ہن آرام ایہہ مودی !

ہن آرام ایہہ مودی !
ہن آرام ایہہ مودی !

  

مسٹر مودی!

امید ہے میر اخط آپ کے ارمانوں کی اسی طرح گت بنائے گا جس طرح پاک فضائیہ کے طیارے نے بھارتی فضائیہ کے طیارے اور اس کے پائلٹ ابھی نند(جسے پیار سے نندنا کہنے کو جی چاہتا ہے) کی درگت بنائی ہے ۔ تم انتہائی بے شرم اور ڈھیٹ انسان ہو کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدار ہونے کے باوجود اپنی انتخابی کامیابی کو یقینی بنانے کے لئے اپنی ہی جمہور کی زندگیوں کو داؤ پر لگائے ہوئے ہو ، تم سے برا ڈکٹیٹر کوئی کیا ہوگا!

تم اتنے کور مغز ہو کہ یہ بھی نہیں سمجھ سکے ہو کہ فی زمانہ ہاتھیوں کو رکھنے کا دور لد گیا ہے اور آج کے زمانے میں طاقتوں کا پیمانہ وہ نہیں جو پہلے تھا ، تم بس اپنی دشمنی کی آگ میں جل کر اتنے سخت دل ہو چکے ہو کہ اب ہر دل میں بھی نفرت کے بیج بونا چاہتے ہو ، نسلوں کو راکھ کرنا چاہتے ہو تاکہ تمہارے زخموں کی رت ہری رہے ۔ تمہارا دشمنی کا یہ جذبہ ایک ایسے فلسفے پر مشتمل ہے جو کتابوں میں درج نہیں ہو سکتا ہے ۔

تم بھول گئے ہو کہ تمہاری انڈیا میں غربت ناچتی پھرتی ہے ، بھارتی ٹڈے آپس میں بھوک بانٹ کر جیتے ہیں اور وہاں کے بچے اپنی ماؤں کی چھاتیوں سے لگے دودھ کے لئے بلک رہے ہیں، جبکہ وہاں کے نوجوان ڈگریاں ہاتھوں میں تھامے میں بے روزگاری کی چکی پیس رہے ہیں، جبکہ وہاں کے انڈر پیڈ شوہر جب اپنی تنخواہیں اپنی بیویوں کے ہاتھوں پر دھرتے ہیں تو ان کی سسکیاں نکلتی ہیں اور ان کے بچوں کی خواہشیں بلکتی ہیں تو ان کی اس بے بسی و لاچارگی کے عینی شاہد گھر کے درودیوار ہوتے ہیں جو پتھر ایسی آنکھوں سے انہیں تکتے رہتے ہیں۔ تمہارے دیس میں بچیاں جہیز نہ ہونے کے سبب ٹھوڑیاں ہتھیلی پر ٹکائے بیٹھی ہوئی ہیں، جبکہ وہ لڑکے کب کے باپ بن چکے جن سے ان کو عشق تھا تو دوسری جانب اپنے ملک کی بدقسمتی دیکھو کہ تمہارے نوجوان دیار غیر میں سہانے دنوں کے خواب آنکھوں میں سجائے غیروں کی چاکری کرتے ہیں، جبکہ اپنی مٹی سے دوری کا کرب انہیں دن رات کچوکے لگاتا ہے اور وہ آنسوؤں کو پیتے ، تالیاں بجاتے ہجرتوں اور دوری کے گیت گاتے رہتے ہیں، لیکن ان کے گھروں میں موجود ضروری کام اس قدرلمبے ہوتے جاتے ہیں کہ ان کے لئے واپسی ناممکن رہتی ہے۔

مسٹر مودی!

یہ تمہاری بدقسمتی ہے کہ تم چین سے جینا اور امن کے نغمے گنگنانا بھول چکے ہو ، تمہیں تمہاری میں کھا گئی ہے ۔ اگر تم باز نہ آئے تو بہت جلد ہندوستان کی اقلیتیں اکٹھی ہو کر آزادی کی مانگ کردیں گی اور تمہارے ہاتھ سے ہندوستان یو ں نکل جائے گا جس طرح کبھی چائے کے برتن تمہارے ہاتھ سے گر کر ٹوٹ جاتے ہوں گے۔ دھرم کی رٹ لگاتے لگاتے اب تم خود کو گاؤ ماتا تصور کرنے لگے ہو اور اپنے خیالی سینگوں سے آسمان سر پر اٹھائے پھرتے ہو اور تمہاری آنکھوں کے کٹورے لال نظر آتے ہیں ۔ اس سے قبل بھی تم نے گجرات میں ہمارے مسلمان بھائیوں کا خون کیا تھا، آگ کا کھیل رچایا تھا اور ان کے زندہ جسموں کو ان میں بھونا تھا ، تم سے قدرت نے ابھی حساب لینا ہے، لیکن اگر تم نے پاکستان کی جانب میلی آنکھ سے دیکھا تو ہم تمہاری آنکھوں کو ایسا ملائیں گے کہ تم دیکھو کے کہیں اور نظر کہیں آئے گا۔ اس لئے اپنی قبیح حرکتوں سے باز آؤ اور ہمارے شیروں کو مت جگاؤ ، وہ تمہاری تکا بوٹی ایک نہ کردیں۔

تمہارا ہمسایہ

آخر میں پاکستانی قارئین کے لئے ایک تازہ نظم

ہم نظریۂ پاک کی حرمت کے امیں ہیں

ہم اہلِ نظر صاحبِ ایمان و یقیں ہیں

ہم امتِ لولاک کی تابندہ جبیں ہیں

ہم رفعتِ انسان کی سطوت کے نگیں ہیں

ہم قائد و اقبال کے خوابوں کے امیں ہیں

افلاک میں اڑتے ہیں نگہدارِ زمیں ہیں

ہم ملکِ خداداد کی عزت کے محافظ

اک ہجرتِ جاں سوز ہم آئے گزر کر

ہم پختہ فہم، دم ہمہ دم، بندہء دیں ہیں

حقدار و زمیندار و جہاندار ہمیں ہیں

ہم عزم سے سرشار ہیں عجلت میں نہیں ہیں

ہوشیار ہیں، بیدار ہیں ، غفلت میں نہیں ہیں

آزادی کی نعمت سے ہمیں اُس نے نوازا

کم مایہ کسی طور بھی نعمت میں نہیں ہیں

ہم نظریۂ پاک کی حرمت کے امیں ہیں

ہم اہلِ نظر صاحبِ ایمان و یقیں ہیں

مزید :

رائے -کالم -