قومی اسمبلی ، فیصل وارڈا کے نازیبان پر حکومت اور اپوزیشن میں ڈیڈ لاک

قومی اسمبلی ، فیصل وارڈا کے نازیبان پر حکومت اور اپوزیشن میں ڈیڈ لاک

  

اسلام آباد( سٹاف رپورٹر) قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر آ بی وسائل فیصل واوڈا کی جانب سے نازیبا بیان کے معاملہ پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈلاک پیدا ہو گیا،ساڑھے تین گھنٹے کی تاخیر سے اجلاس شروع ہوتے ہی ملتوی کردیا گیا،مسلم لیگ (ن) اور جمعیت علماء اسلام (ف) نے فیصل واڈا کی رکنیت معطل کرکے اسمبلی کی نشست چھوڑنے کا مطالبہ کردیا،ایوان میں اقلیتی ارکان اسمبلی کی جانب سے فیاض الحسن چوہان کے خلاف احتجاج کیا اور ان کے خلاف قانونی کاروائی کا مطالبہ کر لیا۔منگل کو قو می اسمبلی کا اجلاس ساڑھے تین گھنٹے تاخیر سے سپیکر اسد قیصر کی صدارت میں شروع ہوا۔جو تلاوت قرآن، نعت رسول مقبول اور قومی ترانہ کے بعد دوران اقلیتی ارکان ڈاکٹر درشن،رمیش لعل اور کیسو کھیل داس نے فیاض الحسن چوہان کی جانب سے ہنداؤں کے خلاف دئیے گئے بیانات کے خلاف بیانات پر احتجاج شروع کردیا۔ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے بغیر کسی کاروائی کے اجلاس آج (بدھ) شام 4بجے تک معطل کردیا۔اقلیتی ارکان فیاض الحسن چوہان کے خلاف پلے کارڈز اٹھا کر ایوان میں داخل ہوئے جن پر لکھا گیا تھا کہ ہندو مذہب کی توہین نامنظور اور فیاض الحسن کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان وزیر آ بی وسائل فیصل واڈا کی جانب سے نازیبا بیان کے معاملہ بات چیت جاری رہی اور بات چیت بے نتیجہ ثابت ہوئی۔ ارکان اور میڈیا کے نمائندے اور مہمانوں کی گیلریوں میں موجودلوگ اجلاس شروع ہونے کا انتظار کرتے رہے۔اس دوران وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور وزیر پارلیمانی امور علی محمد خان ایوان میں آئے اور بلاول بھٹو کے پاس گئے اور تھوڑی دیر تک بیٹھ کر بات چیت کی اور پھرسپیکرچیمبرز کی طرف چلے گئے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری ایوان میں تھوڑی دیر انتظار کے بعد واپس چلے گئے جبکہ کے پاکستان پیپلز پارٹی کے راہنما آخر تک ایوان میں بیٹھے رہے۔قومی اسمبلی کا سٹاف بلاول بھٹو کے ساتھ تصاویر بنواتا رہا۔بالآخر ساڑھے تین گھنٹے کے بعد اجلاس شروع ہوتے ہی ملتوی کردیا گیا۔ بعد ازاں قومی اسمبلی اجلاس کے بعد مسلم لیگ (ن) اور جمیعت علماء اسلام کے راہنماؤں کے ہمراہ پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال نے کہا کہ دوروز سے قومی اسمبلی کی کاروائی معطل ہے۔انہوں نے کہا کہ جس نفرت کا پرچار پی ٹی آئی نے کیا جس کے باعث ہمارے رہنماؤں اور ان کے گھروں پر حملے ہوئے ، میرے اوپر قاتلانہ حملہ ہوا ۔یہ مذہب کو نفرت کے پرچار کیلئے استعمال کرتے رہے ۔ ہم اس سیاست پر یقین نہیں رکھتے۔ ایک وزیر نے ہندوبرادری کو تضحیک کا نشانہ بنایا اس وزیر سے استعفیٰ لے لیا گیا ہے۔ ایک اور وزیر جو مسلسل خوشامد کے ذریعے یہاں تک پہنچے ہیں انہوں نے ایسے کلمات ادا کیے ہیں جو کسی بھی مسلمان کیلئے بہت زیادہ قابل اعتراض ہیں ۔ (ن) لیگ نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم مطالبہ کریں گے کہ وہ وزیراستعفیٰ دیں جس شخص نے اس حد تک مبالغہ کیا ہو انہیں اپنی رکنیت سے استعفیٰ دینا چاہیے۔ حکومتی بنچزکے اراکین نے بھی اس موقف کی تائید کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قیادت کا فرض ہے کہ وہ بروقت نوٹس لے ۔ اس موقع پر فیصل واوڈا سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے جے یو آئی (ف) کے رکن قومی اسمبلی مفتی عبدالشکور نے کہا کہ وہ عام نشت پر آیا ہے عام نشت مسلمانوں کی نشت ہے ایسے آدمی کی نشت خود بخود خالی ہوجاتی ہے۔اسپیکر الیکشن کمیشن کو لکھ دے کہ اور دوبارہ اس نشت پر الیکشن کرائے جائیں وہ دوبارہ کلمہ بھی پڑھتا ہے تو اس کی نشت خالی ہوچکی ہے اس نے تمام انبیاء کی توہین کی ہے اس کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ وہ فلور پر آکر توبہ کراور تجدید ایمان کرے۔ ۔دریں اثناء منگل کو قومی اسمبلی میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے تحریری جواب میں بتایا گیا کہ پاکستان کا ہمیشہ موقف رہا ہے کہ افغان مسئلہ کا حل صر ف مذاکرات ہے ،18 سال کی فوجی کارروائیوں میں مطلوبہ نتائج برآمد نہیں ہوسکے،افغان تنازعہ کے باعث پاکستان کو بہت نقصان اٹھانا پڑا ہے، امریکی موقف سے افغان امن عمل میں مثبت پیشرفت ہوئی ہے، دوحہ ،ابو ظہبی میں امن کوششوں کی حمایت کرتے ہیں ،امید ہے مذاکرات نتیجہ خیز ہوں گے ، کوشش کی جا رہی ہے کہ طالبان فائر بندی کریں ،امن کا عمل قدرے تکلیف دہ اور طویل ہو گا ،ہمیں صبر سے کام لینا ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو لاکھوں مہاجرین ، غیر قانونی تارکین وطن ، منفی اقتصادی اثرات اور اربوں ڈالرز نقصان کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ افغان امن کوششوں کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی موقف سے افغان امن عمل میں مثبت پیشرفت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان بات چیت میں ہم نے کردار ادا کیا ہے اور ہم دوحہ اور ابو ظہبی میں ہونیوالی امن کوششوں کی حمایت کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ امید ہے مذاکرات نتیجہ خیز ہوں گے ۔انہوں نے کہا کہ کوشش کی جا رہی ہے کہ طالبان فائر بندی کریں اور نیشنل یونٹ گورنمنٹ سے بات چیت کریں ،اس سلسلے میں شٹل ڈپلومیسی کرتے ہوئے ایران ، افغانستان ، چین ، روس اور قطر کا دورہ کیا گیا۔

قومی اسمبلی

مزید :

صفحہ اول -