٹر کا مقصد عوام کو دفتری اوقات میں بذریعہ ٹیلی فون قانون کے استعمال کے بارے میں رہنمائی اور معلومات فراہم کرنا ہے ۔ عوام ٹول فری نمبر 0800-57784 پر اس سہولت سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب تک صوبائی سرکاری اور عوامی اداروں میں معلومات کے حصول کے لئے 11822درخواستیں موصول ہوئی ، جس میں 6863 درخواستوں پر مقررہ وقت میں معلومات فراہم کی گئی۔ جبکہ انفارمیشن کمیشن میں 4739 شکایات کا اندراج ہو ا جس میں سے 4372 شکایات کا بروقت ازالہ ہوا اور 367 شکایات زیر سماعت ہیں۔ آخر میں وائس چانسلر عبد الولی خان یونیورسٹی پروفیسر خورشید نے یونیورسٹی کی جانب سے مہمان خصوصی عظمت حنیف اورکزئی کو شیلڈ پیش کی۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -