خیبر پختونخوا کے پہلے ستیٹ آف دی آرٹ برنراینڈ پلاسٹک سرجری کا افتتاح ، غریب کے دکھوں کا مداوا ، حق انصاف کا بول بالا کرنے آئے ہیں : وزیر اعلٰی محمود خان

خیبر پختونخوا کے پہلے ستیٹ آف دی آرٹ برنراینڈ پلاسٹک سرجری کا افتتاح ، غریب ...

  

پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے ملک کا سب سے بڑے اور خیبرپختونخوا کا پہلا سٹیٹ آف دی آرٹ برنز اور پلاسٹک سرجری ہسپتال کاآج باقاعدہ افتتاح کر دیا ہے جوکہ 120بیڈز پر مشتمل ہے جس میں 60بیڈز آگ سے جھلسنے والے مریضو ں اور 60بیڈز مختلف وجوہات کیوجہ سے ٹراما کے شکارمریضوں کے لئے مختص کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ برنز اور پلاسٹک سرجری سنٹر جدید آلات سے لیس ہوگا اور اس سنٹر میں مریضو ں کو تمام ترطبی سہولیاب مہیا کی جائیں گی۔یہ سنٹر جدید لیبارٹریز ، آپریشن تھیٹرز، پلاسٹک سرجریزاور دیگر تمام تر جدید طبی سہولیات سے آراستہ کیا گیا ہے۔ جہاں پر آگ اور مختلف حادثات میں جھلسنے والے مریضوں کے علاج کے لئے یہ سنٹر خیبرپختونخوا کا پہلا طبی مرکز ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اس سنٹر میں تمام تر سہولیات ایک چھت کے نیچے میسر ہوگی۔جھلسنے اور اس قسم کے مریضوں کو اب اسلام آباد یا کاریاں علاج کے لئے نہیں جانا پڑے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج حیات آباد میں برن اینڈ پلاسٹک سرجری ہسپتال کے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب میں وزیر صحت ڈاکٹر ہشام انعام اللہ ،وزیر مواصلات و تعمیر ات اکبر ایوب،ڈسٹرکٹ ناظم ارباب عاصم، صوبائی اراکین اسمبلی ، سیکٹری ہیلتھ فاروق جمیل ، سیکٹری سی اینڈ ڈبلیو، سیکٹری ریلیف ، ڈی جی پی ڈی ایم اے ، ڈائیریکٹر برن اینڈ پلاسٹک سرجری سنٹر حیات آباد ڈاکٹر محمد طاہر ، ڈائیریکٹر پی جی ایم آئی پروفیسر محمد اورنگزیب ودیگرمتعلقہ حکام نے شرکت کی۔ وزیراعلیٰ نے برن اینڈ پلاسٹک سنٹر کے مختلف وارڈزاور آپریشن تھیٹر کا معائنہ کیا جہاں پر ان کو مختلف آلات اور ہسپتال کے نظام پر بریفنگ دی گئی۔ وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ سنٹر میں ٹوٹل آٹھ جدید آپریشن تھیٹر ہیں جس میں چھ آپریشن تھیٹر مکمل طور پر فعال ہیں اور باقی دو بہت جلد فعال ہو جائیں گے۔ وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ یہ سنٹر مکمل طور پر کمپیوٹرائز ہے۔ بنوں ، کوہاٹ ، افغانستان، ایبٹ آباداور مٹہ میں اس سنٹر کی ذیلی شاخیں کھولی گئی ہیں اور یہ سنٹر چوبیس گھنٹے ان ذیلی سنٹرسے منسلک ہوگا۔ اس سنٹر میں ویڈیو کانفرنسنگ کی سہولت بھی موجود ہے جس کے ذریعے ذیلی سنٹر ز کو کسی بھی قسم کی معاونت براہ راست فراہم کی جاسکتی ہے۔ اسی طرح افغانستان اور دوسرے ذیلی سنٹرز میں ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے پلاسٹک سرجنز کو ٹریننگ دی جائیگی۔ مزید بتایا گیا کہ اس سنٹر میں ان مریضوں کا بھی علاج کیا جائیگا جن کے پیدائشی طور پر مختلف جسمانی اعضاء نا مکمل ہو یا بم بلاسٹ اور دوسرے حادثات کیوجہ سے جسمانی اعضاء خراب ہوئے ہو، سنٹر میں ان مریضوں کے جسمانی اعضاء کی بحالی بھی ممکن بنائی جائیگی۔ وزیراعلیٰ کومزید بتایا گیا کہ برن اینڈ پلاسٹک سرجری سنٹر کے ساتھ صوبے کے 26 اضلاع میں مزید 200 ذیلی سنٹرز اٹیچ کرنے کی گنجائش ہے۔ اب تک اس سنٹر میں 2000 سے زیادہ مریضوں کا علاج ہو ا ہے۔ اس سنٹر کے لئے شوکت خانم کے طرز پر فنڈ اکٹھا کرنے کے لئے انتظامی طور پر قدم اٹھائے جائیں گے تاکہ یہاں پر غریب اور مستحق مریضوں کا علاج فری ہوسکے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ملک اس وقت سخت حالات سے گزر رہا ہے ۔ بھارت اور پاکستان کے حالات انتہائی تناؤ ں کا شکار ہے پوری قوم اس وقت متحد ہے۔ ہم نے صوبے کے اقتصادی حالت کو مزید بہتری کیطرف لے کر جانا ہے۔ صوبائی حکومت کی کوشش ہے کہ جتنے بھی اس جیسے منصوبے اور تعمیرات ہیں انہیں بروقت مکمل کر سکے اور ان کو تمام تر سہولیات کی فراہمی ممکن بنا سکے۔انہوں نے کہا کہ یہ برنز اینڈ پلاسٹک سرجری سنٹر کا قیام تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے سو روزہ ایجنڈہ میں شامل تھا جو کہ آج پایہ تکمیل تک پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے ان کو ہدایت کی ہے کہ سب سے پہلے غریب کا سوچا کریں۔ ہماری حکومت نے غریب کے لئے زیادہ سے زیادہ بہتر مواقع فراہم کرنا ہے۔ تحریک انصاف کا نعرہ بھی یہی تھا کہ غریب کے لئے مفت سہولیات فراہم کریں گے۔ پانچ سال گزرنے کے بعد عوام کو پتہ چلے گاکہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے ہر شعبے اور خاص طور پر تعلیم اور صحت میں سنگ میل طے کئے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اور دیگر سٹاف کی کمی کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کیا جاسکے۔ تحریک انصاف کی حکومت کا کوئی ذاتی مفاد نہیں ہے ہم اداروں کو ٹھیک کرنے آئے ہیں اور اپنی عوام کے لئے کچھ کرنے کا ارادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کی اقتصادی حالت مستحکم کرنے جارہے ہیں اور بہت جلد تمام اضلاع میں صحت اور دیگر شعبوں کے لئے فنڈز کی فراہمی ممکن بنائی جائیگی۔انہوں نے برن اینڈ پلاسٹک سرجری ہسپتال کے حکام کو یقین دلایا کہ اس سنٹر کی ضروریا ت کو پورا کرنے کے لئے صوبائی حکومت ہرممکن مدد فراہم کریں گی۔ یہ ہسپتال پورے ملک میں اپنی نوعیت کا ماڈرن یونٹ ہوگا جس میں آپریشن تھیٹرز اور دوسرے سیکشنز بھی ماڈرن ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں برن سنٹر کی عدم موجودگی کے باعث آگ سے شدید جھلسنے والے مریضوں کو دوسرے صوبوں کے برن یونٹس میں منتقل کیا جاتا تھا تاہم اب پشاور میں اس سنٹر کی تعمیر سے صوبے میں ایسے حادثات کے زخمیوں کے لئے آسانی اور سہولت ہو گی۔ صوبائی حکومت نے امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی کی فنڈنگ سے نومبر 2017میں اس منصوبے پر کام شروع کیاتھا اور ایک سال کی مختصر مدت میں یہ منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا۔ اس سنٹرکے قیام سے نہ صرف صوبائی حکومت کو ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے بلکہ اس سے خیبرپختونخوا ، قبائلی اضلاع اور ہمسایہ ملک افغانستان کے لوگ بھی مستفید ہوں گے۔برن سنٹر میں آئی سی یو کی سہولیات بھی موجود ہے جبکہ بچوں اور خواتین کے لئے بھی بیڈز مختص کئے گئے ہیں۔ تقریب کے دوران امریکہ کے قونصل جنرل نے اپنے ویڈیو پیغام میں صوبہ خیبرپختونخوا کے عوام اور وزیراعلیٰ کو برن اینڈ پلاسٹک سرجری سنٹر کے افتتاح پر مبارکباد دی اور صوبائی حکومت کے اس اقدام کی تعریف بھی کی۔ اس موقع پرمیڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ آج صوبے میں واحد اور منفرد برن اور پلاسٹک سرجری سنٹر کا باقاعدہ افتتاح کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم میڈیا کی مثبت تنقید کی تائید کرتے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ میڈیا اچھے کاموں میں صوبائی حکومت کا ساتھ دیں گا اور منفی پروپیگنڈا سے اجتناب کریں گا۔وزیراعلیٰ نے برن اینڈ پلاسٹک سرجری سنٹر کے قیام میں بہتر خدمات پر مختلف محکموں کے عہدیداروں میں سرٹیفیکیٹس اور شیلڈ بھی تقسیم کئے۔

پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ سیاست اور سیاسی جدوجہد معاشرے کے غریب طبقے کو اُٹھانا ، حقدار کو حق دینا اور اس کا مقصد ، معاشرے میں عدل و انصاف پر مبنی نظام قائم کرنا، غریبوں کے دکھوں کا مداوا کرنا اور پورے معاشرے اور قوم کے کاز کو آگے بڑھانا ہے ۔ صوبے اور ملک کی موجودہ صورتحال اور فاٹا کے انضمام کے تناظر میں متعدد مشکلات اور چیلنجز کا سامنا ہے ۔ صوبائی حکومت میرٹ اور شفافیت پر سمجھوتہ نہیں کرے گی ۔ حق و انصاف کا بول بالا ہو گا ۔ حکمرانی کے شفاف نظام کے ذریعے لوگوں کے حقوق و اگزار کئے جائیں گے ۔ قوم کو چیلنجز اور مشکلات سے نکالنے کیلئے حکمت سے کام لیا جائے گا ۔ عمران خان نے ملک میں مثبت سیاست کی بنیاد رکھی ۔ حکومتی اختیار کو ذمہ داری کے ساتھ غریب اور لاچار لوگوں کو ریلیف دینے کے لئے استعمال کیا جائے گا۔وہ آج یہاں وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں انصاف یوتھ فیڈریش کے 150 رکنی وفد سے خطاب کررہے تھے ۔ وزیرزراعت و لائیو سٹاک محب اﷲبھی اس موقع پر موجود تھے جبکہ آئی ایس ایف کے سابقہ صدر مینہ خان ، ڈسٹرکٹ پشاو ر کے صدر اشفاق مروت، علامہ اقبال داورڑ اور آئی ایس ایف کے دیگر سرکردہ رہنماوں نے بھی خطاب کیا ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ ماضی کی سیاست خود غرضی اور لالچ پر مبنی تھی انفرادی مفادات کو اجتماعی مفادات پر ترجیح دی جا تی رہی ۔ سیاست کاروبا ر بن چکا تھا۔ غریب پستہ رہا اور امیر اور بااختیار لوگ پورے حکمرانی کے نظام کو مفلوج کر چکے تھے ۔ ادارے ان مراعات یافتہ طبقے کے مفادات کا نگہبان تھے ۔ غریب کا کوئی پرسان حال نہیں تھا اور غریب کے حقوق کا ڈھنڈ ڈور پیٹتے ہوئے حکمرانوں نے غلط حکمرانی کو فروغ دیا جس سے معاشرہ ابتری کی طرف چلا گیا ۔ عدل و انصاف کا نام و نشان مٹ چکا تھا ایسے میں عمران خان نے ایک طویل اور صبر آزما جدوجہد کی ۔ یہ سیاسی جدوجہد ملک کے طول و عرض میں پھیلی غریب اور نوجوانوں نے ملک کی بقاء کیلئے عمران خان کا ساتھ دیا اور اب غریب لاچار ، مایوس اور محروم طبقوں کے حقوق اور ریلیف کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ عمران خان سے جب بھی ملاقات ہوتی ہے وہ غریب کیلئے کام کرنے کی ہدایت کرتے ہیں۔ ہم ایک ایسا معاشرہ بنانے کیلئے کوشاں ہیں جس میں عدل و انصاف اور حقوق کا تحفظ ایک خود کار سسٹم کے ذریعے محفوظ ہو ۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ صورتحال میں حکومت کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے اور فاٹا کی صوبے میں انضمام کی وجہ سے صوبے کو مختلف قسم کی مشکلات اور چیلنجز درپیش ہیں ۔ ہمیں مالی مشکلات کا بھی سامان ہے جو سابقہ حکمرانوں کی غلط حکمرانی کی وجہ سے ہمیں وراثت میں ملیں اور پڑوسی دشمن کی وجہ سے ہمیں مسلسل ٹینشن کا سامنا ہے ۔ہماری پاک فو ج اور قوم کے حوصلے بلند ہیں، یہ ساری مشکلات ہمارے لئے نئے نہیں ، ماضی میں بھی ہم نے مشکل صورتحال کا سامنا کیا اور ملک وقوم کے دشمنوں کو شکست دی اپنی ریزلینس ثابت کی اور دشمن کو اپنی ناقابل تسخیر ہونے کا پیغام دیا اور ایک بار پھر ہمیں للکارنے والے ریت میں سر رکھ کر واویلا کر رہا ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ حکمرانی کے پورے عمل میں میرٹ اور شفافیت کا عنصر نمایاں ہو گا۔ اختیارات کو ذمہ داری سے استعمال کرنے کی روایت ڈال چکے ہیں ۔ حق و انصاف کا بول بالا کر رہے ہیں ۔ ایک ایسے معاشرے کی تشکیل چاہتے ہیں جس میں کوئی مراعات یافتہ طبقہ غریبوں کی مشکلات پر سیاست نہ کرسکے اور نہ غریبوں کا استحصال ہو ۔ ہمیں مشکل صورتحال سے نکلنے کیلئے حکمت و دانش کی ضرورت ہے ۔ ملک کو ترقی اور خوشحالی کی راہیں تلاش کر لی ہیں ۔ عمران خان نے سٹیٹس کو کی قوتوں کو لگام لگا دی ہے ہم پروپیگنڈے اور منفی سیاست کو دفن کرکے چھوڑیں گے ۔ ریلیف دینا ہمارا فرض ہے ۔ یہی ہمارے منشور اور پورے سیاسی جدوجہد کا محور ہے ۔انہوں نے آئی ایس ایف کی نمایاں کردار پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ہمیں اپنی یوتھ پر ناز ہے ۔ ہماری یوتھ نے عشروں کے اُن دیواروں میں شگاف کر دیا ہے جو مراعات یافتہ اور سٹیٹس کو کی قوتوں نے اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے تعمیر کئے تھے ۔ انہوں نے نوجوانوں سے کہاکہ وہ مثبت سیاست کے ساتھ ساتھ اپنی تعلیم پر توجہ مرکوز رکھیں ۔ آپ کے والدین اپنے وسائل کو آ پ کی کامیابی پر خرچ کر تے ہیں کیونکہ آپ کی کامیابی ملک و ملت کی اجتماعی مستقبل اور منزل ہے ۔ نوجوان نسل کو سسٹم میں پورا حصہ ملے گا اور یہ پورا عمل شفاف ، غیر جانبدار اور اہلیت کی بنیاد پر ہو گا۔ ہماری خواہش ہے کہ دُکھ اور تکالیف برداشت کرنے والوں کے زخموں پر مرہم رکھیں ۔ میں خود پاٹا سے ہوں اور فاٹا کے لوگوں کے مسائل ، دُکھ اور درد اور تکالیف سمجھتا ہوں۔ وزیراعظم وقتاً فوقتاً مجھے عوام کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اور مشکلات کا تدارک اور خاتمے کی ہدایت کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ نوجوان نسل کو حکمرانی کے پورے عمل میں اُن کی اہلیت کے مطابق حصہ دیا جائے گا۔ یونیورسٹی کے واقعہ کی رپورٹ پہنچ چکی ہے اس کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد میرٹ اور انصاف پر فیصلہ کروں گا۔ گورنمنٹ کالج کے مسائل کا حل نکالیں گے ، میرٹ اور شفافیت ہمارے منشور کا حصہ ہے اور حقدار کو حق دے کر رہیں گے تاکہ وہ طویل اور صبر آزما جدوجہد جو سماجی ناانصافی کرپشن کے خلاف شروع کی گئی تھی اس کو کامیاب کیا جا سکے ۔ وزیراعلیٰ نے آخر میں پی ایس ایف کے عہدیداروں کو سر ٹیفکیٹ دیئے ۔

مزید :

صفحہ اول -