نئی گج ڈیم فوری تعمیر کرنے کا حکم ، کسی نجی چینل پر بھارتی مواد کی تشہیر نہیں ہو گی : سپریم کورٹ

نئی گج ڈیم فوری تعمیر کرنے کا حکم ، کسی نجی چینل پر بھارتی مواد کی تشہیر نہیں ...

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں) سپریم کورٹ نے نئی گج ڈیم کی فوری تعمیر کاحکم دیدیا، جسٹس گلزار نے وفاقی اور سندھ حکومتوں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تیس سال سے نئی گج ڈیم کامعاملہ چل رہاہے، ہر سال پیسہ مختص ہوتاہے، جوضائع کردیا جاتاہے ، سندھ حکومت کوآخرمسئلہ کیاہے؟عدالت نے نئی گج ڈیم کی فوری تعمیر کاحکم دیدیا اور ہدایت کی وفاق اور سندھ حکومت واپڈا کو فنڈز کی بروقت فراہمی یقینی بنائے۔سپریم کورٹ نے پلاننگ ڈویژن اور سیکرٹری آبپاشی سندھ سے فنڈز کی فراہمی پر عملدرآمد رپورٹ طلب کرلی اورعدالتی فیصلے پر وزارت قانون سے رائے مانگنے پر کابینہ سے بھی جواب طلب کرلیا۔بعد ازاں سپریم کورٹ نے نئی گج ڈیم کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت ایک ماہ کیلئے ملتوی کردی۔دوسری طرف سپریم کورٹ نے نجی چینلز پر غیر ملکی مواد دکھانے سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کرکے وفاقی حکومت کی پالیسی بحال کردی جس کے تحت پاکستان کے کسی بھی نجی چینل پر بھارتی مواد کی تشہیر نہیں ہوگی۔سپریم کورٹ میں جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے نجی ٹی وی چینلز پر غیر ملکی مواد دکھانے کے معاملے کی سماعت کی اور اس سلسلے میں پیمرا کے وکیل عدالت میں پیش ہوئے۔پیمرا کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ 2006 میں وفاقی کابینہ نے پالیسی بنائی تھی جس کے تحت بھارتی مواد مساوی تبادلے کے اصول پر دکھایا جاسکتا تھا، پالیسی کے تحت 10 فیصد غیر ملکی مواد دکھایا جاسکتا تھا۔پیمرا کے وکیل نے کہا کہ 19 اکتوبر2016 کو پیمرا نے غیر ملکی مواد دکھانے پر مکمل پابندی عائد کی، مذکورہ پابندی کو لیوکمیونی کیشن نے لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا اور عدالت نے 10 فیصد مواد دکھانے کی اجازت دے دی، لاہور ہائی کورٹ نے کہا پابندی صرف وفاقی حکومت لگا سکتی ہے، پیمرا نے مذکورہ فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔دورانِ سماعت جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ کیا ابھی بھی لوگ بھارتی فلمیں دیکھنا چاہتے ہیں۔پیمرا کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ نجی ٹی وی چینلز پر بھارتی مواد کا تناسب صفر ہے، ہائی کورٹ کے فیصلے سے پیمرا کے اختیارات ختم ہوگئے ہیں۔عدالت نے پیمرا کے وکیل کے دلائل سننے کے بعد لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کرکے پیمرا کی اپیل سماعت کیلئے منظور کرلی۔عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے کے بعد وفاقی حکومت کی پالیسی بحال ہوگئی جس کے تحت پاکستان کے کسی بھی نجی چینل پر بھارتی مواد کی تشہیر نہیں ہوگی۔سپریم کورٹ میں نجی سکولوں کی جانب سے توہین عدالت کیس کی سماعت کے دوران جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ ایک نجی سکول نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو انتہائی نامنصفانہ لکھا تھا، اب آپ عدالتی فیصلے کومنصفانہ اورغیرمنصفانہ قراردیں گے،آپ لوگوں کواکسا رہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق منگل کو سپریم کورٹ میں جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے نجی سکولوں کی جانب سے توہین عدالت کیس کی سماعت کی۔بعدازاں عدالت عظمی نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کردی۔علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے قتل کیس میں ملزمان کی سزائے موت ختم کرنے کی استدعا مسترد کر دی،ہائیکورٹ نے ملزمان کو قتل کیس میں سزائے موت سنائی تھی،گزشتہ روز دوران سماعت چیف جسٹس سپریم کورٹ نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ یہ ایک جگہ نہیں بلکہ لوگوں کا پیچھا کر کے گھروں میں جا کر قتل کیا گیا؟جس پر سرکاری وکیل نے بتایاکہ ملزمان نے پیچھا کرتے ہوئے تین مختلف جگہوں پر قتل کیے،جس پر ٹرائل کورٹ نے قتل اور دہشتگردی کی دفعات میں ملزمان کو الگ الگ سزائے موت سنائی تھی تاہم ہائیکورٹ نے کیس میں سے دہشتگردی کی دفعات ختم کر کے قتل کی دفعات برقرار رکھیں۔

مزید :

صفحہ اول -