حکومت نے ہوش کے ناخن نہ لیئے تو سسٹم اور جمہوریت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا ، حمزہ شہباز نے تنبیہ کردی

حکومت نے ہوش کے ناخن نہ لیئے تو سسٹم اور جمہوریت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے ...
حکومت نے ہوش کے ناخن نہ لیئے تو سسٹم اور جمہوریت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا ، حمزہ شہباز نے تنبیہ کردی

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) مسلم لیگ ن کے رہنما اور پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز شریف نے کہا ہے کہ گالی گلوچ اور "میں نہیں مانتا "کا کلچر پاکستانی سیاست کے 73 سال میں پہلے نہیں دیکھا گیا ،تحریک انصاف(پی ٹی آئی )کی حکومت نے پونے تین سال کھیل تماشے میں گذار دیئےاور اپوزیشن کے خلاف انتقامی کارروائیوں کی انتہا کردی گئی،اگر اِنہوں نے ہوش کے ناخن نہ لیئے تو سسٹم اور جمہوریت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا ۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حمزہ شہباز شریف نے حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ  ٹی وی کے ٹاک شوز سن لیں وہاں چور ڈاکو کی رٹ سننے کو ملتی ہے ،پارلیمنٹ دیکھ لیں گالیاں سننے کو ملتی ہیں،میں عوام کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں نے بطور سیاست دان ایسا کلچر پاکستان  کی سیاسی تاریخ میں نہیں دیکھا ،یہ اُسی کا شاخسانہ ہے کہ پونے تین سال بعد اپوزیشن کو دیوار کے ساتھ لگانے کے بعد بھی آج  غربت تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے،معیشت کا بھٹہ بیٹھ چکا ہے ،کارخانے بند ہو چکے ہیں ،مزدور بے روزگار ہیں،معیشت کی گروتھ صفر اعشاریہ صفر ہے، ایسا پونے تین سالوں میں کیا ہو گیا کہ آج غریب آدمی کو نہ دوائیاں مل رہی ہیں ،جو ڈائلسز ہسپتالوں میں مفت ہوا کرتا تھا ، اسی ڈائلسز کے لئے غریب آدمی دھکے کھاتا ہے،آج ہی آپ نے سنا ہو گا کہ پاکستان کی تاریخ میں کپاس ،گندم اور گنے کی پروڈکشن کم ترین سطح پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج قوم آج یہ دیکھ رہی ہے کہ پونے تین سال اِنہوں نے کھیل تماشے میں گذار دیئے ہیں ،اپوزیشن کے خلاف انتقامی کارروائیوں کی انتہا کر دی گئی،آج بھی جو واقعہ اسلام آباد میں پیش آیا ہے یہ اُسی کڑی کا تسلسل ہےلیکن ان لوگوں کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں کیونکہ نوشہرہ میں پاکستانی عوام نے انتقامی رویے اور عدم برداشت کو ووٹ نہیں ڈالے اور ن لیگی امیدوار کو کامیابی دلائی،ڈسکہ میں نوشین افتخار الیکشن جیت رہیں تھیں لیکن وہاں کس طرح پولیس کی موجودگی میں موٹرسائیکل سواروں نے گولیوں کو بوچھاڑ کی؟دن کی چکا چوند روشنی میں کوئی روکنے والا نہیں تھا ، کس طرح پولنگ ایجنٹس کو اغوا کیا گیا ،مجھے تو سمجھ  نہیں آتی کہ اس ملک میں کون ایسے لوگ بیٹھے ہیں جو قانون توڑ کر خوش ہوتے ہیں؟۔

حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ میں بطور سیاسی کارکن بتانا چاہتا ہوں کہ یہی رویہ اِن کے پاؤں کی بیڑی بنے گا اور جب پاکستانی قوم پونے تین سال بعد پچاس لاکھ گھروں کا وعدہ ٹوٹتا ہوا دیکھتی ہے،ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ جھوٹا ہوتا دیکھتی ہے،غریب آدمی جب اپنے بچوں کو بلکتا ہوا دیکھتا ہے،جب غریب آدمی کا مہنگائی کی وجہ سے  بجٹ پورا نہیں ہوتا تو عام آدمی انہیں حقارت سے دیکھتا ہے،اگر اِنہوں نے ہوش کے ناخن نہ لیئے تو سسٹم اور جمہوریت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا ،لوگ انہیں دیکھ رہے ہیں، اگر اب بھی اِنہوں نے ہوش کے ناخن نہ لیئے تو قوم ان کا احتساب کرے گی۔

ایک سوال کے جواب میں اُنہوں نے کہا کہ شہباز شریف کو کمر کی تکلیف تھی اور ڈاکٹرز کی رپورٹ کے باوجود انہیں راتوں رات اسلام آباد سے موو کروایا گیا تاکہ ان کی تکلیف مزید بڑھ جائے،یہ ہے انتقام ،اس دن وہ کمر کی تکلیف کی وجہ سے عدالت میں پیش نہیں ہو سکے ،اس انتقام سے اِنہوں نے پاکستانی قوم کا کیا بھلا کیا ہے؟پونے تین سال میں کوئی ایک منصوبہ بتا دیں جو تحریک انصاف کی حکومت نے کیا ہو ،پی ٹی آئی میں بیٹھے سیاسی پختگی رکھنے والے لوگ بھی سوچتے ہیں کہ ہم کس منہ سے ووٹ مانگنے جائینگے؟۔

مزید :

قومی -