پنجاب اسمبلی ،تنخواہوں میں اضافے کے معاملے میں حکومت ،اپوزیشن متحد ،چوہان کیخلاف حرب اختلاف کا واک آؤٹ

پنجاب اسمبلی ،تنخواہوں میں اضافے کے معاملے میں حکومت ،اپوزیشن متحد ،چوہان ...

  

لاہور( آئی این پی) پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں تنخواہوں میں اضافے کے معاملے میں حکومت اور اپوزیشن متحد،ڈپٹی سپیکر نے وزیر قانون کو اسی ہفتے تنخواہوں میں اضافے کا بل لانے کی ہدایت کردی،وزیر قانون نے ڈپٹی سپیکر کو کابینہ سے فوری منظوری کی یقین دہانی کرادی،وزیر اطلاعات فیاض چوہان ہندو وں کے بارے میں تضحیک آمیز الفاظ کیخلاف اپوزیشن کا واک آؤٹ،اپوزیشن نے معذرت اور مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا،ڈپٹی سپیکر نے حکم دیا کہ فیاض چوہان ایوان میں آکر معذرت کریں،پنجاب اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری کی زیر صدارت ایک گھنٹہ چالیس منٹ تاخیر سے شروع ہوا،اسمبلی کے ایجنڈے پر محکمہ انسانی وسائل محنت کے متعلق سوالوں کے جواب صوبائی وزیر عنصر مجید کی جانب سے دیے گئے،اجلاس کے آغاز میں حکومتی رکن غضنفر عباس چھینہ نے نقطہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا کے پی اسمبلی میں اراکین اسمبلی کی تنخواہیں 50،سندھ میں 80ہزار اور بلوچستان میں تین لاکھ ہے اور یہاں کے ارکان کا اللہ ہی حافظ ہے،میں نے ایک ترمیمی بل جمع کرادیا ہے اور آج ہے بھی غیر سرکاری ارکان کا دن اور مجھے بل پیش کرنے کی اجازت دی جائے،اس کے جواب میں وزیر قانون راجہ بشارت نے کہا بل پیش ہو چکا ہے اور اب کو کابینہ سے منظور کرایا جائے گا اس کے بعد ہی اسمبلی میں لائیں گے ،ڈپٹی سپیکر دوست مزاری نے کہا اگر تمام ممبران مطئمن ہیں اور ان کو بل پر کوئی اعتراض نہیں تو بل منظور ہونا چاہیے اس سے سب سے زیادہ خوشی تو وزراء کو ہو رہی ہے،وزیر قانون بل اسی ہفتے اجلاس میں لے کر آئیں اور بل کو فوری منظور کیا جاے،اس کے جواب میں وزیر قانون نے کہا اسی ہفتے کابینہ سے بل منظور کرالیا جائے جائے اور اس کو اسمبلی سے بھی پاس کرلیں گے،بعد ازراں ن لیگ کے رکن طاہر خلیل سندھو نے نقطہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا وزیر اطلاعات فیاض چوہان ہندو برابری کی توہین کی ہے ،ہندو پاکستان میں اقلیت نہیں ہیں ،اگر حکومت کو لعنت بھیجنی ہے تو تو مودی یا بھارت پر بھیجے،اس کے جواب میں چوہدری ظہیر الدین نے کہا پاکستان کے جھنڈے میں سفید رنگ اقلیتوں کا ہے ،سکھوں،ہندوں اور عیسائیوں کا پاکستان میں اہم رول ہے،ہم ہیں ان پر فخت ہے،وزیر کا بیان ذاتی حیثیت میں ہے اس کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے،پیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈر حسن مرتضی نے کہا فیاض چوہان ایک ایسا شخص ہے جس کے ہاتھوں کسی بھی شعبے کی عزت محفوظ نہیں ہے،پہلے اس نے آتے ہی فنکاروں کا ٹارگٹ کیا،پھر صحافیوں اور سیاستدانوں کی باری آئی اور اقلیتیں بھی اس شخص کی انتہائی پسندی سے محفوظ نہیں ہیں،اس ٹارگٹ کلر کو منطقی انجام تک پہنچائیں ورنہ اس کا سلسلہ بند نہیں ہو گا،بھارت میں مودی انتہا پسند اور پاکستان میں فیاض چوہان انتہا پسند ہے یہ شخص میڈیا میں زندہ رہنے کیلئے ایسے بیانات دیتا ہے،ن لیگ کے رکن رانا اقبال نے کہا اقلیتوں کا قیام پاکستان میں اہم رول ہے پاکستان کے جھنڈے میں سفید رنگ اقلیوں کی نمائندگی کرتا ہے،پاکستان کے آئیں کا آرٹیکل 25اقلیتوں کے برابر کے حقوق اور برابر کا شہری ہونے کا حق دیتا ہیں اور ان سے یہ حق کوئی نہیں چھین سکتا،ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری نے وزیر قانون کو ہدایت کی کہ وزیر اطلاعات فیاض چوہان کو اسمبلی میں بلایا جائے اور وہ ایوان میں آکر سب سے معذرت کریں اس سے باقی لوگوں کو بھی ایک پیغام جائے گا۔غیر سرکاری ارکان کے دن پر ایجنڈے پر موجود صرف ایک قرارداد صفدر شاکر کی ہی منظور ہو سکی باقی تمام موخر کردی گئی،صفدر شاکر کی قرارداد کے مطابق قومی اسمبلی کی طرح پنجاب اسمبلی کی عمارت پر بھی کلمہ طیبہ لکھا جائے ،جس کو تمام ارکان نے کثرت رائے سے منظورکرلیا،بعدازراں ڈپٹی سپیکر نے اجلاس آج صبح گیارہ بجے تک ملتوی کردیا۔

مزید :

صفحہ آخر -