اپوزیشن رہنماؤں اور خواتین پر حملے قابل مذمت ، اعتماد کا ووٹ لینے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، وزیراعظم عوام کا اعتماد کھو چکے : سراج الحق

اپوزیشن رہنماؤں اور خواتین پر حملے قابل مذمت ، اعتماد کا ووٹ لینے کی کوئی ...
اپوزیشن رہنماؤں اور خواتین پر حملے قابل مذمت ، اعتماد کا ووٹ لینے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، وزیراعظم عوام کا اعتماد کھو چکے : سراج الحق

  

دیربالا(ڈیلی پاکستان آن لائن)امیر جماعت اسلامی سراج الحق نےکہاہے کہ سیاست میں تشدد کا کلچر ملک کے لیے تباہ کن ہے،عوامی نمائندے اور ان کے سپورٹرز جمہوریت کی جس شاخ پر بیٹھے ہیں،اسے ہی کاٹنے کی کوشش کر رہے ہیں، اپوزیشن رہنماؤں اور خواتین پر حملے قابل مذمت ہیں، جمہوری روایات کا تماشا نہ بنایا جائے، وزیراعظم کے ایوان سے اعتماد کا ووٹ لینے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، وہ عوام کا اعتماد کھو چکے ہیں،ڈھائی برسوں میں قوم کی محرومیوں اور تکالیف میں اضافہ ہوا،سینیٹ ارب پتیوں کا کلب بن گیا،سرمایہ داروں اور وڈیروں سےہرگز توقع نہیں کہ وہ عوام کےمفاد کی بات کریں گے،انتخابی عمل، پولیس سسٹم، بیوروکریسی اور ٹیکس نظام میں ریفارمز متعارف نہ کروائی گئیں توملک آگےنہیں بڑھے گا،معیشت کو اسلامی اصولوں کےمطابق ڈھالناہوگا،پاکستان کی منزل اسلامی انقلاب اور جماعت اسلامی اس کی نوید ہے، ہمارا عزم ہے کہ ملک کو اسلام کا گہوارہ بنائیں گے ۔

 دیر بالا میں جامعہ تعلیم القرآن میں تقریب تقسیم اسناد اور لوئر دیر میں مقامی رہنماؤں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سراج الحق نے کہاکہ جس طرح تحریک انصاف( پی ٹی آئی) اسلام آباد کی نشست ہاری مگر وزیراعظم کے ایوان سے اعتماد لینے کے وقت تعداد پوری تھی، ایک عجیب صورتحال پیدا ہو گئی ہے، اگر پی ٹی آئی یہ سمجھتی ہے کہ ان کے اراکین اسمبلی پیسوں کے عوض بکے تو ان ضمیر فروشوں کے نام قوم کو بتائے جائیں، پی ٹی آئی اور پی ڈی ایم کی سیاست مجموعی طور پر ملک کے لیے نقصان کاباعث بن رہی ہے، دونوں اطراف کی سیاست کا مقصد اپنے مفادات کا تحفظ ہے،موجودہ سیاسی کلچر ملک اورعوام کےمستقبل کےلیےخطرناک ثابت ہوگا،عوامی نمائندے اسی طرح ایکٹ کرتےرہےتو رہی سہی جمہوریت بھی خطرے میں پڑسکتی ہے، جمہوریت افہام و تفہیم اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کا نام ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہاکہ سینیٹ میں جس طرح بھیڑ بکریوں کی طرح خرید و فروخت ہوئی اور ارب پتیوں میں ٹکٹ تقسیم کیے گئے، اس سے تینوں بڑی پارٹیوں کی اصلیت ایک بار پھر قوم کے سامنے آگئی، اس وقت ایوان زیریں اور ایوان بالا ارب پتیوں، جاگیرداروں کے قبضے میں ہے،الیکشن میں کروڑوں روپے خرچ کر کے جیتنے والوں سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ غریب کی بات کریں گے،ملک کے تمام اداروں میں بنیادی اصلاحات متعارف کروائی جانی چاہئیں، بلدیاتی الیکشن ہوں اور الیکشن کمیشن ایک بااختیار اور مضبوط ادارہ ہو جس پر کوئی انگلی نہ اٹھاسکے،بدقسمتی سے پی ٹی آئی کی حکومت نے گزشتہ ڈھائی برسوں میں سیاسی اور ادارہ جاتی اصلاحات کے لیے ایک قدم نہیں اٹھایا،اس میں شاید کوئی شک نہیں کہ وزیراعظم دنیا کے واحد لیڈر ہوں گے جو یوٹرنز کو بھی جسٹی فائی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

سراج الحق نے کہاکہ ملک پر مسائل کا انبار اس بات کا ثبوت ہے کہ ماضی کے اور موجودہ حکمران مکمل طور پر ناکام ہوچکے ہیں،پاکستان کو ایماندار قیادت کی ضرورت ہے، جماعت اسلامی کی صورت میں ایک منظم جمہوری جماعت ہی پاکستان کو ترقی کے راستے پر ڈال سکتی ہے۔ انہوں نے جماعت اسلامی مالاکنڈ ڈویژن کی مقامی قیادت کو ہدایات دیں کہ وہ قرآن و سنت کا پیغام لوگوں تک پہنچانے کےلیےبھر پور تگ و دو کریں،مستقبل جماعت اسلامی کاہے، پاکستان ضرور ترقی کرے گا،جماعت اسلامی کا ہر کارکن اصلاح معاشرہ کے لیے جدوجہد تیز کرے، عوام ہمارا ساتھ دیں، بانیانِ پاکستان کا خواب ضرور پورا کریں گے۔

مزید :

قومی -