پارلیمنٹ میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کی کارروائی کیسے ہوتی ہے ؟ 

پارلیمنٹ میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کی کارروائی کیسے ہوتی ہے ؟ 
پارلیمنٹ میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کی کارروائی کیسے ہوتی ہے ؟ 

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن ) وزیر اعظم عمران خان آج پارلیمنٹ میں اعتماد کا ووٹ حاصل کریں گے ۔اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے سے قبل پارلیمنٹ میں اراکین کی موجودگی کو یقینی بنانے کے لیے ایوان میں 5 منٹ تک گھنٹی بجائی جاتی ہے۔ گھنٹی بجانے کے بعد لابی کی طرف جانے والے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور کسی کو ایوان میں آنے جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔

سپیکر اسمبلی کے سامنے وزیر اعظم پر اعتماد سے متعلق قرارداد پڑھی جاتی ہے اور جو ارکان قرارداد کے حق میں ووٹ ڈالنا چاہتے ہیں وہ قطار میں داخلی راستے کی جانب جاتے ہیں اور داخلی راستے پر ممبر کا ووٹ ریکارڈ کرنے کے لیے ٹیلرز یعنی اسمبلی اہلکار موجود ہوتے ہیں۔

ہر ممبر کے ٹیلر کی میز پر پہنچنے پر قواعد کے تحت الاٹ کردہ ڈویژن نمبر پکارے جاتے ہیں اور ٹیلر ممبر کا نام پکارتے ہوئے ڈویژن لسٹ سے اس کا نام کاٹ دیتا ہے۔ ممبر کو رک کر واضح طور پر اپنا نام سننا ہوتا ہے تاکہ ووٹ کو صحیح طرح سے ریکارڈ کیا جا سکے۔ اپنے ووٹ کے اندراج کے بعد ممبر پارلیمان کو لازمی طور پر چیمبر چھوڑنا ہو گا۔

ارکان کی واپسی اس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک ایک بار پھر گھنٹیاں نہ بجیں اور جب اسپیکر کو معلوم ہو جائے گا کہ ارکان ووٹ درج کروا چکے تو اعلان کرے گا کہ ووٹنگ ختم ہو گئی۔ سیکرٹری قومی اسمبلی ڈویڑن کی فہرستوں کو جمع کرے گا اور درج ووٹوں کی گنتی کرے گا جبکہ سیکرٹری قومی اسمبلی نتیجہ سپیکر کے سامنے پیش کرے گا۔

ارکان اسمبلی کو واپس بلانے کے لیے پھر سے 2 منٹ تک گھنٹی بجائی جائے گی اور ارکان کی واپسی کے بعد اسپیکر نتائج کا اعلان کرے گا۔سپیکر صدر کو قرارداد منظور یا مسترد ہونے سے متعلق تحریری طور پر آگاہ کرے گا اور سیکرٹری کے لیے ضروری ہے کہ وہ نتائج کا نوٹیفکیشن گزٹ آف پاکستان میں شائع کروائے۔

مزید :

قومی -