اقلیتوں کیخلاف ریمارکس برداشت نہیں : وزیر اعظم

اقلیتوں کیخلاف ریمارکس برداشت نہیں : وزیر اعظم

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) وزیراعظم عمران خان نے فیصل واوڈا کے کنٹرول لائن پر فوٹو سیشن اور فیاض الحسن چوہان کے ہندوؤں سے متعلق ریمارکس پر برہمی کا اظہار کر دیا۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم نے کہا وفاقی وزیر فیصل واوڈا کے لائن آف کنٹرول پر جاکر تصاویر بنوا کر سوشل میڈیا پر جاری کرنے کے عمل پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ شہرت کا کونسا طریقہ ہے، شکر ہے تم پستول لیکر لائن آف کنٹرول کراس نہیں کر گئے۔ وزیراعظم عمران خان نے اعلی سطحی اجلاس میں فیصل واوڈا کے اس عمل پر اظہار ناپسندیدگی کیا۔وزیراعظم عمران خان نے چوہان کے ریمارکس پر ناراضی کا اظہار کیا اور اسے نامناسب قرار دیدیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق وزیر اعظم نے دوٹوک ہدایت جاری کی کہ کسی اقلیت کے خلاف مذہبی بنیاد پر ریمارکس برداشت نہیں کئے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں رہنے والے ہند وبھی اتنا ہی پاکستان کے حصہ ہیں جتنا ہر شہری ہے۔ دوسری طرف وزیراعظم عمران خان نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ سچ کا سفر ہی نئے پاکستان کا سفر ہے، قومیں عظیم تب بنتی ہیں جب ان کی اقدار اعلیٰ ہوں۔مسلم تہذیب کی بنیاد ریاست مدینہ تھی جو سچ پر رکھی گئی ہے۔جھوٹی گواہی دینے والوں کو سزا دینے سے متعلق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کا بیان خوش آئند ہے۔علاوہ ازیں وزیراعظم نے اسلام آباد میں ایک اجلاس کی صدارت کی جس میں توانائی سے متعلق منصوبوں میں پیشرفت کا جائزہ لیاگیا ۔اجلاس کے دوران پیٹرولیم اور گیس سے متعلق منصوبوں میں پیشرفت کابھی جائزہ لیاگیا ۔اجلاس میں وزیرخزانہ اسد عمر ، وزیرپیٹرولیم غلام سرورخان، تجارت کے بارے میں وزیراعظم کے مشیر عبدالرزاق داؤد ، وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر عشرت حسین ، سیکرٹری پیٹرولیم اور دیگر اعلی عہدیداروں نے شرکت کی۔

وزیر اعظم

اسلام آباد (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے بیرون ملک پاکستانی سفارتخانوں میں ٹریڈ آفیسرز کی آسامیوں پر سمندر پار پاکستانیوں کیلئے 20 فیصد کوٹہ مختص کرنے کی منظوری دیدی ہے۔ یہ فیصلہ وزیراعظم آفس میں بیرون ملک ٹریڈ آفیسرز کی تعیناتی میں اصلاحات کے حوالہ سے اجلاس کے دوران کیا گیا۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ وزیراعظم نے وزارت تجارت کو ملک کے تجارتی مفادات کے فروغ کیلئے بیرون ملک تعینات ہونے والے ٹریڈ آفیسرز کی تعیناتی کے پورے نظام کی تشکیل نو کی ہدایت کی تھی۔ وزیراعظم کی طرف سے منظور کردہ نئی پالیسی ٹریڈ آفیسرز کے شفاف اور میرٹ کی بنیاد پر انتخاب، مارکیٹ کو متنوع بنانے، پاکستانی برادری کی شمولیت، اخراجات کو معقول سطح پر لانے، وسیع البنیاد مانیٹرنگ اور کارکردگی جائزہ اور اس ضمن میں خودکار عوامل کار پر توجہ مرکوز کرتی ہے۔ ٹریڈ آفیسرز کو مؤثر انداز میں بروئے کار لانے اور زیادہ سے زیادہ رسائی کو یقینی بنانے کیلئے نئی پالیسی میں ملک کے تجارتی مفادات کے مؤثر فروغ بالخصوص ابھرتی ہوئی منڈیوں اور دنیا بھر کے مختلف خطوں اور تجارتی گروپوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ وزیراعظم کو بتایا گیا کہ ٹریڈ آفیسرز کی کارکردگی کی وسیع البنیاد اور حقیقی معنی میں نگرانی کو یقینی بنانے کیلئے جائزہ کے پورے نظام کی تشکیل نو کی گئی ہے۔ سیکرٹری تجارت محمد یونس ڈھاگہ نے بھی وزیراعظم کو نیشنل ٹریڈ ڈیٹا اینالیٹکس سسٹم کے بارے میں آگاہ کیا جو وزارت کی طرف سے وضع کیا جا رہا ہے۔ تجارتی اعداد و شمار، برآمدات و درآمدات ڈائریکٹری، مصنوعات کے ڈیٹابیس اور تجارتی صورتحال کے جامع اعداد و شمار کے ساتھ یہ نظام ملک کے تجارتی مفادات کے فروغ اور بہتر تجزیہ میں معاون ہو گا۔

مزید :

صفحہ اول -