بھارتی جارحیت، پوری قوم یکجان، جنوبی پنجاب میں بھارت مخالف، فوج کی حمائت میں مظاہرے

بھارتی جارحیت، پوری قوم یکجان، جنوبی پنجاب میں بھارت مخالف، فوج کی حمائت ...

  

ملتان سے قسور عباس

مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں 14فروری کو بھارتی فوجی قافلے پر ہونے والے خود کش حملے کو بنیاد بنا کر بھارت سرکار نے ایک بار پھر اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا تو وزیر اعظم عمران خان نے بھارتی الزام کا جواب دیتے ہوئے مودی حکومت کو یہ آفر کرائی کہ اگر وہ خود کش حملے کے متعلق پاکستان کو ثبوت فراہم کرے تو ہم تحقیقات کرانے کیلئے تیار ہیں مگر بھارت کی طرف سے ثبوت فراہم کرناتو دور کی بات اس پیش کش کا جواب تک دینا گوارہ نہ کیا گیا بلکہ رات کی تاریکی میں فضائی جارحیت کا مرتکب ہوکر پاکستانی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کی گئی پاک فضائیہ کے شاہینوں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے بھارتی جہازوں کو واپس پلٹنے پر مجبور کیا اور اگلی صبح بھارتی فضائی جارحیت کا جواب دینے کیلئے پاک فضائیہ کے جوانوں نے مقبوضہ کشمیر میں اپنے 6مختلف اہداف کو دن کی روشنی میں مکمل کرکے اور پاکستانی حدود کی دوبارہ خلاف ورزی کرنے والے دو بھارتی جہازوں کو گرا اور پائلٹ کو گرفتار کرکے یہ واضح کیا کہ اگر بھارت اپنی شرانگیزی اور روایتی ہٹ دھرمی سے بعض نہ آیا تو اس کو نہ صرف منہ کی کھانی پڑے گی بلکہ اس کا وجود بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے ۔پاک بھارت کشیدگی کی وجہ سے جہاں ہمارے ہتھیار چیک ہوئے کہ وہ کتنے پر اثر ہیں وہاں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان پائے جانے والے اختلافات بھی کچھ ختم ہوئے اور دونوں نے یک زبان ہوکر بھارت سمیت دیگر ملک دشمن عناصر کو یہ واضح پیغام دیا کہ ہمارے آپس میں چاہے لاکھ اختلافات ہی کیوں نہ ہوں جب بات ملکی دفاع اور سالمیت کی ہوگی تو ہم سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح تمہارے سامنے کھڑے ہوں گے ۔سیاستدانوں کی طرح قو م نے بھی ملک بھر میں پاک فوج کے حق میں ریلیاں اور جلوس نکال کر نہ صر ف محب وطن شہری ہونے کا ثبوت دیابلکہ ملک پر اپنی جانیں نچھاور کرنے کا عہد بھی کیا ۔ملک سمیت جنوبی پنجاب بھر میں یہ جذبہ دوسری بار دیکھنے کو مل رہا ہے پہلی بار جب 16دسمبر 2014کو دہشت گردوں نے آرمی پبلک سکول پشاور میں طلباء و طالبات سمیت 150سے زائد افراد کو اپنی درندگی کا نشانہ بنا کر ان سے زندہ رہنے کا حق چھین لیا تھا توتب بھی قوم اور سیاستدانوں میں یہی جذبہ دیکھنے کو ملا تھا جو کہ اب4سال بعددوبارہ دیکھنے کو مل رہا ہے ۔جس طرح ملکی دفاع اور سالمیت کیلئے حکومت اور اپوزیشن دونوں ایک پیج پر نظر آئے ہیں اگر اسی طرح یہ دونوں ملکی ترقی اور خوشحالی کیلئے ایک ساتھ آگے بڑھیں تو نہ صرف عوام کو درپیش تمام مسائل ختم ہوں گے بلکہ ملک میں ہر طرف خوشحالی ہی خوشحالی نظر آئے گی ۔

یکم مارچ کو تبدیلی سرکار نے بجلی کی قیمتوں میں ایک روپیہ 80پیسہ فی یونٹ اضافے کی منظوری دینے کے ساتھ ایک بار پھر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا جس کے مطابق پٹرول و لائٹ ڈیزل 2.50،ہائی سپیڈ 4.75اور مٹی کا تیل 4روپے فی لیٹر مہنگا ہوگیا ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ گیس کی قیمتیں بھی بڑھا دی گئی ہیں ۔بجلی ،گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب پاک بھارت سرحدی کشیدگی عروج پر تھی اور قوم پاک فوج زندہ باد ،جیوئے جیوئے پاکستان کے نعرے لگانے میں مصروف تھی جس کی وجہ سے حکومت کو ماضی کی نسبت تنقید کا سامنا نہیں کرنا پڑا ۔مگر اس کے ساتھ ساتھ ایک سوال جو کہ آج تک جواب کا منتظر ہے کہ آخر یہ سلسلہ کب تک ایسے ہی چلتا رہے گا اور حکومتیں ملکی وسائل کی کمی کو جواز بنا کر عوامی مسائل میں اضافہ کرتی رہیں گی جبکہ یہی سیاستدان جب حکومت کا حصہ نہیں ہوتے اور اپوزیشن بنچوں پر بیٹھے ہوتے ہیں تو ملکی ترقی اور خوشحالی کے بڑے بڑے دعوے اور وعدے کرتے ہیں مگر جب اقتدار کی دیوی ان پر مہربان ہوتی ہے تو یہ سب کچھ بھلا کر ایسے خاموش ہوجاتے ہیں جیسے انہیں کسی ناگ نے سونگھ لیا ہو ۔کیا یہ صرف اور صرف عوام کو بے وقوف بنا کر اپنے لئے اقتدار کی منزل کو آسان بناتے ہیں یا پھر اس کی وجہ کچھ اور ہے ۔۔۔؟

ملتان ڈویثرن کے ضلع خانیوال کی تحصیل کبیروالہ کے حلقہ این اے 150سے پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار بیرسٹر رضا حیات ہراج کو شکست سے دو چار کرتے ہوئے سابق سپیکر قومی اسمبلی سید فخر امام آزاد حیثیت سے بطور رکن قومی اسمبلی منتخب ہوکر موجودہ حکومتی جماعت پی ٹی آئی میں شریک ہوئے تھے ۔جب وزارتوں کی تقسیم میں سید فخر امام کو نظر انداز کیا گیا تو گمان یہی کیا جارہا تھا کہ انہیں کوئی اہم ذمہ داری سونپی جائے گی جو اب بطور چےئرمین کشمیر کمیٹی کے طور پر سامنے آئی ہے ۔سید فخر امام سے پہلے جے یو آئی(ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن یہ فرائض سرانجام دیتے رہے ہیں۔ سید فخر امام سے یہ امید یں وابستہ کی جارہی ہیں کہ انہوں نے جس طرح بطور سپیکر قومی اسمبلی اپنے فرائض منصبی کو بہتر انداز میں نبھایا تھا بالکل اسی طرح نیک نیتی اور جذبہ حب الوطنی سے سرشار ہوکر کشمیر کا مقدمہ بھی لڑیں گے اور کشمیری بھی آزاد ملک کی آزاد فضاؤں میں سانسیں لے سکیں گے ۔

محرومی اور پسماندگی کے شکار خطہ جنوبی پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان کے دو بیٹوں نے لائن آف کنٹرول پر ملکی دفاع کیلئے اپنی جانیں قربان کرکے یہ ثابت کردیا ہے کہ ملک سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں ہے دشمن چاہے لاکھ کوششیں کرلے وہ اپنے ناپاک مقاصد میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہوپائے گا ۔شہادت کا رتبہ پانے والے حوالدار عبدالرب کا تعلق ڈی جی خان کی تحصیل تونسہ سے تھا جبکہ نائیک خرم علی ڈی جی خان شہر کے رہائشی تھے ۔پاک فوج کے دونوں شہداء کو فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کردیاگیا ہے اور نماز جنازہ میں بریگیڈئیر فیاض سمیت ضلع ڈیرہ غازی خان کی انتظامی ،سیاسی و سماجی شخصیات نے کثیر تعداد میں شرکت کرکے پاک فوج کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا ۔

مزید :

ایڈیشن 1 -