پارلیمینٹ اور پارلیمنٹیرین نے بھی بہت ہی اہم کردار ادا کیا، پوری سیاست ایک پیچ پر تھی!

پارلیمینٹ اور پارلیمنٹیرین نے بھی بہت ہی اہم کردار ادا کیا، پوری سیاست ایک ...

  

دارالحکومت میں گزشتہ ایک ہفتہ سے پاک بھارت جھڑپوں کے حوالے سے ایک ایمرجنسی کی صورت حال اب معمول پر آتی دکھائی دے رہی ہے۔ بھارت نے اپنی اس مہم جوئی پر منہ کی کھائی۔ مودی سرکار نے بھارت میں جاری اپنی انتخابی مہم میں انسانی خون سے رنگ بھرنے کی خاطر برصغیر کی دو ایٹمی طاقتوں کو جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔تاہم پاکستان کی موثر دفاعی حکمت عملی اور متحرک خارجہ پالیسی نے مودی کے گھناؤنے عزائم کو خاک میں ملا دیا۔26 فروری سے دارالحکومت میں ایک اعصاب شکن صورت حال کا آغاز ہوا۔25اور26 کی درمیانی شب بھارتی طیاروں نے دراندازی کرتے ہوئے بالا کوٹ میں حملہ کر کے پاکستان کو ڈرایا۔ پاکستان نے باقاعدہ اعلان کر کے اپنا ردعمل دیا۔ ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے باقاعدہ پریس کانفرنس کر کے جوابی کارروائی کا اعلان کیا۔ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی نے بھی عوامی امنگوں کے مطابق بھارت کو سبق سکھانے کا اعلان کیا، اس کے مطابق نہ صرف پاک فضائیہ کے طیاروں نے بھارت میں چھ اہداف کو نشانہ بنایا،بلکہ اپنے پیچھے دو آنے والے بھارتی طیاروں کو مار گرایا، جبکہ ایک بھارتی طیارے کو پاکستانی حدود میں نشانہ بنایا گیا۔ بھارت کا جنگی غرور خاک میں مل گیا، تاہم پاکستان نے اپنی بہترین حکمت عملی سے صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ اگرچہ پاکستان اور بھارت کے مابین ’’ایکشن‘‘ اور ’’ری ایکشن‘‘ کے ایک ’’چین ری ایکشن‘‘ کا آغاز ہوا چاہتا تھا،لیکن پاکستان کے دفاعی اداروں نے انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے امن کو موقع دینے کی کوششیں جاری ر کھیں، جبکہ وزیراعظم عمران خان نے اس سارے بحران میں بہت نپی تلی تقریر کی یا بیان دیئے۔ پاکستان اس سنگین بحران سے اپنے تدبر کی بدولت عہدہ برا ہوا۔وزیراعظم عمران خان نے بھارت کے ساتھ ایک جنگی کیفیت میں بھی دشمن کو مختصر ،لیکن انتہائی موثر پیغامات دیئے،جبکہ مسلح افواج کی شاندار حکمت عملی سے بھارتی مگ21طیارے کو پاکستانی سرزمین پر نشانہ بنانے اور بھارتی پائلٹ کو زندہ گرفتار کرنے سے پانسہ پلٹ گیا۔ بعدازاں پائلٹ سے پاکستان کا حُسنِ سلوک اور وزیراعظم عمران خان کی جانب سے پارلیمینٹ کے اجلاس میں اسے بھارت کو وطن واپس کرنے کے اعلان سے پوری دُنیا میں پاکستان کو بھارت کے مقابلے میں سفارتی و اخلاقی برتری حاصل ہو گئی۔پاکستان کی جانب سے بھارتی پائلٹ کی واپسی کا اعلان خطے میں جنگ کے امکانات کو کم کرنے کے حوالے سے ’’ٹرننگ پوائنٹ‘‘ تھا۔ پاکستان کا یہ اقدام سفارت کاری کے لحاظ سے ایک ’’ماسٹر سٹروک‘‘ تھا۔ دو بھارتی طیارے مار گرانے والے پاک فضائیہ سکواڈرن لیڈر حسن صدیقی قوم کی آنکھ کا تارا بن گئے۔ پاکستان اور بھارت میں جنگی خطرات کم ہونے کے حوالے سے28فروی کو دو اہم پیش رفت دیکھنے میں آئیں۔ علی الصبح امریکی صدر جو کہ ایک غیر ملکی دورے پر تھے انہوں نے ’’ہنوئی‘‘ سے بیان دیا کہ پاکستان اور بھارت سے اچھی خبریں آ رہی ہیں،کشیدگی جلد ختم ہو جائے گی۔

امریکی صدر نے ایک پریس کانفرنس میں اس امر کا برملا اعتراف کیا کہ ’’امریکہ پاکستان اور بھارت میں حالات کو نارمل کرنے کے لئے کوششیں کر رہا ہے اور امید ہے کشیدگی ختم ہو جائے گی‘‘۔اسی دن شام کو وزیراعظم عمران خان نے پارلیمینٹ کے مشترکہ اجلاس میں بھارتی پائلٹ چھوڑنے کا اعلان کیا۔ ان دونوں واقعات میں کوئی تال میل ہونا خارج از امکان نہیں۔اس تمام تناؤ کی صورت حال میں پاکستانی دفتر خارجہ نے انتہائی غیر معمولی کردار ادا کیا۔دفتر خارجہ دارالحکومت میں تمام اہم ترین سفارت کاروں سے مکمل رابطے میں رہا اور انہیں تمام صورت حال سے باخبر رکھتے ہوئے پاکستان نقطہ نظر پیش کیا جاتا رہا۔ علاوہ ازیں دُنیا بھر میں پاکستانی سفارت خانے نے بھی خاصے متحرک رہے۔دُنیا بھر میں بھارت کے جارحیت کے عزائم اور پاکستان کی امن پسندی کے اقدامات کو نمایاں طور پر پیش کیا گیا۔وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اس سارے بحران میں مسلسل مصروف عمل رہے۔ دفتر خارجہ میں ایک ہنگامی مرکز بھی قائم کیا گیا جو24گھنٹے کام کر رہا ہے۔اگرچہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک دو بار زورِ بیان میں قدرے بھلے پن کا اظہار کیا اور لگتا تھا کہ وہ بھارتی جارحانہ رویہ کے تسلسل سے جھنجھلا گئے ہیں تاہم اس کی نسبت وزیراعظم عمران خان نے خاصے تحمل اور سکون کے ساتھ بھارت کو جوابات دیئے۔پاکستان کے دوست ممالک نے اس بحران میں بھرپور ساتھ دیا۔ بالخصوص ترکی پاکستان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا نظر آیا،جبکہ چین اور عرب ممالک نے بھی بھرپور سفارتی و اخلاقی مدد کی۔ او آئی سی کے غیر معمولی اجلاس میں بھارت کی مذمت بھی کی گئی۔تاہم متحدہ عرب امارات میں او آئی سی کے وزرائے خارجہ کے طے شدہ اجلاس کے حوالے سے قدرے بدمزگی پیدا ہوئی،جب پاکستان کو اچانک معلوم ہوا کہ میزبان حکومت متحدہ عرب امارات نے بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کو بھی اجلاس میں شرکت کی دعوت دے رکھی ہے۔پاکستان اجلاس میں شرکت کے حوالے سے تذبذب کا شکار رہا تاہم بعدازاں فیصلہ کیا گیا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی شرکت نہیں کریں گے تاہم متحدہ عرب امارات میں پاکستانی سفیر پاکستان کی نمائندگی کریں گے اور ایسا ہی کیا گیا۔پاکستان کے اس احتجاجی رویہ کے پیش نظر متحدہ عرب امارات کے ولی عہد نے وزیراعظم عمران خان سے ٹیلیفونک رابطہ بھی کیا اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کواجلاس سے ایک روز قبل دبئی میں بات چیت کی دعوت بھی دی،لیکن پاکستان نے اپنا اراد نہیں بدلا۔ پاکستان کے بعض حلقوں میں متحدہ عرب امارات کے اس رویہ پر شدید تحفظات کا اظہار بھی کیا گیا، لیکن پاکستانی سفارتی حکمت عملی سے او آئی سی کے اس اہم اجلاس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی شرکت کے بنا ہی کشمیریوں کی حمایت اور پاکستان میں بھارتی جارحیت کے خلاف قراردادیں منظور ہوئیں،قرارداد میں کہا گیا کہ پاکستان اور بھارت کے مابین جموں کشمیر کا بنیادی تنازعہ ہے اور اس کا حل ناگزیر ہے۔ قرارداد میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی مذمت اور ان پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اعلامیہ میں پاکستان کی جانب سے بھارتی پائلٹ کی واپسی کی تحسین کی گئی۔ اگرچہ اسے وقت میں جب پاکستان خیر سگالی کے جذبے کے تحت پائلٹ واپس کر دیا تھا کہ دوسری جانب سے کنٹرول لائن پر فائرنگ جاری تھی،جس کے نتیجے میں دو پاکستانی جوانوں کی شہادت واقع ہوئی، جبکہ اس سے قبل بھارتی جیل میں ایک پاکستانی کو پتھر مار مار کر ہلاک کر دیا گیا۔

بھارت کی جانب سے پاکستان پر میزائل حملوں کے منصوبے کا انکشاف ہوا ہے،جسے پاک فوج کی جوابی کارروائی کی دھمکی نے ناکام بنا دیا۔ اگرچہ بھارت کے اس جنگی جنون نے پاکستان کو تو متاثر کیا ہے،لیکن اس کا سب سے بڑا نقصان بھارت کو خود ہوا ہے۔معلوم نہیں مودی کو فائدہ پہنچے گا کہ نہ نہیں،لیکن مسئلہ کشمیر دُنیا بھر میں نمایاں ضرور ہو گیا ہے۔اب جبکہ کشمیر کو حل کئے بغیر بھارت کے لئے آگے بڑھنا مشکل نظر آتا ہے،پارلیمینٹ کا کردار بھی لازوال ہے۔پارلیمینٹ نے ملک کو بھارتی جارحیت سے بچانے میں ایک ڈھال کا کردار ادا کیا ہے۔اس سارے بحران میں پارلیمینٹ متحرک رہی۔

*****

مزید :

ایڈیشن 1 -