پنجاب میں پی ٹی آئی ارکان اسمبلی فنڈز نہ ملنے پر مایوسی کا شکار

پنجاب میں پی ٹی آئی ارکان اسمبلی فنڈز نہ ملنے پر مایوسی کا شکار

  

تجزیہ۔ محسن گورایہ

پنجاب میں جہاں ایک طرف حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کو اتحادیوں کے حوالے سے سکھ کا سانس ملا ہے اور اکثر معاملات کافی بہتر نظر آ رہے ہیں تو دوسری طرف اس کے اپنے ارکان اسمبلی میں مایوسی اور بد دلی میں نظر آرہی ہے۔مسلم لیگ (ق) کے حوالے سے گزشتہ روز وزیر اعلیٰ پنجاب سے یہ پوچھا گیا کہ مسلم لیگ(ق) کے ساتھ معائدہ پر عمل ہو رہا ہے تو انہوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ آپکو اچھی خبریں نہیں مل رہیں؟ ان کا مطلب تھا کہ اس محاذ پر انہیں کوئی خطرہ نہیں ہے۔اس میں کوئی شک بھی نہیں کہ دونوں جماعتوں میں اس حوالے سے اطمینان پایا جاتا ہے۔وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی باڈی لینگوایج بھی گزشتہ روز اس معاملے میں بڑی مثبت اور اطمینان بخش لگ رہی تھی۔یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ گزشتہ روز وزیر اعلیٰ کے دفتر میں انکی دعوت پر آنے والے صحافیوں کو یہ دیکھ کر بڑا اچھا لگا کہ وزیر اعلیٰ بزدار نے کرونا وائیرس بارے بریفنگ میں آغاذ خود کیا مگر مدارالمہام بنے رہنے کی بجائے باقی وزرا،چیف سیکرٹری اور سیکرٹری صحت کو اس ایشو پر بات کرنے کا پورا موقع دیا۔ ایک صحافی نے تو اس پر یہ تبصرہ کیا کہ وزیر اعلیٰ کو اکثر ایشوز بارے پتہ نہیں ہوتا اس لئے وہ کم بولتے ہیں مگر میرا اپنا تبصرہ تو یہ ہے کہ لگتا ہے پنجاب میں اب مل جل کر کام ہوتا ہے اور ماضی کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے بر عکس وزرا اور بیوروکریسی کی عزت ہوتی ہے انہیں ہرکام میں مورد الزام ٹھرایا جاتا ہے نہ ہی سخت دباو میں رکھا جاتا ہے۔گزشتہ روز جہاں سیکرٹری صحت ڈاکٹر عشمان نے کرونا وائرس کے حوالے سے بڑی اچھی بریفنگ دی،چیف سیکرٹری میجر اعظم سلیمان نے سوالات کے بڑے اچھے جوابات دئے وہاں وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد،وزیر اطلاعات فیاض چوہان،وزیر صنعت میاں اسلم اقبال اور دوسروں نے بھی اچھے انداز میں گفتگو کی۔ اگر چہ سیاسی طور پر دیکھا جائے تو پنجاب میں کوئی بحرانی کیفیت بھی نہیں دیکھی جا رہی مگر دوسری طرف تحریک انصاف کے اپنے ارکان اسمبلی کے اندر ترقیاتی کاموں،نوکریوں اور تبادلوں کے حوالے سے بے یقینی کی کیفئیت ہے۔حکمران جماعت کے ارکان اسمبلی یہ کہتے پائے جا رہے ہیں کہ اس سے تو بہتر تھا کہ وہ مسلم لیگ (ق) کے ارکان اسمبلی ہوتے انہیں ان کے حلقوں میں مراعات اور ترقیاتی کاموں کی آزادی تو ہوتی۔بعض حکومتی ارکان اسمبلی نے دبے لفظوں میں بتایا کہ وزیر اعلیٰ بزدار کی توجہ دیگر حکومتی ارکان اور ان کے علاقوں کی بجائے وزیر اعلیٰ کے اپنے ڈویزن اور وہاں کے ارکان اسمبلی پر زیادہ ہے۔

تجزیہ محسن گورایا

مزید :

تجزیہ -رائے -