تربیلاچوتھے توسیعی منصوبہ سے بجلی کی پیداوارکنٹریکٹ کے مطابق کی گئی

تربیلاچوتھے توسیعی منصوبہ سے بجلی کی پیداوارکنٹریکٹ کے مطابق کی گئی

  

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ)تربیلاچوتھے توسیعی منصوبے کے افتتاح کے بارے میں یہ بات ریکارڈ پر لائی جاتی ہے کہ تفتیشی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق کمیٹی کے تمام ارکان کی رائے تھی کہ تربیلا کے چوتھے توسیعی منصوبے سے بجلی کی پیداوار کا آغاز تعمیراتی معاہدے میں موجود تمام مطلوبہ تقاضوں کو مکمل کرنے کے بعدکیا گیا ۔ پورے کئے گئے اِن تقاضوں میں لوئر اِن ٹیک استعمال کرنے کی موزونیت ، کو فرڈیم (Coffer Dam)کو جزوی طور پر ہٹانا اور ڈرائی ٹیسٹنگ شامل ہیں ۔جہاں تک وٹ ٹیسٹنگ (Wet Testing)کا تعلق ہے ، تفتیشی کمیٹی کے دو ارکان سمجھتے ہیں کہ وِٹ ٹیسٹنگ کنٹریکٹ کے مطابق کامیابی کے ساتھ مکمل کی گئی ، جبکہ کمیٹی کے دیگر ارکان کا خیال ہے کہ فل لوڈ ٹیسٹنگ ،با معنی وٹ ٹیسٹنگ کے لئے ایک لازمی جزو ہے۔ اِس بات سے قطع نظر، تفتیشی کمیٹی نے جون 2018ء میں منصوبے کے یونٹ نمبر17 کے آپریشن پر کوئی اعتراض نہیں اُٹھایا ۔ اِس یونٹ کا افتتاح مارچ 2018 ء میں ہواتھا ۔علاوہ ازیں تفتیشی کمیٹی میں شامل تکنیکی ارکان کی اکثریت اِس نتیجے پر بھی پہنچی کہ پلانٹ سے بجلی پیدا کرنے کی ٹائم لائن پر اتفاق کے لئے ورلڈبنک کی تمام ایڈوائس پر عمل کیا گیا ، اور واپڈا اتھارٹی کی منظوری کے بعد مارچ 2018ء میں یونٹ کو مکمل کرنے اور جون /جولائی 2018ء میں بجلی پیدا کرنے کا فیصلہ ہوا۔ ورلڈ بنک کی مذکورہ ایڈوائس پر عمل کرتے ہوئے پیداواری یونٹ مارچ2018ء میں مکمل کیا گیا اور اس یونٹ سے جون 2018ء میں مسلسل 23روز تک بجلی پیدا کی گئی۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ تفتیشی کمیٹی نے جس نقصان کا تخمینہ لگایا ، اس کی وجہ ڈرافٹ ٹیوب گیٹس کا پھنس جانا بتایا گیا ہے۔ تفتیشی کمیٹی نے یہ بات بھی اخذ کی کہ منصوبے کے افتتاح یا کمرشل آپریشن ڈیٹ (سی او ڈی) کا گیٹس کے مٹی اور گاد میں پھنس جانے کے واقعے سے کوئی تعلق نہیں۔

تربیلا

مزید :

صفحہ اول -