”سگیاں روڈ بحالی منصوبہ“ گیم چینجرثابت ہوگا

     ”سگیاں روڈ بحالی منصوبہ“ گیم چینجرثابت ہوگا

  

  پنجاب حکومت کی ایک او ر شاندار کامیابی

منصوبے پر4 ارب 32 کروڑ روپے لاگت آئے گی، لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی یہ پراجیکٹ آٹھ ماہ میں مکمل کرے گی

منفی سیاست کرتے ہیں نہ یقین رکھتے ہیں، ہمیشہ عوام کی خدمت کرتے رہیں گے

شاہدرہ میں فلائی اوور کی تعمیر،ایسوسی ایٹ کالج شرقپور کی اپ گریڈیشن اور کالج کو میاں شیر ربانی کے نام کے نام منسوب کرنے کا اعلان

ایلویٹڈ ایکسپریس وے منصوبہ بھی شروع کرنے کا اعلان،60ارب روپے سے گلبرگ سے موٹروے تک ایکسپریس وے بنے گی

سابق حکومت نے لاہور پر کم خرچ کیا،آج ہر شہر اور علاقے کے ساتھ انصاف کیا جارہا ہے،55فیصد ترقیاتی فنڈز استعمال کئے جا چکے 

           جاوید یونس

  ایسے حالات میں جب عالمی سطح پر روس یوکرین جنگ اور اس میں امریکہ سمیت بڑی طاقتوں کی بالواسطہ شرکت سے عالمی سطح پر غیر یقینی کی صورت حال ہے اور پاکستان سمیت تمام دنیا کو اپنے اندر مالی اور معاشی استحکام کی ضرورت ہے بد قسمتی سے پاکستان میں اپوزیشن ملک میں عدم استحکام کے لئے میدان میں اتری ہوئی ہے اور اس کی کوشش ہے کہ موجودہ حکومت کی طرف سے ملکی ترقی کے تمام منصوبوں کو کسی نہ کسی طرح روکا جائے۔ ایک طرف یہ سوچ ہے اور دوسری طرف وزیر اعظم عمران خان کی ٹیم عوام کی بھلائی کے کاموں کی تکمیل میں پہلے سے زیادہ جوش کے ساتھ میدان میں اتر چکی ہے۔ پنجاب ان دنوں منفی اور مثبت سوچ کے درمیان مقابلے کی گراؤنڈ بن چکا ہے۔مخالف سیاسی جماعتیں جو ماضی میں ایک دوسرے کی سخت مخالف تھیں اب صرف تحریک انصاف کی حکومت کی ضد میں کبھی لانگ مارچ اور کبھی عدم اعتماد کی پلاننگ اور جوڑ توڑ میں مصروف ہیں۔پنجاب ان سب کا خصوصی ہدف ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے پنجا ب میں وزیر اعلی سردار عثمان بزدار کی سربراہی میں ٹیم اپنے انداز میں تمام منفی حربوں کا توڑ کرنے میں مصروف ہے اور یہ توڑ مثبت  انداز کا ہے۔ وزیر اعلی نے منفی سیاست کا جواب منفی انداز میں دینے کی بجائے عوام کی خدمت کا راستہ اختیار کیا ہے اور جب سے انہوں نے صوبے کے چیف ایگزیکٹو کا عہدہ سنبھالا ہے۔ ان کی رات دن کی مصروفیت یہی ہے کہ صوبہ پنجاب میں متوازی انداز میں بلکہ کم ترقی یافتہ علاقوں کو ترقی یافتہ علاقوں کے برابر لانے کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے عوام کی خدمت کے لئے کام کیا جائے۔ پنجاب میں انگنت منصوبے مکمل کئے گئے  ہیں اور متعدد پر کام جاری  ہے۔

 وزیرا علیٰ پنجاب سردارعثمان بزدار کا ساڑھے تین سالہ دور تعمیر و ترقی کے حوالے سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔انہوں نے حقیقی معنوں میں عوامی خدمت کا ریکارڈ قائم کر دیا ہے، اس وقت لاہور سمیت پنجاب کے ہر ضلع میں ترقی اور خوشحالی کا سفرتیزی سے جاری ہے اوراربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں پر کام شروع ہے۔وزیراعلیٰ کی زیر نگرانی متعدد منصوبے مکمل بھی کیے جا چکے ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے ایک اور منصوبے ”سگیاں روڈ ری ہیبلی ٹیشن اینڈ امپروومنٹ پراجیکٹ“کا سنگ بنیاد رکھاہے۔اس پراجیکٹ پر لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کام کر رہی ہے۔ ڈائریکٹر جنرل ایل ڈی اے احمد عزیز تارڑدن رات منصوبے کی نگرانی کر رہے ہیں اور منصوبے پر کام تیزی سے جاری ہے۔

  وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بعض لوگ ترقی کے سفر میں خلل ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔مخالفین صرف تخریب کاری کی سیاست کر رہے ہیں،ہمارے مخالفین کو صوبے کی ترقی اور عوام کی خوشحالی اچھی نہیں لگتی۔ہمیشہ صاف ستھری سیاست کی ہے  اورہم عوام کی خدمت کرتے رہیں گے۔ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں پنجاب آگے بڑھتا جائے گا۔ہم عوام کی خدمت کی ذمہ داری ہر صورت نبھائیں گے۔

 وزیراعلیٰ  نے کہا کہ سگیاں کا علاقہ ایک طویل عرصے سے نظر انداز تھا،یہاں ٹریفک کے مسائل میں اضافہ ہور ہا تھا آلودگی،گردوغبار،بے ہنگم ٹریفک کی وجہ سے شہری مسلسل اذیت میں تھے۔اس منصوبے کی تکمیل سے سگیاں بائی پاس اور اس سے ملحقہ تمام آبادیاں مستفید ہوں گی۔ فیض پو ر، پھول منڈی،شیخوپورہ، شاہدرہ، بیگم کوٹ، نین سکھ اورملحقہ آبادیوں کو سہولت ہو گی۔ شہریوں کومتبادل داخلی و خارجی راستے میسرہونگے۔، ٹریفک کی روانی میں بہتری آئے گی اور علاقے سے آلودگی اور گردو غبار کا خاتمہ ہوگا۔ اس پراجیکٹ کی تکمیل سے روزانہ ایک لاکھ دس ہزار گاڑیوں کو فائد ہ ہوگا۔

  سگیاں بحالی منصوبہ ”سٹیٹ آف دی آرٹ“پراجیکٹ ہے اور اس پر  چار ارب 32کروڑ روپے لاگت آرہی ہے۔یہ منصوبہ آٹھ ماہ میں مکمل کیاجائے گا،منصوبے کے تحت چار سڑکوں کی تعمیر،مرمت اور بحالی کا کام کیاجارہا ہے۔راوی پل سے پھول منڈی چوک تک سڑک تعمیر کی جارہی ہے۔سڑ ک کی لمبائی 3.9کلومیٹر اور یہ تین لینز پر مشتمل ہے۔ پھول منڈی چوک سے لاہور شیخوپورہ روڈ تک سڑک تعمیر کی جارہی ہے، سڑک کی لمبائی 1.2کلومیٹر اور یہ تین لینز پر مشتمل ہے۔ پھول منڈی چوک سے فیض پور انٹرچینج موٹروے ایم ٹو تک سڑک تعمیر کی جارہی ہے،اس کی لمبائی3.1 کلومیٹر اور یہ دو لینز پر مشتمل ہوگی۔ پھول منڈی چوک سے بیگم کوٹ تک سڑک تعمیر کی جارہی ہے اوراس کی لمبائی 1.6 کلومیٹر اور یہ دو لینز پر مشتمل ہوگی۔ پھول منڈی چوک میں خوبصورت راؤنڈ اباؤٹ تعمیر کیاجارہا ہے۔علاقے میں واسا سیوریج سسٹم کی بحالی کا کام بھی جاری ہے۔بارشی پانی کی نکاسی کا بہترین انتظام کیاجارہا ہے۔پھول منڈی چوک تافیض پور انٹرچینج ایم ٹو تک پارکنگ بنائی جارہی ہے۔ ڈرین کم واک ویز تعمیر کی جارہی ہیں۔ٹریفک سائنز، سیفٹی ڈیوائسزاور سٹریٹ لائٹس نصب کی جائیں گی۔

  لاہورڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل احمد عزیز تارڑ وزیراعلی پنجاب کے وژن کو عملی صورت دینے کے لئے کوشاں ہیں،ان کے دور میں متعدد منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچے اور کئی منصوبوں پر کام جاری ہے۔ لاہور کے گنجان اور مصروف ترین علاقے سے ٹریفک کے مسائل کے خاتمے اور شہر کے تمام حصوں کو ترقی کے ثمرات سے بہرہ مند کرنے کے لئے آسٹریلیا چوک ریلوے سٹیشن سے جنرل بس سٹینڈ کے قریب شیرانوالہ گیٹ سرکلر روڈ تک فلائی اوور تعمیر کیا جا رہا ہے۔ منصوبے پر4ارب 90کروڑ روپے لاگت آرہی ہے۔ پراجیکٹ کا 78فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور یہ مارچ2022ء کے آخر تک مکمل کر لیاجائے گا، یہ 1کلومیٹرطویل اور 2، 2لینز پر مشتمل 2رویہ فلائی اوور ہوگا۔ منصوبے سے روزانہ ایک لاکھ 30ہزار سے زیادہ گاڑیوں کو فائدہ ہوگا۔ اس کی تعمیر کے نتیجے میں یہاں سے گزرنے والی ٹریفک کو سگنل فری راستہ میسر آئے گا۔یہ ماحول دوست منصوبہ ہے،اس سے آلودگی میں کمی ہوگی۔ ایندھن کی مد میں سالانہ کروڑوں روپے کی بچت ہوگی۔ شہریوں کے قیمتی وقت کی بچت ہوگی۔

  شہر کا ایک اہم ترین منصوبہ ”ایلی ویٹڈ ایکسپریس وے“ہے، یہ 61ارب روپے کی لاگت سے  بہت جلد شروع کیاجا رہا ہے، یہ مین بلیوارڈ گلبرگ سے موٹروے ایم ٹو تک تعمیر کیاجائے گا۔منصوبے کی کل لمبائی 10.5کلومیٹر ہے، اس سے روزانہ 73ہزار سے زائد گاڑیوں کو سہولت میسر آئے گی۔یہ منصوبہ15ماہ میں مکمل ہوگا۔منصوبے سے گلبرگ، کینال روڈ،فیروز پورروڈ،ملتان روڈ،سمن آباد،گلشن راوی، بند روڈ، ظفر علی روڈ،جیل روڈ، مال روڈ، اچھرہ، ٹولینٹن مارکیٹ، عابد مارکیٹ، شادمان مارکیٹ،سروسز ہسپتال،پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی،لاہور کالج، کنیرڈ کالج،ہوم اکنامکس کالج، ایل او ایس، ریسکیو1122 سمیت بہت سے علاقے مستفید ہوں گے۔ یہ منصوبہ سینٹرل سٹی کو موٹروے سے ملائے گا،منصوبے سے سموگ اور آلودگی میں کمی واقع ہوگی۔ منصوبے پر خرچ ہونے والی رقم دس سے 13سال میں ٹال ٹیکس کی مد میں پوری ہو جائے گی۔

 -4 ارب 23کروڑ روپے کی لاگت سے ”شاہکام فلائی اوور“ کی تعمیر بھی تیزی سے جاری ہے۔یہ منصوبہ ملتان روڈ کے قریب کینال روڈ اور ڈیفنس روڈ کے سنگم پر شاہکام چوک میں تعمیر کیاجا رہا ہے۔یہ ٹریفک کے بہاؤ کے اعتبار سے انتہائی مصروف مقام ہے،منصوبہ تکمیل کے مراحل میں ہے اور اب تک اس پراجیکٹ کا 75فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔یہ دو رویہ اور تین تین لینز پر مشتمل فلائی اوور ہے،منصوبے کے تحت لیبر کالونی سے شاہکام چوک تک چھ کلومیٹر طویل ڈیفنس روڈ کو بھی بہتر کیاجائے گا اور کینال روڈ کی بہتری کاکام بھی کیاجائے گا۔ منصوبے سے روزانہ ایک لاکھ20ہزار سے زیادہ گاڑیوں کو فائدہ ہوگا، کینال روڈ، ملتان روڈ،ڈیفنس روڈ سے گزرنے والی ٹریفک کو سہولت میسر آئے گی اوراس سے ملحق دیگر بہت سی آبادیاں مستفید ہوں گی۔ 

  ایل ڈی اے نے شہر میں ٹریفک کے بڑھتے مسائل پر قابوپانے کے لئے ملتان روڈ پر سمن آباد انڈر پاس منصوبے کا پلان تیار کیا ہے،سمن آباد چوک میں اورنج ٹرین ٹریک کے سبب فلائی اوور کی تجویز مسترد کی گئی تھی اور اب فلائی اوور تعمیر کیاجائے گا۔ یہ انڈر پاس سمن آباد چوک میں تعمیر کیاجائے گا۔منصوبے سے شہریوں کے قیمتی وقت اور ایندھن کی بچت ہوگی اور ٹریفک کے بہاؤ میں بہت بہتری آئے گی۔ 

 ”الیکٹرک ٹرام وے پراجیکٹ“شہر لاہور میں بہت خوشگوار تبدیلی لے کر آئے گا۔ یہ ٹرام جلو سے ٹھوکر نیاز بیگ تک ”کینال روڈ“پر چلے گی،یہ 22کلومیٹر پر مشتمل منصوبہ ہے، اس سے ٹریفک کا دباؤ کم ہوگا۔ جلو تا ٹھوکر 21سمارٹ سٹیشن تعمیر کیے جائیں گے، مجموعی طورپرمنصوبے پر21 ارب سے زائد لاگت آئے گی۔ کینال کے دونوں اطراف مین روڈپر8فٹ چوڑا ٹریک بنایا جائے گا۔

 سردار عثمان  بزدار نے گورنمنٹ کالج شرق پور شریف کو اپ گریڈ کرنے  کا اعلان کرتے ہوئے  کہا کہ اسے پوسٹ گریجوایٹ کالج کا درجہ دیں گے۔ گورنمنٹ ایسوسی ایٹ کالج بوائز شرق پور شریف کو میاں شیر ربانی سے منسوب کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ سابق حکومت نے ورثے میں لاوارث منصوبے بھی چھوڑے اور 56 ارب روپے کے ڈس آنر چیک بھی چھوڑے اب موجودہ حکومت کی قیادت ذاتی پبلسٹی نہیں کر رہی جب کہ زمینی حقاق یہ ہیں کو اب سابق حکومت سے زیادہ ڈویلپمنٹ کام اب ہو رہے ہیں۔ تاریخ کا سب سے بڑا ترقیاتی بجٹ موجودہ حکومت نے دیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ لاہور پاکستان کا دل ہے اور ترقیاتی منصوبے اس شہر کا حق ہے ماضی میں یہ ہوتا رہا کہ سابق حکومت نے پورے لاہور پر کم اور چند پوش علاقوں پر زیادہ خرچ کیا۔آج ہر شہر اور علاقے کے ساتھ انصاف کیا جا رہا ہے۔ جناب سردار عثمان کا یہ کہنا ہے ہمارے دور میں کسی شہر یا علاقے سے ناانصافی نہ ہوئی ہے اور نہ ہوگی۔ عوام کو اچھی طرز حکمرانی فراہم کرنا اور سہولتیں فراہم کرنا میرا مشن ہے۔ خود ہر ضلع میں جا کر ترقیاتی منصوبو ں پر کام کی رفتار کا جائزہ لیتا ہوں۔ راوی ریور اربن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ اور سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ گیم چینجر منصوبے ہیں، نیا شہر آباد ہوگا۔ لاہور کو بین الاقوامی معیار کا شہر بنائیں گے۔ جناح اور سروسز ہسپتال میں 300 بیڈ کے ایمرجنسی اور ٹراما سینٹر بنیں گے اور ان منصوبوں پر 12 ارب روپے سے زائد خرچ ہوں گے۔ لاہور میں ساڑھے  9 ارب روپے کی لاگت سے واٹر میٹر لگائے  جائیں گے۔ بیدیاں روڈ اور کریم بلاک علامہ اقبال ٹاؤن پر انڈر پاس بنائیں گے۔ بہت سے منصوبے ایکنک میں ہیں، منظور ہو گئے تو ترقیاتی بجٹ ایک ہزار ارب روپے سے بھی بڑھ جائے گا جو پنجاب کی تاریخ کا سب سے بڑا ترقیاتی بجٹ ہوگا۔ 55  فیصد ترقیاتی فنڈز استعمال کئے جا چکے ہیں۔المیہ یہ ہے کہ اتنے ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ جن میں سے بعض مکمل ہو چکے ہیں اور بعض پرکام جاری ہے۔ تحریک انصاف اور اس کی اتحادی جماعتوں کوعوام کی بھرپور حمائت حاصل ہوچکی ہے اور اپوزیشن چاہتی ہے کہ ترقی کا یہ سلسلہ جاری رہا تو آنے والے انتحابات میں عوام حکومت کے ساتھ ہوں گے۔

 اس کے علاوہ متعدد شعبوں کے کئی منصوبوں پر کام جاری ہے جن میں -12ارب60کروڑ روپے کی لاگت سے جناح اور سروسز ہسپتال میں ایمرجنسی اور ٹراماسنٹر کا قیام،صوبائی دارلحکومت میں پانی کے میٹر کی تنصیب پر -9ارب29کروڑ روپے لاگت آئے گی۔گنگا رام ہسپتال میں مدر اینڈ چائلڈ بلاک کی تعمیر،ایک ہزار بیڈ کا نیا جنرل ہسپتال،لاہور شاہی قلعے میں تاریخی ورثے کی بحالی،لاہور شہر کی خوبصورتی اور دلکشی اجاگر کرنے کے لئے ”دلکش لاہور“ پراجیکٹ شروع کیا جارہا ہے۔ سبزہ زار میں ویمن ڈویلپمنٹ آفس کمپلیکس تعمیر کیا جارہا ہے جو 60کروڑ روپے سے مکمل ہو گا۔اسی طرح پریزن کمپلیکس لاہور بھی60کروڑ روپے میں تعمیر ہو گا۔ سول سیکرٹریٹ میں ملٹی سٹوری پارکنگ پلازہ بھی بنایا جائے گا جو 50کروڑ روپے سے مکمل ہو گا۔یونیورسل ہیلتھ پروگرام کا انشاء اللہ مارچ کے آخر تک پنجاب کے ساڑھے گیارہ کروڑ عوام کو مفت علاج کی سہولت میسر ہو گی اور لاہور ڈویژن میں 36لاکھ خاندانوں کو نیا پاکستان قومی صحت کارڈ کے تحت ہیلتھ انشورنس مل چکی ہے اور اب تک پنجاب کے 7ڈویژنز میں قومی صحت کارڈ فنگشنل ہوچکا ہے۔ اس پراجیکٹ کے لئے -400ارب روپے مختص کئے ہیں۔اپوزیشن پنجاب میں جاری ترقیاتی عمل میں خلل ڈالنا اور انتشار پیدا کرنا چاہتی ہے تاکہ پنجاب کی ترقی کو بریک لگ جائے اور عوام کے حقیقی فلاح وبہبود کے منصوبے بند ہو جائیں۔وزیراعلی نے کہا کہ عمران خان کی قیادت میں ترقی کا سفر جاری رہے گا اور کسی کو پنجاب کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ہماری تمام تر توجہ عوام کی خدمت پر مرکوز ہے اور ہم پہلے سے زیادہ پراعتماد ہیں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -