’’تم چلے ہو تو کوئی روکنے والا بھی نہیں ‘‘

’’تم چلے ہو تو کوئی روکنے والا بھی نہیں ‘‘
’’تم چلے ہو تو کوئی روکنے والا بھی نہیں ‘‘

  

تجزیہ :قدرت اللہ چودھری

اچھا ہوا وزیراعظم عمران خان نے خود کہہ دیا کہ وہ اپنے آپ کو نوبل انعام کا حقدار نہیں سمجھتے بلکہ یہ اس رہنما کو ملنا چاہئے جو مسئلہ کشمیر حل کرائے، ورنہ تو ان کے پرجوش حامی اس بات پر تل گئے تھے کہ انہیں نوبل انعام دلوائے بغیرنہیں ٹلیں گے۔ اب شاید وہ قرارداد بھی قومی اسمبلی میں پیش نہ ہو جس میں وزیراعظم کے لئے نوبل انعام کا مطالبہ کیا جانا تھا اور جس کی خاطر اپوزیشن جماعتوں سے رابطے بھی کئے جا رہے تھے، اگرچہ اس وقت حکومت اور اپوزیشن میں چاند ماری کا وقفہ ہے اور اس کی وجہ بھارت کے ساتھ کشیدگی ہے لیکن اس کے باوجود تھوڑی بہت ٹھوں ٹھاں تو لگی رہتی ہے۔ خصوصاً بعض وزراء تو مخالفوں کو رگیدنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ جس طرح فیاض الحسن چوہان روزانہ کی بنیاد پر کوئی نہ کوئی متنازع بیان دینا اپنا فرض منصبی سمجھتے تھے وہ جب سے وزیر بنے تھے مخالفوں کے بارے میں ان کا لب و لہجہ تلخ تر ہوتا جا رہا تھا۔ غالباً انہوں نے سوچ لیا تھا کہ وزارت ان کے پاس ہمیشہ رہے گی اور ان کے مخالفین بھی آنے والے وقت کے لئے مستقل راندہ درگاہ ہوگئے ہیں۔ حالانکہ سیاست وہ بزم ناز ہے جہاں سے بعض اوقات اپنوں کو بھی غیر سمجھ کر اٹھا دیا جاتا ہے لیکن فیاض چوہان ہوا کے جس گھوڑے پر سوار تھے اس سے اترنے کے لئے آمادہ ہی نہیں تھے وہ کبھی فن کاروں کے نام لے کر لتے لیتے تو کبھی صحافیوں سے الجھ پڑتے، میاں نوازشریف اوران کے خاندان کی مذمت کرتے کرتے انہوں نے پوری کشمیری برادری ہی کو لتاڑنا شروع کردیا۔ حمزہ شہبازشریف کے متعلق ببانگ دہل کہا کہ وہ ملک سے بھاگ گئے ہیں۔ اب واپس نہیں آئیں گے، لیکن حمزہ شہباز اپنے پروگرام کے مطابق واپس بھی آچکے ہیں اور سیاست میں سرگرم بھی ہیں۔ یہی بات مخالفین نے میاں نواز شریف کے بارے میں بھی کہی تھی لیکن سزا پانے کے باوجود وہ واپس آئے اور اب جیل کی سختیاں جھیل رہے ہیں، صحت ان کی خراب ہے تازہ اطلاع یہ ہے کہ انہیں جیل میں انجائنا کا اٹیک ہوا ہے، لیکن اس آزمائش نے ان کے قدم ڈگمگائے نہیں ہیں، مخالفین تو ان کی مرحومہ اہلیہ کے بارے میں بھی کہا کرتے تھے کہ وہ بیمار نہیں ہیں بس لندن میں رہنے کے لئے بیماری کا بہانہ بنایا گیا ہے یہ تک کہا گیا کہ جس ہسپتال کا نام لیا جا رہا ہے اس نام کا تو کوئی ہسپتال ہی نہیں، بات ہو رہی تھی فیاض چوہان کی جنہوں نے نوازشریف اور ان کے خاندان کے خلاف روزانہ بیان بازی کرتے کرتے ایک دن کشمیریوں کو بھی رگید ڈالا، شدہ شدہ بات یہاں تک پہنچ گئی کہ وہ ہندوؤں کے خلاف بھی شعلہ نوائی کر بیٹھے، یہ جانے بغیر کہ پاکستان میں ہندو برادری بڑی تعداد میں موجود ہے اور پاکستان کی وفادار ہے، ویسے تو ان کے متنازع بیانات کا ایک انبار پہلے سے موجود تھا لیکن لگتا ہے ہندوؤں کے متعلق ان کا تازہ بیان اونٹ کی کمر پر تنکا ثابت ہوا اور ان سے استعفا لے لیا گیا، اب وہ کہتے ہیں یہ عمران خان کی امانت تھی جو انہوں نے واپس لے لی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جب تک یہ ’’امانت‘‘ ان کے پاس رہی انہوں نے اس کی حفاظت میں سخت کوتاہی کیوں برتی اور صوبے کا وزیر بن کر یہ کیسے سمجھ لیا کہ یہ ان کی کسی ایسی لیاقت کا صلہ ہے۔ جو کسی دوسرے کے پاس نہیں، وہ اگر واقعتاً وزارت کو عمران خان کی امانت سمجھتے تو ان کا رویہ مختلف ہونا چاہئے تھا، لیکن وہ ایک تنازعے سے نکلتے تو دوسرے میں الجھ جاتے۔ پریس کانفرنسوں اور تقاریب میں صحافیوں سے بھی تلخی پر اتر آتے اور میڈیا کو ’’مشورے‘‘ دینے لگتے۔ ایک پریس کانفرنس میں تاخیر سے پہنچے تو رپورٹر جا چکے تھے، ان کا سٹاف البتہ موجود تھا اسی کو لتاڑنا شروع کردیا، یہ اطلاعات بھی تھیں کہ سٹاف کے ساتھ ان کا رویہ اکثر وبیشتر غیر شائستگی کی حدوں کو چھونے لگتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اب وہ وزارت کے کوچہ سے بے آبرو ہوکر نکلے ہیں تو ان کی اپنی پارٹی میں بھی کوئی ان کے لئے کلمہ خیر کہنے والا نہیں۔ اگر انہوں نے اپنی وزارت کو اطلاعات کی بجائے تنازعات کی وزارت نہ بنا دیا ہوتا تو آج زیادہ نہیں تو چند لوگ تو ان کے اس انداز سے رخصت ہونے پر تو رنجیدہ ہوتے، لیکن حالت بقول شاعر یہ ہے۔

جانے والوں کو کہاں روک سکا ہے کوئی

تم چلے ہو تو کوئی روکنے والا بھی نہیں

ایسے محسوس ہوتا ہے کہ ہر کوئی اسی دن کا منتظر تھا، بعض لوگوں کا خیال ہے کہ فیاض جس راستے پر بگٹٹ دوڑے چلے جارہے تھے اس کا انجام اس سے مختلف ہو ہی نہیں سکتا تھا، بعض ستم ظریفوں کا خیال تو یہ بھی ہے کہ حکومت اگر دوسرے اہم معاملات میں الجھی ہوئی نہ ہوتی تو شاید جدائی کا یہ لمحہ بہت پہلے آجاتا۔ اس استعفے میں ان وزراء کے لئے بھی ایک سبق ہے جن کا لب و لہجہ بھی فیاض چوہان سے مختلف نہیں ہے اور وہ بھی غالباً یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ انہیں وزارتیں ان کی کسی خصوصی اہلیت کی بنیاد پر ملی ہیں حالانکہ یہ ایک نگاہ ناز کا انتخاب ہے اور نگاہوں سے گرتے ہوئے دیر ہی کتنی لگتی ہے، اس لئے قبیلہ فیاضیہ کے پسماندگان کے لئے ضروری ہے کہ ان کے پاس ابھی وقت ہے، اس سے پہلے کہ یہ گزر جائے وہ اپنا طرز عمل تبدیل کرلیں۔

کوئی روکنے والا بھی نہیں

مزید : تجزیہ