سکولوں میں موسیقی عام کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہونگی : حافظ نعیم الرحمن

سکولوں میں موسیقی عام کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہونگی : حافظ نعیم الرحمن

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے صوبائی وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ کی جانب سے مقامی ہوٹل میں تقریب سے خطاب میں سندھ کے اسکولوں اور نصاب تعلیم میں موسیقی کو لازمی مضمون کی حیثیت سے شامل کر نے کے اعلان پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ سر کاری اسکولوں میں تہذیب و ثقافت کے نام پر رقص و موسیقی کو عام کر نے اور چھوٹے بچوں کے ذہنوں کو خراب کر نے کی کوششوں اور سازشوں کو ہر گز کامیاب نہیں ہو نے دیا جائے گا ۔وزیر تعلیم موسیقی کی تربیت دینے اور عام کر نے کے مشن پر توجہ مرکوز کر نے کے بجائے کراچی سمیت سندھ بھر میں سر کاری اسکولوں کی بدحالی دور کر نے اور حالتِ زار بہتر کر نے پر توجہ دیں تو بہتر ہے ۔ سرکاری اسکولوں میں معیار تعلیم کو بہتر بناکر ہی سندھ کے اسکولوں میں زیر تعلیم طلبہ کے مستقبل کو محفوظ اور روشن بنایا جاسکتا ہے ۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ صوبائی وزیر تعلیم کی انتہاپسندی کو ختم کر نے کے لیے ثقافتی سر گرمیوں اور رقص و موسیقی کو عام کر نے کی منطق سمجھ سے بالا ترہے ۔ موصو ف کو پتا ہونا چاہیئے کہ رقص و موسیقی نہ صرف اسلامی تہذیب و ثقافت کے خلاف ہے بلکہ اس کا سندھ کی تہذیب و ثقافت سے بھی کوئی تعلق نہیں ۔ سندھ باب الاسلام ہے اور اس خطے میں محمد بن قاسم کے ذریعے سندھ سے ہی اسلام داخل ہوا ۔ سندھ کے عوام برس ہا برس سے اسلام کو اپنا تہذیب اور دین بنائے ہوئے ہیں اور اسلامی ثقافت اور دینی اقدار اور روایات سے گہری اور والہانہ وابستگی رکھتے ہیں ۔ سندھ کے عوام صوبائی وزیر تعلیم کے اس اعلان کو مسترد کرتے ہیں اور کسی صورت میں بھی اسکولوں کے اندر رقص و موسیقی کو قبول نہیں کریں گے ۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ سندھ کے اندر گھوسٹ اسکول اور اساتذہ کا مسئلہ ابھی حل نہیں ہوا ہے اور اطلاعات کے مطابق اندرونِ سندھ بڑی تعداد میں سرکاری اسکول ایسے ہیں جہاں وڈیروں اور جاگیرداروں کی اوطاقیں بنی ہوئی ہیں اور بچے اور بچیاں تعلیم سے محروم ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی صوبائی وزیر تعلیم کے اس اعلان کے حوالے سے سندھ اسمبلی کے اندر بھی آواز اُٹھائے گی اور سندھ کے عوام کے احساسات و جذبات کی ترجمانی کرے گی ۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -