برن سنٹر کا افتتاح حکومت کی ڈویتی کشتی کو سہارا دینے کی ناکام کوشش ہے : میاں افتخار

برن سنٹر کا افتتاح حکومت کی ڈویتی کشتی کو سہارا دینے کی ناکام کوشش ہے : میاں ...

  

پبی ( نما ئندہ پاکستان) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ پشاور میں برن سنٹر کا افتتاح حکومت کی ڈوبتی کشتی کوسہارا دینے کی ناکام کوشش ہے ، منصوبہ اے این پی کے دور میں شروع کیا گیا لیکن 2013میں مسلط کی گئی حکومت نے اس پر کام بند کر دیا، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ 2011ء میں اے این پی کی صوبائی حکومت کے احکامات کے مطابق صوبے کے پہلے برن اینڈ ٹراما سنٹر پر کام کا آغاز کیا گیااور اس سلسلے میں سنٹر کے سول ورکس کے لیے پی ڈی ایم اے ،پا رسا اور امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی یو ایس ایڈ کے درمیان 647 ملین کا معاہد ہ طے پایا جبکہ معاہد ہ کے تحت سول ورکس میں بجلی و گیس کی ترسیل سمیت مختلف مشینری کی تنصیب عمل میں لائی جانی تھی۔انہوں نے واضح کیا کہ اس سے قبل اے این پی نے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں برن یونٹ کا آغاز کیا اور اس میں تمام سہولیات فراہم کی گئی تھیں، لیکن بدقسمتی سے پی ٹی آئی کی سابق صوبائی حکومت نے اس منصوبے کو سرد خانے کی نذر کر دیا اور پانچ سال اس پر کوئی کام نہیں کیا گیا، انہوں نے کہا کہ برن سنٹر ہسپتال کی عمارت میں دراڑیں پڑ چکی ہیں اور مشینری زنگ آلود ہو چکی ہے ، جس پر ہسپتال میں بھرتی کئے گئے ڈاکٹروں نے تحفظات کا اظہار کر دیا ہے،انہوں نے کہا کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں صحت کا شعبہ زبوں حالی کا شکار ہو چکا ہے اور سب سے زیادہ بجٹ مختص کرنے کے باوجود ہسپتالوں میں مریض کو بیڈ دستیاب نہیں،انہوں نے کہا کہ صوبے میں صحت اصلاحات کے دعوی تو کئے گئے لیکن اب بھی ہسپتالوں میں چار ہزار ڈاکٹروں اور ایک لاکھ نرسوں کی کمی کا سامنا ہے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ موجودہ حکومت ہمارے ان منصوبوں کی طرح مزید منصوبے شروع کرے لیکن پی ٹی آئی اپنی اسی پالیسی پر گامزن ہے کہ پرائے منصوبوں پر تختیاں لگائے ، پی ٹی آئی نے جتنے بھی منصوبے اپنے دور حکومت میں شروع کئے ان کی حالت بی آر ٹی جیسی ہے۔

مزید :

صفحہ اول -