چین کی ماحول دوست ترقی کا سفر جاری رہے گا

چین کی ماحول دوست ترقی کا سفر جاری رہے گا
چین کی ماحول دوست ترقی کا سفر جاری رہے گا

  

چین کے سیاسی نظام میں سب سے زیادہ اہمیت کے حامل دو اجلاس جاری ہیں۔ اس دوران چین کے وزیر اعظم نے پانچ تاریخ کو تیرہویں قومی عوامی کانگریس کے چوتھے اجلاس کی افتتاحی تقریب میں  حکومتی ورک رپورٹ پیش کی ۔ اس دوران عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ چین کی ماحول دوست ترقی کا سفر جاری رہے گا۔ وزیر اعظم لی کھہ چھیانگ نے اپنی تقریر کے دوران سال گزشتہ کے چیلنجز اور کامیابیوں پر روشنی ڈالی اور مستقبل کے لئے چین کے ترقیاتی سفر کا راستہ بیان کیا۔ ہمیشہ کی طرح عوام چین کے پالیسی سازوں کی توجہ کا محور رہے۔ چین نے ایک مرتبہ پھر شفاف ماحول دوست ترقیاتی راستے پر سفر جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ 

رپورٹ  کے مطابق گزشتہ سال چین کے لیے ایک غیر معمولی سال رہا ۔  کووڈ -۱۹ کی وبا اور عالمی معیشت میں شدید کساد بازاری کے تناظر میں چین نے وبا کی روک تھام و کنٹرول  میں نمایاں کامیابی حاصل کی ۔ دنیا کی اہم معیشتوں میں چین مثبت شرح نمو  کی حامل واحد بڑی معیشت ہے ۔ انسداد غربت کی جنگ میں فتح کے حصول سے ایک جامع  خوشحال معاشرے  کے قیام  میں فیصلہ کن  کامیابی حاصل ہوئی  ہے ۔ عوام نے چینی حکومت کے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور دنیا بھی چین کی تاریخی شاندار کامیابیوں کو دیکھ رہی ہے۔  

2020 میں ، چین کی سالانہ جی ڈی پی میں 2.3 فیصد  کا اضافہ ہوا جبکہ  11.86 ملین روز گار کے نئے  مواقع  پیدا کیے گئے ہیں ۔اسی برس  5.51 ملین دیہی غریب لوگوں کو غربت سے باہر نکالا گیا ہےاور تمام 52 غریب  کاونٹیاں  غربت سے نجات پا  چکی ہیں ۔ 

حکومتی ورک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پانچ سال کی مسلسل جدوجہد کے بعد  چین کے 13 ویں پانچ سالہ منصوبے کے اہم اہداف کامیابی کے ساتھ مکمل ہو چکے ہیں  اور اقتصادی سماجی ترقی میں نئی تاریخی کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں۔

 رپورٹ کے مطابق گزشتہ پانچ سالوں میں ،چین کا جی ڈی پی 70 ٹریلین یوآن سے اس وقت 100 ٹریلین یوآن کی حد پار کر چکا ہے۔ ایک جدید ملک کی تعمیر میں ٹھوس ثمرات سامنے آئے ہیں اور بے شمار نمایاں سائنسی اور تکنیکی کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں۔ دیہی علاقوں میں 55750000 غریب عوام کو غربت سے  باہر نکالا گیا ہے ، اور انسداد غربت کے مشکل ہدف کی تکمیل کی گئی ہے۔ چین کے ماحولیاتی شعبے میں نمایاں بہتری آئی ہے ، کاروباری ماحول میں مسلسل بہتری آتی جارہی ہے ، اور بیرونی دنیا کے لیے کھلے پن میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ عوام کے معیار زندگی میں نمایاں بہتری آئی ہے ، شہروں اور قصبوں میں چھ کروڑ سے زائد روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں اور دنیا کا سب سے بڑا سماجی تحفظ کا نظام قائم کیا گیا ہے۔ 

چینی حکومت کی ورک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چودہویں پانچ سالہ منصوبے کے دوران  چین مشترکہ خوشحالی کے حصول کے لیے مضبوط لائحہ عمل اپنائے گا۔  جس کے تحت روز گار کے مواقع میں اضافہ ، شہریوں کی فی کس آمدنی اور جی ڈی پی  کی ہم آہنگ نمو  اور  اوسط  متوقع عمر میں 1 سال اضافے جیسے اہداف  شامل ہیں ۔ چین عمر رسیدہ آبادی کی بہبود کے لیے قومی پالیسی اپنائے گا ، موزوں شرح پیدائش کو فروغ دیا جائے گا  اور بتدریج ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافے جیسی  حکمت عملی اپنائے گا ۔ اس کے علاوہ سماجی  فلاح و بہبود  کے نظام کو بہتر بنایا جائے گا ۔ 

حکومتی ورک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین 2021 میں  جامع طور پر دیہی علاقوں کی ترقی کو فروغ دے گا ،زراعت کی مستحکم ترقی ، کسانوں کی آمدنی میں اضافہ اور غربت سے نجات پانے والے علاقوں کی ترقی کو مزید آگے بڑھایا جائے گا ۔ انسداد غربت کے ثمرات میں مضبوطی لاتے ہوئے انہیں دیہی علاقوں کی ترقی سے بہتر طور پر ہم آہنگ کیا جائے گا ۔ انسداد غربت میں حاصل شدہ کامیابیوں کو مزید مستحکم کرنے کے لیے مانیٹرنگ اور امدادی نظام کو بہتر بنایا جائے گا ۔رپورٹ کے مطابق چین 12کروڑ ہیکٹر  قابل کاشت رقبے ، ،بیج کی سلامتی، زرعی مصنوعات کی مستحکم قیمتوں  اور فراہمی سے  ایک ارب چالیس کروڑ چینی عوام کے لیے خوراک کے تحفظ کو یقینی بنائے گا۔  

چین کی حکومتی ورک رپورٹ  کے مطابق چین انسداد آلودگی اور ماحول کی بہتری پر زور دے گا ۔چین اپنے  2030 تک کے طے شدہ اہداف کی روشنی میں آئندہ پانچ سالوں میں موسمیاتی تبدیلی  سے نمٹنے کے لئے اہم اہداف کی تکمیل کرے گا۔ فی یونٹ  جی ڈی پی  توانائی  کی کھپت  اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں بالترتیب 13.5 فیصد اور 18 فیصد کی کمی واقع  ہو گی ۔ جنگلات  کے رقبے میں   اضافہ  24.1فیصد  تک پہنچ  جائے گا ۔ 

کومتی ورک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ  رواں سال چین اہم شعبوں میں اصلاحات کو مزید فروغ دے گا اور منڈی کے مرکزی عوامل کی حیات کاری  کی حوصلہ افزائی کرے گا۔   صنعتی اداروں کی مشکلات کو دور کرنے کے لیے امدادی پالیسی پر عمل درآمد  کے ساتھ ساتھ متعلقہ اصلاحات کو آگے بڑھایا جائے گا اور متحرک مارکیٹ عوامل کو فروغ دیا جائے گا ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین مارکیٹ پر مبنی ، ضوابط کے تابع ایک عالمی معیار کا حامل کاروباری ماحول تشکیل دے گا۔ اصلاحات کے ذریعے صنعتی اداروں کی پیداواری اور انتظامی لاگت کو کم کرے گا ۔ چین مالیاتی نظام میں مزید اصلاحات لائے گا اور مالیاتی رسک سے نمٹنے کے میکانزم کو بہتر بنائے گا اور  ساختی خطرات سے بچاو کے لیے بنیادی اقدامات پر عمل پیرا رہے گا۔ 

چینی وزیر اعظم لی کھہ  چھیانگ نے حکومتی ورک رپورٹ میں  کہا کہ چین کی ترقی کو  بدستور متعدد خطرات اور چیلنجز کا سامنا ہے ، لیکن طویل المدتی معاشی ترقی  کی بنیاد  میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔رواں برس چین کی جی ڈی پی کی شرح  نمو چھ  فیصد سے زائد رہنے کی توقع ہے۔ اس کے علاوہ رواں سال چین کے ترقیاتی اہداف کے تحت شہری علاقوں میں 11 ملین سے زائد روز گار کے نئے مواقع  پیدا کیے جائیں گے  ، کنزیومر پرائس انڈیکس میں 3 فیصد اضافہ ہو گا ، فی یونٹ جی ڈی پی توانائی کی کھپت میں تقریباً  3 فیصد کی  کمی واقع ہو گی  اور اناج کی پیداوار650 ارب کلوگرام سے زائد  رہے گی ۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

بلاگ -