پشاو ر میں دہشت گردی……خطرے کی گھنٹی

پشاو ر میں دہشت گردی……خطرے کی گھنٹی

  

پشاور میں کوچہ رسالدار کے قریب واقع ایک مسجد میں خود کش حملے کی وجہ سے57نمازی شہید ہو گئے،جبکہ زخمیوں کی تعداد  200کے قریب بتائی جاتی ہے۔یہ سانحہ اُس وقت پیش آیا جب مسجد میں لوگ نمازِ جمعہ کے لیے موجود تھے اور خطبہ جاری تھا۔خود کش حملہ آور نے مسجد میں داخل ہونے سے پہلے مرکزی دروازے پر تعینات دو پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی،جس سے ایک جاں بحق اور دوسرا زخمی ہو گیا۔اُس کے بعد حملہ آور تیزی سے مسجد کے اندر داخل ہوا،پہلے فائرنگ کی اور پھر خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ذرائع کے مطابق اُس وقت مسجد کے زیریں ہال میں چار سو سے زائد افراد موجود تھے۔آئی جی پولیس معظم جاہ انصاری نے بتایا پانچ سے چھ کلو تک بارودی مواد اس حملے میں استعمال کیا گیا،جبکہ موقع سے159کے قریب بال بیرنگ برآمد کئے گئے ہیں،جن کی وجہ سے نقصان زیادہ ہوا،ایک طویل عرصے کے بعد ایسا اندوہناک سانحہ رونما ہوا ہے۔آئی جی خیبرپختونخوا کے مطابق اس خود کش حملے کے پیچھے موجود گروپ تک پولیس جلد پہنچ جائے گی اور اُسے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے اس خود کش حملے کے پس ِ پردہ غیر ملکی ہاتھ کو خارج از امکان قرار نہیں دیا۔انہوں نے کہا بعض غیر ملکی طاقتیں پاکستان کے داخلی امن کو تباہ کرنا چاہتی ہیں اور یہ واقعہ اُسی سلسلے کی ایک کڑی نظر آتا ہے۔دہشت گردی کا یہ بڑا واقعہ  ایک بار پھر خطرے کی گھنٹی بجا گیا ہے۔اگرچہ2021ء سے اب تک دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کا رجحان دیکھا گیا ہے،جن میں سیکیورٹی پر مامور افراد کو نشانہ بنایا جاتا ہے تاہم ایک مسجد میں خود کش حملہ ایک طویل مدت کے بعد ہوا ہے،جس سے شائبہ ابھرتا ہے کہ دہشت گرد ایک بار پھر منظم ہو رہے ہیں۔علاقے کے مکینوں نے بتایا ہے کہ چند روز پہلے اسی علاقے میں دستی بموں سے حملہ کیا گیا تھا،جس کے بعد یہاں سیکیورٹی بڑھانے کی درخواست بھی دی گئی تھی،مگر صرف دو پولیس والے تعینات کیے گئے،جبکہ اس مسجد میں جمعہ کی نماز میں آٹھ سو سے ایک ہزار افراد تک موجود ہوتے ہیں۔

دہشت گردی کے اس واقعہ کی ٹائمنگ بہت اہم ہے۔ پاکستان میں مجموعی طور پر امن و امان کی فضا موجود ہے۔بڑے بڑے لانگ مارچ ہو رہے ہیں، کامیاب پی ایس ایل ہوا ہے،آسٹریلیا کی ٹیم24سال بعد پاکستان آئی ہے،راولپنڈی میں ٹیسٹ میچ جاری ہے،اِسی ماہ اسلام آباد میں او آئی سی کا اجلاس ہونے والا ہے،پاکستان کے پرامن ملک ہونے کا امیج بڑی تیزی سے بہتر ہوا ہے۔ ایسے میں ایک بڑا خود کش حملہ پشاور جیسے بارونق شہر کے گنجان آباد علاقے میں ہونا اور اس میں بے گناہ انسانی جانوں کا اتنے بڑے پیمانے پر نقصان،ایک ایسی سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ دکھائی دیتا ہے،جس کا مقصد دنیا کو پاکستان کے بارے میں ایک منفی تاثر دینا ہے۔اس سازش کے تانے بانے کہاں ملتے ہیں اس کا کھوج لگانا حکومت اور ہمارے انٹیلی جنس اداروں کی ذمہ داری ہے۔ابھی دو ہفتے پہلے ہی آپریشن ردالفساد کے پانچ سال پورے ہونے پر یہ اعداد و شمار پیش کئے گئے تھے کہ کس طرح اس آپریشن کے ذریعے دہشت گردوں کی کمر توڑی گئی اور اُن کے نیٹ ورک کا خاتمہ کیا گیا۔بلاشبہ اس حوالے سے کامیابیوں کی ایک طویل فہرست موجود ہے۔تاہم پشاور کا یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دہشت گردی کا ناسور ابھی پوری طرح ختم نہیں ہوا اور بچے کھچے عناصر کسی نہ کسی صورت وار کر کے ہمارے امن کو تہہ و بالا کر دیتے ہیں۔

اپوزیشن کی طرف سے الزام لگایا جا رہا ہے کہ موجودہ حکومت نے نیشنل ایکشن پلان کو پس و پشت ڈال رکھا ہے۔اُس پر عملدرآمد نہیں کیا جا رہا۔طے شدہ مدت کے بعد اُس کے اجلاس نہیں ہوتے، دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے حکومت کی حکمت عملی کیا ہے اس بارے میں بھی ابہام موجود ہے، کالعدم تنظیموں سے مذاکرات کرنے ہیں یا اُن سے آہنی ہاتھوں کے ساتھ نمٹنا ہے،اس حوالے سے بھی کسی واضح سوچ کا فقدان نظر آتا ہے۔پاکستان میں امن بڑی قربانیوں کے بعد آیا ہے، اسے کسی صورت دہشت گردی کی بھینٹ نہیں چڑھنا چاہیے۔ابھی کچھ ہی دن پہلے وزیر داخلہ شیخ رشید احمد یہ کہہ چکے ہیں کہ مذاکرات صرف اُس سے ہوں گے، جو پاکستان کے آئین کو تسلیم کر کے خود کو اُس کے تابع کرے گا۔اس بارے میں دو  رائیں نہیں ہو سکتیں کہ ریاست کو اپنی رٹ منوانی چاہیے اور نیشنل ایکشن پلان کے تحت جرأت مندانہ فیصلے کرنے چاہئیں۔کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور داعش کے بارے میں یہ شکایات بھی آ رہی ہیں کہ وہ خیبرپختونخوا میں سرگرم ہیں اور وہاں تاجروں اور صنعتکاروں کو بھتے کی پرچیاں بھی بھیجی جاتی ہیں۔افغانستان میں طالبان کی حکومت آنے کے بعد داعش کا وہاں ناطقہ بند ہوا ہے تو وہ پاکستان میں قدم جمانا چاہتی ہے۔ بدقسمتی سے اس وقت ملک میں ایک سیاسی انتشار کی فضا ہے،حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا شور ہے،لانگ مارچ کے ذریعے حکومت کو گھر بھیجنے کی تحریک بھی چل رہی ہے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سندھ میں ایک مارچ کی نگرانی کر رہے ہیں۔وزیراعظم کی توجہ اپنے اتحادیوں کو ساتھ رکھنے اور منانے پر مرکوز ہے۔ وزیر داخلہ آئے روز اپوزیشن کے خلاف پریس کانفرنس کر کے اپنا فرض نبھاتے ہیں ایسے میں ملک کے داخلی اور خارجی امور پر توجہ کون دے گا؟دہشت گردی کے جس چیلنج کا ہمیں سامنا ہے،اُس سے نمٹنے کی حکمت عملی کیسے تیار ہو گی۔ اس وقت سیاسی حالات کی وجہ سے یہ بھی ممکن نظر نہیں آتا کہ پارلیمینٹ کا اجلاس بُلا کر ملک کی مجموعی صورتِ حال پر بحث کی جائے،کوئی مشترکہ پالیسی اپنائی جائے۔پشاور جیسے سانحے کا رونما ہونا،عدم تحفظ کو بڑھانے کا باعث بنا ہے،ضرورت اِس امر کی ہے کہ2015ء کے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کو جاری رکھا جائے،اس ایکشن پلان کے دہشت گردی کے حوالے سے جو اہداف مقرر کئے گئے تھے انہیں یقینی بنانے کے لیے آج بھی اس پر سختی سے عمل کرنے کی اتنی ہی ضرورت ہے،جتنی اُس وقت تھی جب دہشت گردی نے ملک کو پوری طرح اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔

مزید :

رائے -اداریہ -