پاک بھارت، کشیدگی میں شدت، کاروبار زندگی متاثر، قوم متحد اورپرجوش!

پاک بھارت، کشیدگی میں شدت، کاروبار زندگی متاثر، قوم متحد اورپرجوش!

  

ڈائری ۔ کراچی سے مبشر میر

پاکستان بھارت سرحدی کشیدگی کی وجہ سے سیاسی سرگرمیوں میں کمی دیکھنے میں آرہی ہے، اب ہر سیاسی جماعت کی طرف سے افواج پاکستان کی جانب سے کامیاب دفاعی حکمت عملی کا عملی مظاہرہ دیکھنے کے بعد اظہار یکجہتی ریلی کا انعقاد اس ہفتے کا معمول رہا۔ پیپلز پارٹی نے حیدرآباد میں بھی ریلی نکالی، جہاں سابق وزیرنثار کھوڑو نے خطاب کیا۔ اسی تناظر میں احتساب کا عمل بھی سست روی کا شکار نظر آیا، لیکن نیب سندھ نے اپنا کام جاری رکھا ہوا ہے۔ مجسٹریٹ کی موجودگی میں اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کے بینک لاکرز توڑے گئے جہاں سے کروڑوں روپے مالیت کی غیر ملکی کرنسی اور زیورات برآمد ہوئے۔ اس کے ساتھ سا تھ یہ خبریں بھی زبان زد عام ہیں کہ چند اور اہم نام بھی گرفتاریوں کے لیے سامنے آرہے ہیں۔ حتی کہ وزیراعلیٰ سندھ بھی اپنے لیے زبردست لابنگ کررہے ہیں کہ کسی طرح ان پر ہاتھ نہ ڈالا جائے۔ حالیہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ایم کیو ایم لندن سے وابستگی کے حامل افراد کی گرفتاریاں اور نشاندہی بہت تیزی کے ساتھ ہوئی۔ اسی تنظیم کے دوسرے ممالک میں مبینہ طور پر قائم سیل یا دفاتر کا ذکر بھی ہوتا رہا ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ وفاقی حکومت جسے لندن سیکریٹریٹ یا اس سے منسلک دفاتر کو تیزی کے ساتھ بند کروانا تھا، اس میں اسے کامیابی کیوں نہیں ملی، وزارت داخلہ جو وزیراعظم عمران خان کے پاس ہے۔ موثر حکمت عملی اپنانے میں کامیاب کیوں نہیں ہوسکی۔

وزیراعظم عمران خان کا دورۂ تھرپارکر اسی ہفتے متوقع ہے۔ شاہ محمود قریشی وفاقی وزیر خارجہ کے مریدوں کی ایک معقول تعدادان علاقوں میں موجود ہے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ تحریک انصاف نے اندرون سندھ بھی تنظیم کو فعال کرنے کی طرف توجہ دینا شروع کردی ہے۔ اگر چہ کراچی میں اُسے عوام کے مسائل حل کرنے اور اپنے وعدے پورے کرنے میں دشواری کا سامنا ہے۔ گذشتہ برس الیکشن میں تحریک انصاف نے زیادہ توجہ کراچی شہر پر رکھی تھی اور یہاں کی سب سے بڑی سیاسی جماعت بن گئی۔ اندرون سندھ ان کا ا نحصار مسلم لیگ فنکشنل پر تھا ۔مسلم لیگ ن نے اپنے پانچ سالہ دور اقتدار میں سندھ کو بالکل توجہ کے لائق نہ سمجھا اور آصف علی زرداری سابق صدر کے لیے میدان کھلا چھوڑ دیا۔ باخبر ذرائع کے مطابق سابق گورنر سندھ محمد زبیر اس پر اب بہت کام کررہے ہیں، وہ مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت کو یہ باور کروانے میں کامیاب ہوگئے ہیں کہ مسلم لیگ ن کو بھی تحریک انصاف کی طرز پر صوبہ سندھ میں کام کرنا چاہیے ، یعنی کراچی شہر پر زیادہ توجہ دی جائے۔

گذشتہ الیکشن میں مسلم لیگ ن نے کراچی سے ساڑھے تین لاکھ سے زائد ووٹ حاصل کیے تھے جبکہ اندرون سندھ سے پچاس ہزار سے بھی کم ووٹ حصے میں آئے۔ اسی لیے سابق گورنر سندھ یہ چاہتے ہیں کہ کراچی شہر اور اندرون سندھ کی تنظیمیں علیحدہ کی جائیں، انہیں شہر کراچی کی فعال سیاسی شخصیت کی تلاش ہے جو کراچی ڈویژن کو زیادہ موثر اور فعال بناسکے۔ مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے محمد زبیر کو بھی یہ پیشکش کی گئی ہے کہ وہی اس بیڑے کو اٹھائیں ،لیکن ان کی خواہش ہے کہ وہ مرکز میں زیادہ کردار ادا کریں۔ مسلم لیگ ن کے قریبی ذرائع اس حوالے سے پرامید ہیں کہ اگر بلدیہ کی نشست جس پر میاں محمد شہباز شریف امیدوار قومی اسمبلی تھے، ری کاؤنٹنگ ہوئی تو ان کی کامیابی یقینی ہے، اب وفاقی وزیر پانی و بجلی فیصل واوڈا وہاں سے منتخب رکن قومی اسمبلی ہیں۔ مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے سابق صدر مملکت ممنون حسین گوشۂ نشینی کی زندگی بسر کررہے ہیں، سیاسی سرگرمیوں سے عملاً وہ دور ہی دکھائی دیتے ہیں ۔ مسلم لیگ ن کے سینیٹرزبھی آئندہ 2021 میں ریٹائر ہوجائیں گے چنانچہ مسلم لیگ ن ان دو سالوں میں اپنی تنظیمی کمزوریوں کو دور کرنا چاہتی ہے۔

اس موسم سرما میں کراچی کی سوشل لائف بہت فعال نظر آرہی ہے۔ بریانی، چائے اور فوڈ فیسٹول کے ساتھ ساتھ متعدد ثقافتی پروگرامز دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ حال ہی میں سندھ لٹریچر فیسٹول اور کراچی لٹریچر فیسٹول کا انعقاد ہوا۔ جس میں سیاسی بحث و مباحثے بھی نمایاں تھے۔ پاک بھارت کشیدہ صورت حال کے تناظر میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے سپرلیگ (پی ایس ایل) کے آخری راؤنڈ کے آٹھ میچز کراچی میں منعقد کروانے کا اعلان کردیا ہے۔ شہر کراچی کے باسیوں نے اس اعلان کا خیرمقدم کیا ہے۔ شہر میں اسی اعلان کے ساتھ ہی سیکورٹی چیکنگ کا عمل تیز کردیا گیا ہے۔ کئی کچی بستیوں میں پولیس اور رینجرز کے چھاپے جاری ہیں اور جرائم پیشہ افراد پر گرفت کرنے کی کوششیں تیز کردی گئی ہیں، لیکن افسوس ایسے ہی اعلانات کے بعد پولیس اپنی روایتی پولیسنگ بھی کرتی ہے جس میں بہت سے غیر متعلقہ افراد کو بھی دھر لیا جاتا ہے اور معمولی فائدے کے عوض ان کو رہا کیا جاتا ہے۔ پولیس میں اصلاحات کا اعلان سب کرتے ہیں لیکن گذشتہ گیارہ برسوں سے ایسا دیکھنے میں نہیں آرہا۔ یہی وجہ ہے کہ جرائم کی شرح میں کمی کی بجائے ہر سال اس میں نہ صرف اضافہ ہوتا ہے بلکہ نئی طرز کے جرم بھی سامنے آتے ہیں۔

کراچی میں پانی کی صورتحال کو بہترکرنے کے لیے سپریم کورٹ کی جانب سے بنایا گیا واٹر کمیشن غیر فعال ہو چکا ہے کیونکہ جسٹس (ر) امیر مسلم ہانی نے مزید کام کرنے سے معذوری ظاہر کی تھی۔ کراچی کے عوام پانی کے حوالے سے اسی طرح مسائل کا شکار ہیں۔ پانی عام استعمال کا ہو یا پینے کا ہر لحاظ سے شہریوں کو واٹر مافیا بااثر شخصیات کی سرپرستی میں لوٹ رہا ہے۔ نیا پاکستان ابھی تک نیا کراچی بنانے کا سفر شروع نہیں کرسکا۔ بہرحال بلوچستان میں بارانِ رحمت سے حب ڈیم میں وافر پانی آنے کی توقع ہے ، جس سے امید کی جاسکتی ہے کہ کچھ عرصہ کے لیے قدرت کی طرف سے ریلیف مل سکے گا لیکن واٹر مافیا پھر بھی سرگرم رہے گا۔

کراچی کا گرین لائن کا منصوبہ بھی مکمل ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ کراچی کے شہری وزیراعظم عمران خان کی سندھ ٹیم سے زیادہ خوش نہیں وہ انہی کی راہ تک رہے ہیں، کراچی کے شہریوں کو امید ہے کہ ان کے دیرینہ مطالبے پانی، ٹرانسپورٹ، بیروزگاری اور ماحولیاتی آلودگی کا خاتمہ کرنے میں صرف وفاقی حکومت ہی ان کی مدد کرسکتی ہے۔ اقتصادی اعشارئیے بھی اگر چہ بہتری کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ لیکن قیمتوں میں اضافہ عوام کو بدستور پریشان کررہا ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -