پاک بھارت، جنگ کے بادل منڈلائے، حکومت نے پٹرولیم اور گیس کے نرخ بڑھا دیئے

پاک بھارت، جنگ کے بادل منڈلائے، حکومت نے پٹرولیم اور گیس کے نرخ بڑھا دیئے

  

سیاسی ایڈیشن228 لاہور کی ڈائری

لاہور سے چودھری خادم حسین

بھارت کی مودی حکومت نے جارحیت کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اور کنٹرول لائن پر چھیڑ چھاڑ فائرنگ اور گولہ باری کافی عرصہ سے جاری تھی کہ اچانک بھارتی ایئرفورس نے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی انبالہ سے اڑائے جانے والے جنگی ہوائی جہاز براہ راست بین الاقوامی حدود پھلانگ کر آنے کی بجائے کنٹرول لائن کے راستے داخل ہوئے اور بالا کوٹ کے ایک دور دراز چھوٹے گاؤں کے جنگل میں بم گرائے یوں بالواسطہ طور پر سہی تاہم بین الاقوامی فضائی حدود کی خلاف ورزی ہوئی اور جہاں حملہ ہوا وہ مقام بھی صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع مانسہرہ کا حصہ ہے۔ پاکستان کے شاہینوں کی آمد پر یہ واپس بھاگ گئے۔ اگلے روز پاکستان کی فضائیہ نے جواب دیا آٹھ اہداف کو نشانہ بنایا اور اس سلسلے میں دو بھارتی جنگی جہاز بھی تباہ کئے گئے ایک پائلٹ ونگ کمانڈر ابھے نندن گرفتار ہوا جسے فراخدالی کا مظاہرہ کرتے ہوئے واپس کیا گیا۔

بھارت کی اس جارحیت کے باعث یکایک تلخی پیدا ہوئی اور حالت جنگ والی کیفیت پیدا ہو گئی اس مرحلے پر قوم نے قومی جذبے کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ سیاسی جماعتیں یکجان ہوئیں تو عوام بھی پر جوش ہو گئے 1965ء والا جذبہ نظر آیا ادھر یہ حالات تھے اور قوم بھارت کی جارحیت اور پاک فوج کے حق میں مظاہرے کر رہی تھی لیکن وزارتیں اپنے کام میں مصروف تھیں۔ حکومت نے آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے کا جو پیشگی سلسلہ شروع کر رکھا ہے اسے برقرار رکھا۔ پٹرولیم مصنوعات کے نرخ 4.59 روپے تک بڑھا دیئے اور پھر گیس بھی مہنگی کر دی۔ ایل پی جی 9 روپے فی کلو بڑھی تو گیس 151 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کے حساب سے مہنگی کر دی گئی اس پر احتجاج تو ہوا لیکن ہنگامی نوعیت کے حالات کے باعث شدت نہیں تھی۔ اسی دوران حکومت نے توانائی کے شعبہ میں گردشی قرضوں کو ختم کرنے کے لئے 200 ارب روپے کے انرجی سکوک بانڈ کا اجراء کر دیا ہے۔ اور یوں عوام پر یکایک کئی گنا بوجھ بڑھا دیا گیا ہے۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ آئی ایم ایف کے اصرار پر بھی بجلی میں نقصان کو پورا کرنے کے لئے بھی نرخ بڑھائے جائیں گے۔ یوں عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دبتے چلے جائیں گے حکومت کو خود غور کرنا ہوگا کہ سیاسی جماعت والی ہے۔

بھارت کی جارحیت کے حوالے سے عوام کے اندر جو جوش و جذبہ پایا گیا اس کے مظاہر بھی نظر آئے۔ سیاست بڑی حد تک پس منظر میں چلی گئی اور بیانات بھی بھارت کی جارحیت اور مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم کے حوالے سے آنا شروع ہو گئے قومی اسمبلی کے بعد پنجاب اسمبلی میں بھی بھارتی رویئے کے خلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی۔ شہریوں نے سماجی، تاجر اور مزدور تنظیموں کے جھنڈے تلے جلوس نکالے تو سیاسی جماعتوں نے بھی الگ الگ مظاہرے کئے حالانکہ یہ بھی مل کر کئے جا سکتے تھے اور مزید بہتر اتحاد کا ثبوت ہوتا، بہر حال پوری قوم ایک ہی پیج پر تھی۔

لاہور میں عملہ صفائی کی طرف سے ہڑتال چھ روز کے بعد حکومت اور لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے درمیان مذاکرات کے بعد ختم ہوئی۔ ملازمین نے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کی وجہ سے ہڑتال کی اور صفائی کے علاوہ کوڑا اٹھانے سے بھی انکار کر دیا ان پانچ چھ دنوں میں شہر کی حالت ابتر ہو گئی اور جگہ جگہ کوڑے کے پہاڑ بن گئے، چھٹے روز سے مذاکرات کامیاب ہوئے حکومت اور کمپنی کے درمیان معاملات طے پا گئے تو کمپنی نے بھی ملازمین کو ادائیگی شروع کر دی یوں ہڑتال ختم ہوجانے کے بعد کام تو شروع ہوا لیکن بہت زیادہ کوڑا جمع ہونے اور روز مرہ کا آنے کے باعث حالات ابھی تک معمول پر نہیں آ سکے کمپنی کو اضافی کوشش کرنا ہو گی۔

اس دوران وزیر اعظم عمران خان بھی ایک روز کے لئے لاہور آئے اور پنجاب کابینہ کے اجلاس کی صدارت کی۔ وزراء سے تبادلہ خیال کیا اور کارکردگی کا جائزہ لیا۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ آئندہ کے لئے زرعی اراضی پر ہاؤسنگ سکیمیں بنانے پر مکمل پابندی لگا دی جائے کہ زرعی رقبہ ختم ہو رہا ہے انہوں نے کہا کہ عمارتیں بلندی کی طرف بنائی جائیں اور کئی کئی منزلہ ہوں۔ اس طرح رہائشی ضروریات پوری کریں۔ زرعی رقبہ ختم نہ کریں کہ ایسا بڑی تیزی سے ہوا ہے اور ہم خوراک کے مسائل سے دو چار ہیں۔

سابق صدر اور پیپلزپارٹی (پارلیمینٹریشن) کے صدر آصف علی زرداری بھی لاہور آئے اور دو روز قیام کیا، ان کی آمد پی سی بی کے سابق چیئرمین ذکاء اشرف کی صاحبزادی کی شادی میں شرکت کے لئے تھی۔ تاہم انہوں نے جنوبی پنجاب مرکزی پنجاب اور لاہور پارٹی میں پارٹی کے عہدیدار حضرات سے ملاقاتیں اور مشاورت کی۔ آصف علی زرداری کو تشویش تھی کہ ابھی تک پنجاب میں پارٹی کی تنظیم سازی ہی مکمل نہیں ہو سکی۔ انہوں نے اس سلسلے میں سختی سے ہدایت کی کہ خالی عہدے پر کئے جائیں۔ بلاول بھٹو زرداری ملک سے باہر ہیں وہ فلائٹ آپریشن معطل ہونے کی وجہ سے واپس نہ پہنچ سکے انہوں نے لندن میں قیام بڑھایا اور پھر دوبئی آ گئے اب کسی بھی دن کراچی پہنچیں گے کہ پاک بھارت حالات میں یکایک سنگینی کے باعث ملک کے اندر تو سیاست ہو نہیں رہی۔

مزید :

ایڈیشن 1 -