ڈاکٹر ترن سنگھ کا دورہ پا کستان

ڈاکٹر ترن سنگھ کا دورہ پا کستان
ڈاکٹر ترن سنگھ کا دورہ پا کستان

  

”ڈاکٹر ترن جیت سنگھ بوٹالیہ“ پیشے کے اعتبار سے تو سول انجینئرنگ کے شعبے سے وابستہ رہے ہیں، مگر گزشتہ کئی سال سے وہ امریکہ میں مقیم ہیں اور درس و تدریس کے ساتھ ساتھ مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان ہم آہنگی کو بھی فروغ دینے کے لئے کام کر رہے ہیں۔کئی سال قبل جب وہ بھارت سے امریکہ گئے تھے تو ان کا بنیادی مقصد ہی یہ تھا کہ مذہبی ہم آہنگی کی کوششوں کو فروغ دینے کے لئے ایسے اداروں اور این جی اوز کے ساتھ کام کیا جا ئے کہ جو اس حوالے سے اچھا کام کر رہی ہیں۔ گزشتہ ہفتے انہوں نے پا کستان کا دورہ کیا۔ اس وقت پا ک بھارت تعلقات میں جس قدر تلخی ہے ان حالات میں تو کسی بھارتی شہری اور وہ بھی سکھ کے لئے پاکستان کا ویزا ملنا انتہائی مشکل کام ہے یہی وجہ ہے کہ ”ترن جیت سنگھ“ اپنے امریکی ویزا پر پاکستان آئے اور پنجاب یو نی ورسٹی لاہور کے ”سنٹر فا ر ساوتھ ایشین سٹڈیز“ میں ان کا سیمینار بھی رکھا گیا جس میں مجھے بھی شرکت کا موقع ملا۔ ”ترن جیت سنگھ“ نے اس سے پہلے اپنے دورہ پاکستان پر ایک انگریزی کتاب بھی لکھی ہے، جس کا حال ہی میں اردو ترجمہ بھی کیا گیا ہے۔ انہوں نے پاکستان میں اپنے پہلے دورے کے دوران گوجرانوالہ کے گاؤں ”بو ٹالہ“ کا بھی دورہ کیا۔ اپنے باپ،دادا کی اس حویلی میں بھی گئے جہاں سے ان کے خاندان نے 1947ء سے مشرقی پنجاب کی جانب کوچ کیا تھا۔

ڈاکٹر ترن جیت سنگھ کا تعلق ایسی نسل سے ہے جس نے 47کے فسادات کا خود سے تو مشاہدہ نہیں کیا، مگر ان کو اپنے باپ، دادا اور خاص طور پر دادی کے ذریعے ان فسادات کے با رے میں بہت کچھ معلوم تھا  انہوں نے بتا یا کہ جب 1947ء میں پنجاب میں انسانیت کا ننگا رقص جا ری تھا۔ سکھ اور مسلمان ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے۔ ایسے میں ان کے خاندان کو بھی یہ مشورہ دیا گیا کہ  وہ گو جر انوالہ چھوڑ کر مشرقی پنجاب چلے جائیں۔ ترن جیت کا خاندان اس کے لئے راضی نہیں تھا،مگر جب ان کے محلے کو بھی دنگا کرنے والوں نے گھیر لیا تو ایسے میں اس محلے کے ایک مسلمان خاندان نے ہی ڈاکٹر ترن کے خاندان کو کئی ہفتوں تک پنا ہ دی اور ان کو خیرت کے ساتھ مشرقی پنجاب جانے والے قافلے تک چھوڑ کر آئے۔ اپنی اس کتاب West Punjab:My Home Journey    میں ڈاکٹر ترن نے اپنے باپ اور دادا کی حویلی کا ذکر کیا جہاں اب بچیوں کی تعلیم کا مدرسہ قائم ہے۔ لاہور کے تا ریخی مقاما ت دیکھنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے ”ایچی سن کالج“ کا دورہ بھی کیا جہاں ان کے با پ اور دادا نے تعلیم حاصل کی تھی۔ ڈاکٹر ترن  جیت نے بتا یا کہ ان کو بچپن سے ہی مسلما نوں اور خاص طور پر پا کستان کے  بارے میں نفرت کا درس دیا گیا تھا۔

مسلمانوں کے بارے میں کئی طرح کی غلط با تیں منسوب کی گئیں۔پا کستان کے بارے میں ان کو یہ بتا یا گیا کہ یہ ایسا ملک ہے جہاں ہر عورت کو زبر دستی بر قعہ پہننے پر مجبور کیا جا تا ہے اور پاکستان میں کسی بھی طرح کی سماجی آزادی نہیں ہے، مگر اپنے پہلے ہی دورے کے دوران جب ڈاکٹرترن سنگھ لا ہور ائر پورٹ سے با ہر آئے اور چند گھنٹے تک لا ہور کی سڑکوں پر پھرے تو ان کو اندازہ ہوا کہ بھارت میں کس طرح پا کستان کے با رے میں انتہائی غلط پر اپیگنڈہ کیا جا تا ہے۔ڈاکٹر ترن نے بتا یا کہ انہوں نے بھارت کے بڑے شہروں کی طرح لا ہور میں بھی یہی دیکھا کہ کئی عورتیں کار ڈرائیو کر رہی ہیں، با زاروں اور ما رکیٹ میں پر اعتماد طر یقے سے چل پھر رہی ہیں۔ ڈاکٹر ترن نے بتا یا کہ لا ہور میں وہ جہاں بھی گئے ان کو سکھ کے طور پر بہت زیا دہ عزت ملی کسی ایک بھی دکا ندار نے ان سے کسی بھی چیز کا پیسہ وصول نہیں کیا، بلکہ وہ جس ہو ٹل میں ٹھہرے ہو ئے تھے وہاں بھی ان سے کمرے کا کرایہ وصول نہیں کیا گیا۔ڈاکڑ ترن نے واضح الفاظ میں کہا کہ 1947ء میں جو کچھ سکھوں اور مسلمانوں نے ایک دوسرے کے خلاف کیا اس کے لئے ہما ری پرانی نسل قصور وار ہے تا ہم انہوں نے یہ واضح کیا کہ ”تقسیم ہند“ ایک تاریخی حقیقت ہے ان کے مطابق بھارت میں اگر اب بھی کوئی اس تقسیم کو تسلیم نہیں کرتا تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے۔

جب ڈاکٹر ترن جیت سے یہ سوال کیا گیا کہ تقسیم ہند کے بعد سکھ، بھارت میں جس طرح کے تجربات سے گز ر رہے ہیں خاص طور پر 1984ء کا گو لڈن ٹمپل آپریشن اور اس کے بعد سکھوں کے خلاف جس طرح کی نسل کشی کی گئی کیا اس سے سکھوں کی مسلمانوں کے بارے میں رائے تبدیل ہو ئی ہے تو اس پر ڈاکٹر ترن نے یہ جانتے بوجھتے ہوئے بھی کہ اس وقت وہ پاکستان میں موجود ہیں اور پنجاب یو نی ورسٹی میں صرف پا کستانی ہی ان کو سن رہے ہیں انہوں نے کسی جھوٹ کا سہارا لئے بغیر بتا یا کہ بے شک سکھ اب مسلمانوں کے بارے میں 1947ء والی سوچ نہیں رکھتے، مگر اس کے با وجود سکھوں میں ایسے حلقے بھی موجود ہیں جو یہ با ت بھولنے کے لئے تیار نہیں ہیں کہ سکھ گرووں جیسے ”گوروارجن“ اور ”گورو تیغ بہادر“ کو مغل بادشاہوں نے ہلاک کر وایا تھا، جبکہ دسویں گورو، گوبند سنگھ کو ہلاک کرنے والے بھی مسلمان ہی تھے تاہم ڈاکٹر ترن سنگھ نے یہ بھی واضح کیا کہ سکھوں کی بڑی تعداد ایسی بھی ہے جوماضی سے نکل کر حال کی جا نب دیکھنا چا ہتی ہے، جس طرح تقسیم ایک حقیقت ہے، جس نے قائم رہنا ہے اسی طرح یہ  بھی حقیقت ہے کہ مشرقی پنجاب اور مغربی پنجاب دو الگ الگ آزاد اور خودمختار ملکوں کی ایسی اہم اکائیاں ہیں جو آپس میں پڑوسی ہیں اور پڑوسیوں کو اچھے دوست کی طرح ہی رہنا ہو گا اسی میں سب کا بھلا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -