پولیس ہویاکوئی اورمحکمہ ،اپنی غلطی کومانناچاہیے

پولیس ہویاکوئی اورمحکمہ ،اپنی غلطی کومانناچاہیے
پولیس ہویاکوئی اورمحکمہ ،اپنی غلطی کومانناچاہیے

  

شہر لاہورمیں پولیس کے اعلیٰ افسران کی جانب سے افسران و اہلکاروں کو شہریوں سے اخلاق سے پیش آنے اور تھانوں میں آئے سائلوں سے ہرممکن تعاون کرنے کا حکم دینا کوئی نئی بات نہیں لیکن اعلیٰ افسران کی جانب سے شہریوں کو آسانیاں اور سہولتیں بہم پہنچانے کی کوشش کو پولیس میں شامل کالی بھیڑیں کامیاب نہیں ہونے دیتیں جس کی وجہ سے شہریوں اور ان کے درمیان فاصلے کم ہونے اور ان کے درمیان ایک اچھی ہم آہنگی کی تمام کوششیں ان کالی بھیڑوں کی وجہ سے رائیگاں چلی جاتی ہیں اور تقریباً روزانہ کی بنیادوں پر کالی بھیڑیں ایسے ایسے کارنامے سرانجام دے جاتے ہیں جس کی وجہ سے اس ادارے میں اچھی شہرت کے حامل افسران و اہلکاروں کو خفت اٹھانی پڑتی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ پولیس کی بدنامی کو نیک نامی میں تبدیل کرنے کے لئے لاہور میں تعینات ہونے والے ایڈیشنل آئی جی بی اے ناصر ،ڈی آئی جی وقاص نزیر اور ڈاکٹر انعام وحید نے اپنے عہدوں پر براجمان ہوتے ہی دن اور رات گئے جہاں انہوں نے ڈیوٹی سے ہٹ کر دیگر سرگرمیوں میں ملوث افسران و اہلکاروں کو سزا دی تو چاق و چوبند عملے کو جزاء دیتے ہوئے انہیں تعریفی اسناد اور نقد انعامات سے بھی نوازا، جو یقیناً ان افسران وا ہلکاروں کے لئے ایک بہت بڑے اعزاز کی بات تھی۔ پولیس چیف کی جانب سے اس حوصلہ افزائی سے ان کے دلوں میں عوام کی خدمت اور دیگر امور کو نمٹانے کی لگن نے دوچند کردیا گیا۔لاہور پولیس کے سر براہ کی جانب سے پولیس ڈپارٹمنٹ میں اپنی جانب سے کی جانے والی کوششیں یقیناً لائق تحسین ہیں۔

لاہور پو لیس کی یہ تمام کاوشیں دوسرے افسران و اہلکاروں کے لئے بھی ایک مثال ہوں گی، کہ اچھا کرو گے تو انعام پاؤگے اور غلطی پر معطلی بھی ہوسکتی ہے، لیکن پولیس میں شامل ان کالی بھیروں پرافسران کی کاوشوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا اور وہ دن رات غیرقانونی دھندوں کی سرپرستی اور رشوت کا بازار گرم رکھے ہوئے ہیں جو خبر کی شکل میں زبان زد عام رہتی ہے۔

پولیس کے ما تحتوں کے بارے میں فرانزک رپورٹ سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ کراچی میں پولیس اور ڈاکوؤں کے مابین ہونے والے مقابلے میں جاں بحق ہونے والی میڈیکل کی طالبہ نمرہ پولیس کی گولی کا شکار ہوئی تھی۔ اس سے قبل پولیس نے اس کا انکار کیا تھا کہ مرحومہ نمرہ پولیس کی اندھا دھند فائرنک کا شکار ہوئی ہے اور انہوں نے اس کا الزام ڈاکوؤں پر لگادیا تھا۔

یہ ایک روایت بن گئی ہے کہ پولیس ہو یا کوئی اور محکمہ ، اپنی غلطی کو ماننے پر راضی نہیں ہے۔ اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ ان محکموں کے اعلیٰ افسران اپنے اہلکاروں کا ہر صورت میں تحفظ کرتے ہیں جس کی وجہ سے اصلاح ناممکن ہوگئی ہے۔ کچھ ایسا ہی ساہیوال کے سانحے میں ہوا کہ سی ٹی ڈی کے اعلیٰ حکام اپنے اہلکاروں کی پشت پناہی کے لیے ڈٹ گئے ہیں۔

اگر اعلیٰ حکام یہ تسلیم کرلیں کہ نمرہ اور ساہیوال کیس میں غلطی پولیس اہلکاروں کی ہے تو پھر اس کی درستی کے لیے قدم اٹھایا جاسکتا ہے اور پولیس اہلکاروں کی تربیت بھی از سر نو کی جاسکتی ہے۔ اگر ایک دفعہ نااہل پولیس اہلکاروں کو سزا مل جائے تو دیگر محتاط ہوجائیں گے بصورت دیگر ایسا ہی ہوتا رہے گا۔

مزید :

رائے -کالم -