کالا پانی

کالا پانی
کالا پانی

  

 وقار احمد ملک   

ابھی دریا میں سیلاب نہیں آیا۔ لیکن پانی کی بلند لہریں سیلاب کی سی کیفیت پیدا کر رہی ہیں۔ دریا کے شمال کی طرف ایک گھنا باغ ہے جس میں آم ، امرود اور شہتوت کے درخت سبز کچور پتوں سے لدے ہوئے ہیں۔ یوں معلوم ہوتاہے کہ باغ کا قدرتی رنگ سبز نہیں کالا ہے۔ ٍساون کی موسلادھار بارشوں نے درختوں کی سیاہی کو ایک تازہ چمک، پاکیزگی اور لطافت بخش دی ہے۔ باغ میں پرندوں نے وہ حشر بپا کر رکھا ہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔ آج صرف باغ کے مقامی پرندے ہی نہیں بلکہ آبی اور دور سے ہجرت کر کے آنے والے جنگلی پرندے بھی اس بے ہنگم موسیقی اور ہلا گلا میں شامل ہیں۔ ابھی ابھی ایک انتہائی دودھیا رنگت والے بگلے نے دریا میں سے ایک مچھلی پکڑی ہے جس کو وہ اپنے خاندان کے ساتھ دریا کے پاس ریتلے ساحل پرنوش کر رہا ہے۔ ساون کے منہ زور بادلوں نے آسمان کو دوپہر سے گھیر رکھا ہے۔ سہ پہر تک تو بادلوں میں حرکت موجود رہی لیکن اب سیاہ گھنے بادل سکوت اختیار کر گئے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ نیلے آسمان کو گہری سیاہ رنگ کی شال میں لپیٹ دیا گیا ہے۔ ہوا اچانک تیز ہو گئی ہے۔ دریا کی بے لگام لہریں ساحل کی سلیٹی مائل سیاہ ریت کو عبور کر کے درختوں کے تنوں کو سیراب کر رہی ہیں۔ کچے پکے آم بھاری پتھروں جیسی آوازوں کے ساتھ درختوں سے گر رہے ہیں۔ باغ سے دور چند میل کے فاصلے پر ہزاروں برسوں سے خاموش پہاڑ آج بھی چپ کی چادر اوڑھے اونگھ رہا ہے۔ 

   باغ جہاں ختم ہوتا ہے وہیں سے سفید بنگلے کی سرحد شروع ہو جاتی ہے۔ سیاہی ختم ہوتی ہے تو سفیدی شروع ہو جاتی ہے۔ اس بنگلے نے دریا کے کئی چہرے دیکھے ہیں۔ یہ دریا بھی بنگلے کے کئی بھید وں سے آشنا ہے۔ ان کی سنگت رازدار سنگیوں کی طرح مضبوط اور پائیدار ہے۔ کئی مربعوں کے رقبہ پر محیط بنگلے کی کئی روشیں، سیڑھیاں اور راستے باغ اور دریا میں اترے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ دریا والی سیڑھیاں آج مکمل پانی میں ڈوب چکی ہیں۔ جبکہ باغ والی روش امرود کے سیا ہ پتوں اور کچی املیوں سے بھری ہوئی ہے۔ سورج بادلوں میں مکمل طور پر چھپا ہوا ہے جس نے ایک گھنٹے بعد ویسے بھی ڈوب جانا ہے۔ حسبِ معمول سفید بنگلے سے سفید لٹھے میں ملبوس ایک تنومند نوجوان اپنے روایتی طمطراق کے ساتھ چہل قدمی کرتے ہوئے نمودار ہوا ۔ اس کے دائیں ہاتھ میں خاندانی عصااس کی صحت کو دیکھتے ہوئے ضرورت سے زیادہ محض ایک تکلف معلوم ہورہا ہے۔ اس کے ساتھ اس کی اکلوتی بیٹی رانی بھی چلی آ رہی ہے۔ رانی کی عمر بمشکل چار پانچ سا ل ہو گی۔ کالے باغ کو عبور کر کے باپ بیٹی دریا کے کنارے بنے ایک املی کے درخت کے نیچے بنچ پر بیٹھ جاتے ہیں۔ رئیس خان بپھری ہوئی خونی لہروں کو انتہائی عقیدت اور محبت سے تکے جا رہا ہے۔ وہ اِس کوشش میں ہے کہ پانی کا سارا منظر اپنی آنکھوں میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لے۔ دریا کا کچھ پانی رئیس خان کی آنکھوں میں سرائیت کر گیا ہے۔ موٹی موٹی آنکھیں پانی میں تیرتی ہوئی محسوس ہورہی ہیں۔عجیب منظر ہے۔ہر طرف پانی ہی پانی اوراندھیرا ہی اندھیرا ہے۔ رانی کبھی دریا کو دیکھتی ہے تو کبھی بابا جان کو۔ طلسماتی ماحول ننھی منی سی لڑکی کو مبہوت کیے ہوئے ہے۔ رانی کا چوتھا ساون اس ماحول میں گزر رہا ہے۔ اب اس کو بابا، ساون، دریا اور باغ کا گہرا تعلق اچھی طرح سمجھ آ چکا ہے۔ 

   رئیس خان کا نام قریبی آبادی کے لیے رعب و دبدبے کی علامت تھا۔ قریبی گاﺅں کا کوئی انسان تو کجا کوئی مویشی بھی بھول کر اِس جاگیر میں نہیں آ سکتا تھا۔ سفید بنگلا، سیاہ باغ اور دریا کا یہ ساحل صرف چند روحوں کے لئے مخصوص تھا۔تنہائی اور ویرانی سے محبت رئیس خان نے اپنے آباﺅ اجداد سے حاصل کی تھی۔ اس کے لیئے کل کائنات یہ قدرتی مناظر اور اکلوتی اولاد رانی تھی۔ساون کے پورے مہینے وہ دونوں شام کا وقت ایک ساتھ یہیں گزارتے۔دونوں ہی کم گو لیکن فطرت شناس تھے۔ ان کے درمیان باتیں نہ ہونے کے برابر ہوتیں۔

   آ ج بھی دونوں اس فطری پر شور ماحول سے سکون حاصل کر رہے ہیں۔ رانی کی توجہ زیادہ تر پرندوں کی اڑانیں اور ان کا مچھلیوں کا شکار ہے۔سورج کب کا غربی پل عبور کر کے آ ج کی تمام مسافتیں عبور کر کے غروب ہو چکا ہے۔ ملگجے اندھیرے نے ماحول کو اور بھی اداس اور غمگین بنا دیا ہے۔ رانی کا دل واپس سفید بنگلے میں جانت کو کر رہا ہے لیکن اس کو پتہ ہے کہ بابا کے سامنے اپنی خواہش بیان کرنا خاندانی روایات کے منافی ہے۔ چنانچہ وہ خاموشی سے اپنے بابا کی طرف واپس جانے کی ملتجی نگاہوں سے تکے جا رہی ہے۔ رئیس خان اندھیرے کو محسوس کرکے اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ دونوں کالے باغ کے کالے راستوں پر رواں دواں ہیں۔ کچی املیوں کی بھیگی بھیگی خوشبو، دور ہوتی دریا کی لہروں کا شور، اندھیرا اور چپ چاپ چلتی ہوئی دو روحیں سارے ماحول کو الف لیلوی بنا رہی ہیں۔ (جاری ہے )

مزید :

ادب وثقافت -