’’پاکستان سیاسی لڑائی ٹورنامنٹ‘‘

’’پاکستان سیاسی لڑائی ٹورنامنٹ‘‘
’’پاکستان سیاسی لڑائی ٹورنامنٹ‘‘

  

ایک دور تھا کہ پاکستان میں علاقائی کرکٹ محکموں کے دم سے جاری تھی۔ مختلف ادارے نہ صرف اچھے کرکٹرز کو ملازمت دیتے تھے، بلکہ ان اداروں کی ٹیمیں بھی ہوتی تھیں اور بڑے ٹورنامنٹ بھی اداروں کی سطح پر ہوتے تھے۔ اُس دور میں ہمارے آج کے وزیراعظم عمران خان ہر فورم پر یہ تجویز دیتے نظر آتے تھے کہ کرکٹ اداروں کی نہیں شہروں کے درمیان مقابلے کی صورت میں زیادہ فروغ پائے گا۔ اُن کی کسی نے نہ سُنی مگر جب بھارت میں آئی پی ایل (انڈین پریمیئر لیگ) کی کھیل سے زیادہ پیسے کی ریل پیل اور چیئرلیڈرز کے ہِلنے جُلنے کے ساتھ رنگ رنگیلا آغاز ہوا تو ہم نے کہا ہم بھی کریں گے، یوں ’’پاکستان سُپر لیگ‘‘ کی شروعات ہوئی۔ ہماری بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور دوست ممالک سے اُمیدوں کی طرح کرکٹ کی آس بھی ملک کے باہر ہی بندھی، لہٰذا پی ایس ایل کے زیادہ تر مقابلے پاکستان سے باہر ہوتے ہیں۔

یوں دیکھتے ہی دیکھتے علاقائی کرکٹ اداروں کی جگہ شہروں سے منسوب ہوچکی ہے۔ صرف اتنی ہی تبدیلی نہیں آئی۔ گذشتہ عشروں کے دوران کرکٹ نے گرگٹ کی طرح رنگ بدلا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ بھارتی سماج کی روایتی بیوہ کی طرح کرکٹر سفید لباس ہی میں کھیل سکتا تھا۔ پھر یہ شرط ختم ہوگئی، شاید اس لیے کہ سفید رنگ پر داغ بہت نمایاں ہوتے ہیں! اب کرکٹ ٹیموں کے کھلاڑی الگ الگ رنگ میں نظر آتے ہیں، اور بہت سے رنگ دکھاتے بھی ہیں۔

جب ٹیسٹ کرکٹ کا رواج تھا۔ پانچ پانچ دن تک جاری رہنے والے ٹیسٹ بعض اوقات پاک بھارت سرپھٹول کی طرح بغیر نتیجے کے ختم ہوجاتے تھے۔ لگے ہاتھوں یہ بتادیں کہ دونوں ملکوں میں جس جنگ کا نتیجہ نکلا اس کا نتیجہ بنگلادیش کی کرکٹ ٹیم ہے۔ ٹیسٹ میچوں کی یہ طوالت ہی تھی جس کی وجہ سے ہٹلر کو اس کھیل سے نفرت ہوگئی۔ موصوف کی نفرت بھی عجیب تھی، جس سے کی اُسے فائدہ ہوا، جیسے یہودی، جنھیں اس نفرت نے مظلوم بنواکر اسرائیل دلوادیا، دوسری طرف ان صاحب کی محبت ویسی ہی تھی جس کے بارے میں غالب نے کہا تھا،’’ہم مغل بچے عجیب ہوتے ہیں، جس پر مرتے ہیں اُسے مار رکھتے ہیں۔‘‘ اس ’’جرمن بچے‘‘ نے جرمن قوم سے محبت کی، پہلے اُسے مار رکھا اور پھر مروادیا۔ بہرحال، ہٹلر کی نفرت سے کرکٹ کو فائدہ ہوا یا نہیں؟ ہمیں نہیں پتا لیکن نقصان کوئی نہیں ہوا، البتہ ہٹلر کے باعث اتنا ضرور ہوا کہ اس کی پیروی میں بعض ٹیموں کے کپتان اپنی ٹیم کے لیے ’’ہٹلر‘‘ بن گئے۔ اب کرکٹ پانچ دن سے سکڑ سمٹ کر 20 اوور کی رہ گئی ہے۔ اگرچہ کرکٹ کے اوور کم ہوئے، لیکن اس کے ’’اونر‘‘ بڑھ گئے ہیں۔ اب تو معاملہ یہ ہے کہ ’’ٹیمیں بِکتی ہیں بولو خریدو گے۔‘‘ کہیں کی اینٹ کہیں کے روڑے سے بھان متی کا کُنبہ جُڑتا ہے اور فرنچائز ہوجاتا ہے۔ فرنچائز کا یہ سلسلہ، اشتہارات کی کمائی، میچ کھیلنے کا پیسہ اور اس پر بھی دل نہ بھرے تو سَٹے بازوں کا دست وبازو بننے کا سنہری موقع....’’پیسے کا کھیل‘‘ کا محاورہ بچپن سے سُنتے آئے ہیں اب پتا چلا کہ اس کا سیدھا سا مطلب ہے کرکٹ۔ یہی سبب ہے کہ اب باباؤں سے یہ نہیں پوچھا جاتا کہ ’’بابا! ہمارے ہاں اولاد ہوگی؟‘‘ یہ جاننے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ’’بابا! ہمارے ہاں کرکٹر ہوگا؟‘‘

اس پیسے کے کھیل کا سب سے بڑا میدان آئی پی ایل اور پی ایس ایل کی صورت میں سجتا ہے،یوں ہی ہمیں خیال آیا کہ شہروں کے بہ جائے کیوں نہ سیاسی جماعتوں کی ٹیمیں بناکر مقابلے کرائے جائیں۔ ٹورنامنٹ کا مخفف پی ایس ایل ہی ہو یعنی ’’پاکستان سیاست لیگ‘‘ اگر ن لیگ کی مخالف جماعتوں کو لفظ ’’لیگ‘‘ پر اعتراض ہو تو یہ نام ’’پاکستان سیاسی لڑائی‘‘ بھی ہوسکتا ہے۔ 

اب سوال یہ ہے کہ اس ٹورنامنٹ میں حصہ لینے والی سیاسی جماعتوں کی ٹیموں کو کیا نام دیا جائے گا؟وہ ہم تجویز کیے دیتے ہیں:

پاکستان تحریک انصاف...بنی گالا گالی باز

مسلم لیگ ن....گرفتار لڑکے

پاکستان پیپلزپارٹی....زندہ بھٹوز

متحدہ قومی موومنٹ....بے بس بھائی

جمعیت علمائے اسلام (ف).....ڈیزل بھرے 

جماعت اسلامی....کرکٹر شوریٰ

مسلم لیگ ق....کوہِ قاف کے جِن

پاک سرزمین پارٹی....گود لیے بچے

بلوچستان عوامی پارٹی...بھان مَتی کا کُنبہ

تحریکِ لبیک...پین دے سِری

ان جماعتوں میں سے کچھ تو ’’فرنچائز‘‘ ہیں ہی، باقیوں کو بھی سپانسر مل جائیں گے۔ ٹیموں کے درمیان میچ میدانوں کے بہ جائے ایوانوں میں بھی کرائے جاسکتے ہیں۔ 

ٹیموں کے لیے بنائے گئے نغمے کچھ یوں ہوں گے: 

نیب کا بَلا ہے دم ساز، ایمپائر اپنی آواز...بنی گالہ گالی باز، بنی گالہ گالی باز۔

ہے لایا گیا کھیلنے کو پکڑکے...گرفتار لڑکے، گرفتار لڑکے۔

خریدیں گے مخالف ٹیم دیں گے پیسے کا ہم ڈوز...ہم تو ہیں زندہ بھٹوز، ہم تو ہیں زندہ بھٹوز۔

چھوڑ دی ہم نے ہاتھا پائی، کب تک دیں ہم اپنی صفائی...بے بس بھائی، بے بس بھائی۔

اسی طرح دیگر جماعتوں کی ٹیموں کے ترانے بھی ہوں گے۔ ہم شرطیہ کہتے ہیں کہ ہمارا تجویز کردہ ’’پاکستان سیاسی لڑائی‘‘ کا ٹورنامنٹ جاری پی ایس ایل سے کہیں زیادہ کام یاب جائے گا۔ اگر جیتنے کو نیب کے مقدمات اور حکومت پر تنقید کے خاتمے سے مشروط کردیا جائے پھر دیکھیے گا کہ حکومتی جماعت اور حزب اختلاف کی جماعتوں کی ٹیموں کے کھلاڑی کیسے جان لڑا کر کھیلتے ہیں؟۔

(محمد عثمان جامعی معروف صحافی، بلاگر، مزاح نگار، شاعر اور کہانی کار ہیں۔ وہ معروف قومی اخبار میں میگزین انچارج کے  فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ ان کی فکاہیہ تحریروں پر مبنی کتاب ”کہے بغیر“ اور شعری مجموعہ ”میں بس اک دیوار“ شایع ہوچکے ہیں۔ ان کے فکاہیہ بلاگ، سنجیدہ تحریریں اور شاعری مختلف ویب سائٹس پر شایع ہوتی رہی ہیں،اب ان کی جاندار تحریریں  ’’ڈیلی پاکستان آن لائن ‘‘ پر بھی شایع ہوں گی ،قارئین ان سےUsman.jamai@express.com.pkپر رابطہ کر سکتے ہیں۔)

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

بلاگ -