خطے کو جنگ سے بچانے کیلئے مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر

خطے کو جنگ سے بچانے کیلئے مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر

  

اسلام آباد (نیوزایجنسیاں) سینیٹ میں وزارت خارجہ نے وقفہ سوالات کے دوران بتایا کہ جموں و کشمیر کا مسئلہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم جزو ہے، 1971 ء کے بعد اب کی بار مسئلہ کشمیر کو عالمی برادری میں تقویت ملی ہے اور خطے کو جنگ سے بچانے کیلئے مسئلہ کشمیر کو حل کرنا نہ صرف ناگزیر ہوچکا ہے بلکہ عالمی برادری نے خصوصی توجہ بھی دینا شروع کردی ہے۔ تحریری بیان میں وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ ہندوستان کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے لوگوں کے ساتھ اخلاقی ‘ سفارتی اور سیاسی تعاون ہمیشہ جاری رہے گا۔ یہ ہمارا قومی موقف ہے۔ اور وزیراعظم نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اور ہندستان کے درمیان جموں اینڈ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے ۔وفاقی وزیر صحت نے سینیٹ کو بتایا کہ پارلیمنٹرین کے مفت علاج کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں،پمز میں سٹنٹ کی کوئی کمی نہیں گزشتہ روز وقفہ سوالات کے دوران وفاقی وزیر عامر محمود کیانی کا کہنا تھا کہ پولی کلینک میں گزشتہ سال مریضوں کا ٹرن اوور دو لاکھ سے تجاو ز کرگیا جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔ اور اس حوالے سے ہسپتال میں ادویات کی تعداد 58 سے بڑھا کر 187 کردی ہے۔ عامر کیانی نے کہا کہ پولی کلینک میں لیبارٹری اینڈ ریڈیالوجکل ڈائیگناسٹک سہولیات فراہم کرتا ہے 500MAX-ray مشین نصب کردی گئی ہے اور ہسپتال میں کنسٹلٹیشن کے ساتھ ادویات کی فراہمی مفت کی جارہی ہے جبکہ پمز میں کوئی بھی مریض اگر آئے وہ علاج کی سہولت کے بغیر واپس نہیں جاتا۔ انہوں نے کہا کہ نوری ہسپتال اٹامک انرجی کمیشن کا ہے اس پر حکومتی دسترس نہیں ہے۔ ڈریپ میں کوئی ایسا آفیسر موجود نہیں جن کے خلاف نیب یا کسی اور عدالت میں مقدمات چل رہے ہوں۔ سینیٹ اجلاس کورم پورا نہ ہونے پر ایجنڈا مکمل کئے بغیر آج بروز بدھ تین بجے تک ملتوی کردیا گیا‘ گزشتہ روز سینیٹر شیری رحمان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں سمندری حدود میں بھارتی آبدوز آنے کی خبر ہے اور اس حوالے سے وزارت خارجہ نے کوئی موقف نہیں دیا۔ وزارت خارجہ کی جانب سے وفاقی وزیر پلاننگ خسرو بختیار نے ایوان کو بتایا کہ آئی ایس پی آر اور وزارت خارجہ اس ایشو پر ایک مشترکہ پریس ریلیز آج شام تک یا کل جاری کردیں گے ۔وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے سینیٹ کو بتایا کہ یونیورسٹیز ایک خود مختار فورم ہیں اور ان کے فیصلوں میں حکومت مداخلت نہیں کرتی۔ گزشتہ روز وقفہ سوالات کے دوران سینیٹ میں وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پشاور میں یونیورسٹی میں موجود کنٹینوں کا کرایہ دس ہزار کے قریب تھا تاہم موجودہ حکومت نے ایک کنٹین کا ٹھیکہ ایک لاکھ 98 ہزار روپے میں دیا۔ جو کہ ایک ریکارڈ ہے جس پر سینیٹر بہرہ مند خان تنگی نے کہا کہ کنٹین جتنے زیادہ کرایہ پر ہوگی تو طالب علموں سے اتنی ہی زیادہ رقم وصول کی جائے گی۔ حکومت اپنے فیصلوں میں نظر ثانی کرے اور سستی کنٹین ٹھیکہ پر دے کر طالب علموں کے حالات پر رحم کرے۔ حکومت نے سینیٹ کو بتایا کہ موٹر وے پر سفر کرنے والے ہمسفر موبائل ایپ لوڈ کریں تاکہ آنے والے مسائل کا جلد از جلد ازالہ کیا جاسکے۔ سولر پینل میں سے ناکارہ پینلز کو دوبارہ بحال کردیا گیا ہے اب رات کو تاریکی کا سماں دیکھنے کو نہیں ملے گا۔

سینیٹ

مزید :

صفحہ اول -