جھوٹے گواہوں کیخلاف کارروائی سے انصاف کا مزید بول بالا ہوگا،قانونی ماہرین

جھوٹے گواہوں کیخلاف کارروائی سے انصاف کا مزید بول بالا ہوگا،قانونی ماہرین

  

لاہور(نامہ نگار) سپریم کورٹ کی جانب سے جھوٹے گواہوں کے خلاف کارروائی کے حکم کے بعد انصاف کا مزید بول بالا ہوگا ۔ان خیالات کااظہار سینئروکلاء نے پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا،پنجاب بار کونسل کے ممبرسید فرہاد علی شاہ نے کہا کہ جھوٹی گواہی سے متعلق سپریم کورٹ کا حکم تاریخی ہے ، اس سے عدالتوں میں پیسے لے کرکسی کے خلاف ناحق بیان قلمبند کروانے والے جھوٹے گواہوں کا خاتمہ ممکن ہوسکے گا، سابق نائب صدر لاہور بارعرفان تارڑنے کہا ہے کہ ہمارا دین بھی اس کی ہرگزاجازت نہیں دیتاہے ، کیونکہ کسی شخص کی ایک جھوٹی گواہی سے ملزم کوسزائے موت یا دیگر سزائیں ہوسکتی ہیں ،اس حوالے سے سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیاہے اور قابل ستائش ہے اور اس پر عمل درآمد کر کے عدالتوں میں ایسے جھوٹے گواہوں کا راستہ بند کیا جاسکتاہے۔انہوں نے کہا سپریم کورٹ کے اس حکم کے بعد اب کوئی بھی جھوٹا گواہ عدالت میں پیش ہونے سے قبل ہزاربار سوچے گا ،کیونکہ اسے معلوم ہوگا کہ اگر عدالت کو معلوم ہو گیا کہ اس نے جھوٹی گواہی دی ہے تو اسے اس کی سزا ملے گی، سینئر ایڈووکیٹ محمد مدثر چودھری، مشفق احمدخان نے کہا کہ ماتحت عدالتوں میں آئے روز مقدمات میں جھوٹے گواہ پیش ہوتے ہیں جس کی وجہ سے بے گناہ ملزم سے مجرم بن جاتاہے جو کہ ظلم کے مترادف ہے ،عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے سے عدالتوں میں جھوٹی گواہی کا خاتمہ ہوسکے گااور سزا کے ڈر سے کوئی اپنا کسی مقدمہ میں بھی جھوٹابیان قلمبند نہیں کروائے گا،انہوں نے مزید کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ مچلکہ ٹاؤٹ مافیا کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے ،ٹاؤٹ مچلکہ مافیا انصاف کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں،کیونکہ جعلی مچلکوں پر ملزمان عدالتوں سے ضمانتیں کرواکرچھوٹ جاتے ہیں اور بعد میں ان کا کوئی سراغ نہیں ملتا اور مقدمات التواء کا شکار ہوتے ہیں ۔

قانونی ماہرین

مزید :

علاقائی -