پاکستان میں جس مدرسے کو بھارت نے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، عالمی میڈیا نے اس کی بھی سیٹلائٹ تصاویر جاری کردیں

پاکستان میں جس مدرسے کو بھارت نے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، عالمی میڈیا نے اس ...
پاکستان میں جس مدرسے کو بھارت نے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، عالمی میڈیا نے اس کی بھی سیٹلائٹ تصاویر جاری کردیں

  

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت نے پاکستانی شہر بالاکوٹ میں شدت پسندوں کا ٹریننگ کیمپ تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا لیکن بمباری کی جگہ پر کسی ٹریننگ کیمپ کی تو موجودگی ہی ثابت نہیں ہو سکی تاہم ایک دینی مدرسہ وہاں ضرور تھا اور اس مدرسے کے متعلق بھی عالمی خبررساں ایجنسی رائٹرز نے سیٹلائٹ سے حاصل کردہ تصاویر کے ذریعے ایسی حقیقت دنیا کو دکھا دی ہے کہ اس سارے قضیے کے ہنگام بھارت کے ہاتھ شرمساری کے سوا کچھ آیا نہ آئے گا۔ رائٹرز نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ جس جگہ پر بھارتی فضائیہ نے بم گرائے وہاں ایک دینی مدرسہ موجود تھا تاہم بم اس مدرسے سے کافی فاصلے پر گرے اور مدرسے کی عمارت آج بھی جوں کی توں کھڑی ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ تصاویر امریکی شہر سین فرانسسکو میں واقع ایک پرائیویٹ سیٹلائٹ آپریٹر’پلانٹ لیبز‘(Planet Labs Inc)نے اس علاقے میں بھارتی بمباری کے 6روز بعد جاری کیں۔اس سے پہلے بھی اس علاقے کی کئی سیٹلائٹ تصاویر سامنے آئیں مگر ان کی ریزولوشن بہت کم تھی۔ ’پلانٹ لیبز‘ کی جاری کردہ تصاویر کی ریزولوشن انتہائی بہترین ہے چنانچہ ان میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ جیش محمد کے زیرانتظام چلنے والے اس دینی مدرسے کی 6عمارات ہنوز اپنی جگہ پر موجود ہیں اور انہیں معمولی نقصان بھی نہیں پہنچا۔

بم دھماکوں کا نشانہ بننے والی جگہوں کی سیٹلائٹ سے حاصل کردہ تصاویر کا 15سالہ تجربہ رکھنے والے مڈلبری انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل سٹڈیز کے ایسٹ ایشیاءنان پرالیفریشن پراجیکٹ کے ڈائریکٹر جیفری لیویس نے بھی تصدیق کی ہے کہ تصاویر میں وہی عمارات موجود ہیں جنہیں بھارت نے بمباری کرکے تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔جیفری لیویس کا کہنا ہے کہ ”تصاویر کے تجزئیے میں یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ مدرسے کی ان 6عمارات کو بمباری سے کوئی نقصان نہیں پہنچا۔“

رائٹرز نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ان تصاویر کے منظرعام پر آنے کے بعدنیوز ایجنسی کی طرف بھارت کی وزارت خارجہ اور وزارت دفاع سے ای میل کے ذریعے رابطہ کیا گیا جس میں ان تصاویر اور ان کے ٹریننگ کیمپ تباہ کرنے کے دعوے سے متعلق سوالات کیے گئے تاہم ان کی طرف سے ان سوالات کا کوئی جواب نہیں آیا۔

مزید :

بین الاقوامی -