ماہ شعبان، علامہ ابوالحسنات کی یاد اور معاشرے کی حالت!

 ماہ شعبان، علامہ ابوالحسنات کی یاد اور معاشرے کی حالت!
 ماہ شعبان، علامہ ابوالحسنات کی یاد اور معاشرے کی حالت!

  

آج دو شعبان المعظم ہے یوں تو سبھی دن اور مہینے اس ذات واحد کے ہیں اور ہر ایک مبارک ہے۔ تاہم بعض مہینے زیادہ متبرک مانے جاتے ہیں اور یہ ہم مسلمانوں کے راہنما حضرات  کی توجہ ہے۔ شعبان یوں بھی رمضان المبارک کا درواز ہے اور اس کے اختتام کے ساتھ ہی وہ برکتوں اور رحمتوں والا مہینہ شروع ہو جاتا ہے۔ آنے والے ماہ مبارک میں اللہ کے کرم سے روزہ دار حضرات کے لئے صحت کا بھی پیغام ہوتا ہے کہ روزہ کو جسم کی زکوٰاۃ کہا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے فرامین اور ہدایات کی روشنی میں نظر ڈالیں تو سب ایسی حقیقت دکھائی دیتی ہے، جیسے چودہ، ساڑھے چودہ سو سال قبل نہیں ابھی فرمایا گیا ہو، ابھی گزشتہ روز سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ دیکھی جس میں تاجر بھائیوں کے حوالے سے طنز کی گئی تھی کہ ہمارے دوکان دار جلدی جلدی پچاس روپے کی شے سو روپے میں بیچ کر مسجد کی طرف بھاگیں گے کہ نماز قضاء نہ ہو جائے، یہ ہمارا سماجی رویہ بن گیا ہے۔ اس پر کچھ لکھنا قلم کی سیاہی ضائع کرنے کے مترادف ہے کہ یہ تو ہر سال ہوتا ہے۔ ہر سال رمضان بازار بھی سجتے ہیں لوگ کچھ بچت کے لئے وہاں جاتے اور پھر شرمندہ بھی ہوتے ہیں کہ کچھ سستا نہیں ملتا اور جس شے کے نرخ بازار کی نسبت ذرا کم ہوں وہ غیر معیاری ہوتی ہے۔

یہ تو احوال واقعی ہے میرے لئے 2 شعبان المعظم کی نوعیت ذرا مختلف ہے۔ یہ تاریخ ہر سال آتی ہے کہ چاند اور سوج اپنے محور کے گرد اسی رفتار اور انداز سے گھومتے ہیں۔ جو رب ذوالجلال نے متعین کر رکھی ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے تو پھر شعبان المعظم بھی ہر سال آئے گا اور یکم کے بعد دو بھی ہو گی۔ دو شعبان المعظم کو میرے بزرگ میرے راہنما شفیق شخصیت ممتاز عالم محدث، غازی کشمیر، حافظ قرآن حضرت علامہ ابوالحسنات محمد احمد قادری اس فانی دنیا سے کوچ کر کے سدا رہنے والی دنیا کی طرف روانہ ہوئے تھے اور ہم جیسے ہزاروں سوگواروں کو چھوڑ گئے تھے۔ وہ راہ ہدایت کی طرف رجوع کرنے کے لئے کہتے اور سنت رسولؐ کے حوالے سے ہمیشہ سماجی ذمہ داریاں بھی پوری کرنے کی تلقین فرمایا کرتے تھے۔ حضرت علامہ ابوالحسنات (الوری کہہ لیں) ایک اعتدال پسند، مہذب اور بہت بڑے با علم، با عمل عالم تھے۔ ان کے والد محترم مولانا دیدار علی شاہ الور سے لاہور تشریف لائے اور راہ ہدایت کا سلسلہ شروع کیا۔ ان کے دونوں صاحبزادوں حضرت علامہ ابوالحسنات محمد احمد قادری اور علامہ ابوالبرکات سید احمد قادری نے بھی والد کی حاضری میں خدمت دین ہی کا سلسلہ شروع کیا۔ حضرت ابوالبرکات تو والد محترم والی مسجد میں درس دیتے چلے گئے جبکہ بڑے صاحبزادے حضرت علامہ ابوالحسنات کو جامع مسجدد وزیر خان کی خطابت کا بھی اعزاز حاصل ہوا۔ وہ یہاں نماز فجر کے بعد درس حدیث دیتے اور رمضان المبارک میں تراویح بھی پڑھاتے حضرت حافظ قرآن تھے اور تلاوت میں ترنم کا احساس ہوتا تھا۔

حضرت علامہ ابوالحسنات کی ذات مبارک ہم لڑکوں اور نوجوانوں کے لئے بھی مشعل راہ تھی کہ ان کی رہائش باغیچی صمدد اندرون اکبری دروازہ میں تھی۔ جو میری اپنی پیدائش کا محلہ ہے چنانچہ ہم سب ان کی شفقت سے محظوظ ہوتے تھے کہ وہ طبیب ہونے کے ناتے اپنے مکان کی گراؤنڈ فلور پر مطب کرتے تھے۔ ہم لڑکے بالے تھے تو کھیلتے کھیلتے کئی بار گیند ادھر چلا جاتا انہوں نے کبھی برا نہ منایاا ور گیند لینے کی اجازت دیتے البتہ کبھی کبھی یہ کہتے بچو ذرا سنبھل کر کھیلو۔

ہم بڑے ہوئے تو نماز جمعہ جامع مسجد وزیر خان میں ادا کرنے لگے اور پھر تراویح بھی وہاں پڑھیں۔ نماز فجر کے درس سے بھی مستفید ہوئے حضرت علامہ ابوالحسنات کے گھر کی پہلی منزل پر ایک ہال نما کمرہ بھی تھا جہاں عصر سے مغرب تک محفل بھی جمتی اور وہ حاضرین کے سوالوں کے جواب بھی دیتے میرے والد محترم اور ان کے بعد میں بھی جسارت کر کے سوال پوچھتا اور وہ شفقت سے جواب دیتے۔

حضرت اکثر قیامت کا ذکر کرتے، احادیث مبارکہ سے ہدایت کی تلقین کرتے اور بتاتے تھے کہ مسلمان گمراہی کے راستے پر گئے تو خوار ہوں گے۔ گمراہی سے ان کی مراد کبھی بھی صرف عبادت نہ ہوتی، بلکہ وہ زمانہ نبوت و خلافت راشدہ کے دور والے معاشرے کی تفصیل بتانے اور یہ تلقین کرتے تھے کہ حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کی پیروی اور ہدایت پر عمل ضروری ہے۔ جہاں تک ہمارے بعض ایسے سوالات جو احادیث کے مختلف مفہوم سے تعلق رکھتے تھے وہ فرماتے حدیث کا علم ایسا ہے۔ جس کے لئے بہت ریاضت کی ضرورت ہے۔ پہلے تو یہ کہ جو مادری اور علمی زبان ہو، اس پر عبور حاصل ہو، پھر عربی پر بھی مکمل دسترس لازم ہے۔ اس کے علاوہ تاریخ اور جغرافیہ پر کامل عبور حاصل ہو تو حدیث کی تشریح ممکن ہے۔ اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ جو بھی احادیث قرآن کے معیار پر پوری اتریں انہی پر صاد اور عمل کیا جانا چاہئے۔

علامہ فضولیات سے ہمیشہ منع کرتے آپس میں سلوک اور دیانت کے رشتے کا پرچار کرتے ان کا لہجہ بڑا دھیما اور شیریں تھا ان کا یہ اعزاز بھی ہے کہ جمعیت علماء پاکستان کے بانی صدر تھے۔ ان کی زندگی تک جمعیت فعال اور متحد رہی۔ ان کے بعد ایسے اختلاف ہوئے کہ آج جمعیت کیا اور کہاں ہے کچھ علم نہیں ہوتا ان کی شخصیت اور حیثیت قابل قبول بھی تھی اور جب ختم نبوت کے مسئلہ پر تمام مسالک پر مشتمل مجلس عمل بنی تو ان کو اس کا سربراہ چنا گیا تھا۔ آج ان کا یوم وصال ہے۔ ان کے صاحبزادے امین الحسنات سید خلیل احمد کی اولاد نہیں تھی۔ جب تک وہ خود حیات تھے عرس بھی وہی مناتے تھے اب ان کے نواسے اور حضرت احمد شاہ گجراتی (مرحوم) کے صاحبزادے یہ فرض ادا کرتے ہیں۔

مجھے یہ عرض کرنا ہے کہ حضرت علامہ ابوالحسنات  ایسے بزرگ تھے جو معاشرتی برائیوں سے روکتے تھے۔ یہ درست کہ وہ مسائل بھی بہت دلیل کے ساتھ بیان کرتے تاہم انسانی جبلت کے حوالے سے بھی ہدایت کرتے تھے۔ آج جو ذکر قیامت کا ہے تو میرے ایک استفسار پر علامہ نے فرمایا ”دیکھو جوان! جو بھی رسالت مآبؐ نے فرمایا وہ برحق اور پورا ہونا ہے۔ تاہم اسے اگر نصیحت مان لو اور ان برائیوں کو نہ اختیار کرو جن کی ممانعت کی گئی تو کم از کم تمہاری اپنی زندگی میں تو قیامت نہ ہو گی۔ آج کے معاشرے کی جو حالت ہے۔ اس کے حوالے سے ہر شخص توبہ استعفار تو کرتا ہے لیکن عملی طور پر درست نہیں ہوتا ایک عرض کروں سوشل میڈیا کی برائیوں کا بہت ذکر ہے یہ سب افراد کے حوالے سے ہے۔ پیمرا بہت کچھ کر گزرتی ہے لیکن دین کی بے حرمتی پر اس کی نگاہ نہیں یوٹیوب پر صاحب دل حضرات نے سورہ رحمن سے لے کر متعدد سورتیں نعتیں اور دعائیں۔ پوسٹ کر رکھی ہیں۔ قاری باسط کی آواز میں تو سورہ رحمن لاکھوں بار سنی جا چکی۔ دکھ یہ ہے کہ ان قرآنی آیات، سورتوں اور نعتوں کو بھی نہیں بخشا گیا اور اشتہاری کمپنیاں ان کے شروع ہونے سے قبل اور درمیان میں ایسے اشتہار چلاتی ہیں کہ توبہ توبہ ہونے لگتی ہے اسے ایف آئی اے کا ونگ دیکھے گا؟ یا پیمرا کا بھی کوئی فرض ہے۔ یہ بھی تو قرب قیامت ہے۔

مزید :

رائے -کالم -