ادب کا عالمی ورثہ ترجمے سے ہی منتقل ہوتا ہے ،غاز ی صلا ح الدین

ادب کا عالمی ورثہ ترجمے سے ہی منتقل ہوتا ہے ،غاز ی صلا ح الدین

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر) آرٹس کونسل میں بزم یاور مہدی کے تعاون سے امریکہ میں مقیم معروف صحافی ادیب ، مترجم ظفر قریشی سابق سیکریٹری کراچی پریس کلب کی ’’عالمی کہانیاں ولیم 2 & 3‘‘ کی تقریب رونمائی سے صدر محفل غازی صلاح الدین نے کہا کہ ادب کا عالمی ورثہ ترجمے سے ہی منتقل ہوتا ہے اگر ترجمہ نہ ہوتو عالمی ادب موجود ہی نہیں رہے گا۔ ظفر قریشی نے اسی عہد کے مختلف معاشروں میں لکھی جانے والی کہانیاں اُردو میں منتقل کرکے بڑا کام کیا ہے۔ انہیں ایک زبان کی نغمگی یا کاٹ دوسری زبان میں منتقل کرنے کا فن آتا ہے ۔ میں آج صدر محفل تو ہوں مگر میر محفل یاور مہدی ہی ہیں۔ پروفیسر انوار احمد زئی نے کہا کہ انہوں نے اُن عالمی کہانیوں کو چنا ہے جو آنے والے وقت میں بڑے قلمکاروں کی کہانیاں کہلائیں گی ۔ ڈاکٹر شاداب احسانی نے کہا کہ انہوں نے جو کام کیا ہے وہ بڑے جنوں اور ہمت کا کام ہے ہمیں اب پاکستانی بیانیے کو بھی آگے بڑھانا ہوگا۔ اخلاق احمد نے کہا کہ ترجمہ ایک پل ہوتا ہے جو دوتہذیبوں کو ملاتا ہے انکی بیشتر کہانیاں تازہ ہیں جو موجودہ عہد کی تصویر ہیں۔ آغا مسعود حسین نے کہا کہ میں جن پانچ لوگوں کی خدمات کا معترف ہوں اُن میں ظفر قریشی بھی شامل ہیں۔ انہوں نے ہمیں دنیا بھر کے تخلیق کاروں کے کام سے آگاہ کیا ہے اور ایک بڑے خطے کو عالمی ادب سے روشناس کرایا ہے جس پر یہ ایوارڈ کے مستحق ہیں۔ انہوں نے مختلف معاشروں کو یکجا کرنے کی اچھی کوشش کی ہے ۔ ناہید سلطان مرزا نے کہا کہ انہوں نے امریکہ میں بھی صحافت کے چراغ جلائے ہیں انکے تراجم کسی تخلیق سے کم نہیں۔ ناظم تقریب ندیم ہاشمی نے کہا کہ یاور مہدی آج بھی پوری توانائی سے علمی، ادبی ٹیلنٹ کو اُجاگر کررہے ہیں، آج کی 146ویں بڑی تقریب جس میں شہر کی قد آور شخصیات موجود ہیں اسکی گواہ ہیں۔ تقریب کی ابتداء سید محمد ابراہیم نے تلاوت کلام پاک سے کی۔ شہزاد احمد نے حمد باری تعالیٰ پیش کی۔ تقریب میں بڑی تعداد میں ارباب علم و ادب کے ساتھ صادقہ صلاح الدین، خواجہ رضی حیدر، یوسف تنویر، عابد رضوی، پروفیسر سلطان احمد، یامین خان، مجاہد مرزا، ضیغم زیدی، شہزاد رفیع، نجم الدین شیخ، علمدار حیدر، فرحت سعید، سلطان نقوی، پروین سلطانہ صباء ، قادر بخش سومرو، مبشر میر، عبدالصمد تاجی نے بھی شرکت کی۔ مہمانوں کیلئے پُر تکلف عشائیہ کا بھی اہتمام کیا گیا۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -