برطانیہ میں مقیم وہ پاکستانی وکیل جو غیر ملکی طلبہ کیلئے رحمت کا فرشتہ بن گیا

برطانیہ میں مقیم وہ پاکستانی وکیل جو غیر ملکی طلبہ کیلئے رحمت کا فرشتہ بن گیا
برطانیہ میں مقیم وہ پاکستانی وکیل جو غیر ملکی طلبہ کیلئے رحمت کا فرشتہ بن گیا

  

لندن(سید محسن جعفری )ممتاز انسانی حقوق کے کارکن اور میڈیا کے وکیل بیرسٹر راشد احمد نے برطانیہ کی عدالت میں34ہزار بین الاقوامی طلباکا مقدمہ لڑا جن میں نو ہزار پاکستانی طالب علم بھی شامل ہیں ۔یہ کیس برطانوی ہوم آفس کے ایک چھ سالہ پرانے فیصلے سے متعلق جس میں گمراہ کن ، مبہم اور الجھے ہوئے ثبوتوں کی بنیاد پر ہزاروں طلباکے ویزے منسوخ کرنے کے فیصلے سے متعلق تھا ۔برطانوی ہوم آفس کے اس فیصلے پر کڑی تنقید کے بعد اسے عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا ۔

برطانوی ہوم آفس نے الزام لگایا تھا کہ34ہزار بین الاقوامی طلبا ءپر انگلش زبان کے ٹیسٹ میں نقل مارنے کا الزام لگا یا تھا ۔اپر ٹریبونل کے صدر اور نائب صدر برطانیہ کے ہوم آفس نے "ناقابل اعتماد" شواہد پر انحصار کیا جبکہ لگ بھگ 34ہزار بین الاقوامی طلبا کو انگریزی کے بین الاقوامی مواصلات (انگریزی) کے ٹیسٹ میں دھوکہ دہی کا الزام عائد کیا۔

2014 میں بی بی سی کے پینورما نے ایک تحقیقات میں انکشاف کیا تھا کہ کچھ کالجوں میں دھوکہ دہی بڑے پیمانے پر پھیلی ہوئی تھی جہاں امیدوار اپنی انگریزی زبان میں مہارت ثابت کرنے کے لئے ٹیوک بیٹھے تھے۔ای ٹی ایس کا معاملہ 2014 سے جاری ہے جہاں ہوم آفس کے ذریعہ 60ہزار سے زیادہ ویزا منسوخ کردیئے گئے تھے اور اس کے نتیجے میں ہزاروں تارکین وطن برطانیہ حکومت نے ہٹائے ہیں۔

عوامی اور انسانی حقوق کے قانون کے ماہر بیرسٹر راشد احمد اور 2 کنگز بینچ واک کے بیرسٹر ذیشان رضا نے عدالت کے سامنے اپیلوں میں سے ایک کی نمائندگی کی۔بیرسٹر راشد احمد اور ذیشان رضا نے صدر کو پیش کیا کہ بنیادی مسئلہ ہمیشہ ہی سیکریٹری آف اسٹیٹ کے شواہد کے معیار کا ہے اور کیا حکومت کسی بھی فرد کے خلاف دھوکہ دہی کا الزام عائد کرنے میں ثبوت کے بوجھ کو نبھا سکتی ہے۔بیرسٹر راشد احمد اور ذیشان رضا دونوں نے اپر ٹریبونل کے صدر اور نائب صدر کے سامنے یہ دلیل پیش کی تھی کہ ہوم آفس کے ذریعہ جن ثبوتوں پر انحصار کیا گیا ان میں کوہتایا ں تھیں۔

مزید :

بین الاقوامی -