ایمپائر نیوٹرل ہو توکیا ہوتا ہے؟

ایمپائر نیوٹرل ہو توکیا ہوتا ہے؟
ایمپائر نیوٹرل ہو توکیا ہوتا ہے؟

  

جب ایمپائر نیوٹرل ہوتا ہے تو ٹیموں کو اپنے زور بازو پر کھیلنا پڑتا ہے۔ دکھانا پڑتا ہے کہ ان کے پاس کھیل کھیلنے کی کتنی مہارت ہے اور وہ ایک مشکل صورت حال سے کیسے نکل سکتے ہیں، لیکن وہ کھلاڑی کسی مشکل سے کیا نکلے گا جس نے اپنے غلط فیصلوں سے پوری ٹیم کو ایک بڑی مشکل میں دھکیل دیا ہو۔ ایک اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ایمپائر جانبداری اس لئے کر رہا ہوتا ہے کہ وہ بھی کسی مافیا کے دباؤ میں ہوتا ہے، جس کا فائدہ کھیلنے والی دو ٹیموں میں سے کسی ایک کو ہو رہا ہوتا ہے۔ جونہی ایمپائر سے وہ دباؤ ہٹتا ہے اور وہ غیر جانبداری اختیار کرتا ہے تو تماشائیوں کو میچ کا لطف آنے لگتا ہے کیونکہ ایسی صورت میں کھیلنے والی دونوں ٹیمیں میرٹ پر ایک دوسرے کو پچھاڑنے کی جدوجہد کرتی ہیں۔ 

یہ ہر گز ممکن نہ تھا کہ عمران خان 2018ء کے انتخابات میں اتنی زیادہ نشستیں حاصل کر سکتے کیونکہ انتخابات سے قبل نواز شریف نے مجھے کیوں نکالا کی تحریک چلا کر عوام کو باور کروادیا تھا کہ انتخابات کے کھیل سے بہت پہلے ایمپائر نے اپنی غیر جانبداری کا سودا کرلیا تھا اور انہیں ایک ایسا میچ کھیلنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، جس کی کوئی تک نہیں ہے۔ تب یہ بھی ہوا تھا کہ نہ صرف ایمپائر بلکہ خود پیپلز پارٹی بھی نون لیگ کے خلاف تیار کئے جانے والے محاذ کا حصہ بن گئی تھی، کیونکہ اسے بھی علم تھا کہ جتنے زیادہ ترقیاتی کام نون لیگ نے کروادئیے ہیں ان کی موجودگی میں ایک صاف اور شفاف انتخابات میں کسی اور کی دال گلنے والی نہیں ہے۔ چنانچہ ایمپائر کے لئے اپنی غیر جانبداری کا کھیل رچانا اور بھی آسان ہوگیا تھا۔ اب چونکہ عمران خان کی پارٹی ہر گز اس پوزیشن میں نہ تھی کہ اتنی زیادہ نشستیں حاصل کرپاتی اس لئے جب الیکشن کے روز بھی دھاندلی کی گئی تو نون لیگ سراپا احتجاج نظر آئی لیکن میڈیا پر بیٹھے ایمپائر کے حواری تجزیہ کاروں نے اس احتجاج کو لفٹ ہی نہ کروائی اور یوں دن دیہاڑے عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا، کیونکہ ایمپائر جس مافیا کے قابو میں تھا وہ مافیا پیپلز پارٹی کی جگہ پی ٹی آئی کا انتخاب کر چکا تھا۔

ایمپائر کے لئے اصل مصیبت تب شروع ہوئی جب عمران خان حکومت چلانے میں ناکام ثابت ہوئے اور انتخابات میں انہوں نے جس قسم کے دعوے اور وعدے کئے تھے ان کا عشر عشیر بھی عوام کو حقیقی طور پر نظر نہ آیا۔ خیال یہ تھا کہ مافیا ایسا بندوبست کردے گا جس سے حکومت کو مالی مسائل کا شکار نہیں ہونے دیا جائے گا لیکن پی ٹی آئی حکومت کے پہلے وزیر خزانہ اسد عمر نے جب ڈالر کو بغیر کسی رکاوٹ کے اونچی اڑان بھرنے دی تو اتنا بڑا سوراخ پیدا ہوگیا حکومت کی کشتی آج تک ہچکولے کھا رہی ہے۔ اس دوران مافیا کو خود لینے کے دینے پڑ گئے اور عمران خان کو اقتدار میں لانے کا سارا آئیڈیا فلاپ ہو گیا۔ یہ ممکن تھا کہ دھاندلی زدہ انتخابات کے نتیجے میں اقتدار میں آنے کے بعد پی ٹی آئی حکومت گڈ گورننس کا ایسا معیار قائم کرتی،جس سے لوگ انتخابی دھاندلی کو بھول جاتے، لیکن چونکہ خود پی ٹی آئی ٹیم کے کپتان نے کبھی کسی ادارے کی مینجمنٹ میں کوئی کام نہیں کیا تھا، انہیں کسی قسم کا عملی تجربہ نہ تھا اور اس سے بڑھ کر یہ کہ جس طرح کرکٹ میں وہ اپنی مرضی کے فیصلے کرتے تھے اسی طرح جب انہوں نے گورننس کے محاذ پر کرنا شروع کیا تو پتہ چلا کہ حکومت سازی اور قذافی سٹیڈیم کی باؤنڈری میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ سیاست کرکٹ نہیں ہے کہ ایک میچ ہارا اور ایک جیت لیا اور یوں سیریز برابر کردی بلکہ یہاں جب ایک ہار ہوتی ہے تو ہر جیت پر پانی پھر جاتا ہے۔ 

ہم نے حال ہی میں دیکھا کہ پاکستان سپر لیگ کے دوران کمنٹیٹروں کی اکثریت کراچی کنگز کے حق میں تھی اور لاہور قلندرز کی جیت تسلیم کرنے کے لئے تیار نہ تھی۔ اس لئے نہ صرف کراچی کنگز بلکہ سرفراز احمد کی وجہ سے کوئٹہ گلڈیئٹرز کے بھی قصیدے پڑھتے سنائی دیتے تھے۔ جب یہ دونوں ٹیمیں بیڈ پرفارمنس کی وجہ سے پلے آف سے باہر ہوئیں تو انہی کمنٹیٹروں نے ملتان سلطانز کی مدح سرائی شروع کردی لیکن وہاں بھی ایسے زوردار بازوؤں کی کمی تھی جو زوردار طریقے سے گیند گھماسکیں اور یوں ہر طرح کی مخالفت کے باوجود لاہور قلندرز نے بازی مارلی۔ کچھ ایسی ہی صورت حال اس وقت پی ٹی آئی کو بھی درپیش ہے کہ جونہی بیساکھیاں پیچھے ہٹی ہیں تو زیرک اور گھاک سیاستدانوں کے مقابلے میں عمران خان ایک ناپختہ سیاست دان کے طورپر نظر آنے لگے ہیں اور اپوزیشن کی سیاسی چالوں سے زچ نظر آرہے ہیں۔ انہوں نے کابینہ میں توسیع کا لقمہ دیا تو ان کے اتحادیوں نے کوئی لفٹ نہیں کروائی، انہوں نے جہانگیر ترین کی طرف دیکھا تو وہ بھی منہ پھیر کر آگے بڑھ گئے کیونکہ عمران خان اپنے آپ کو بظاہر ایمانداری کے اعلیٰ پیڈسٹل پر رکھے ہوئے تھے اور ان کے مشیران کہتے نہیں تھکتے تھے کہ اگر جہانگیر ترین کے خلاف کرپشن کا الزام لگا تو خان تو اس کی بھی انکوائری کروائی اور آج جب جہانگیر ترین گروپ کو موقع ملا ہے تو انہیں تھکا تھکا کر مارنے کی تیاری کرچکا ہے۔ 

آج پی ٹی آئی والے کہتے پائے جاتے ہیں کہ اگر اسٹیبلشمنٹ کو عمران خان سے کوئی تکلیف نہیں ہے تو وہ کیونکر اس کی سپورٹ نہیں کرے گی۔ وہ ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں کہ ہر سیر کا سوا سیر ہوتا ہے اور اسٹیبلشمنٹ کتنی ہی طاقتور کیوں نہ ہوجب اس کی شامت آتی ہے تو اس کی حالت اس بدمست ہاتھی سے کم نہیں ہوتی جسے ایک چیونٹی ناکوں چنے چبوانے کی پوزیشن میں آجاتی ہے۔ اس لئے اللہ کی ذات سے ڈر کر رہنے میں ہی عافیت ہے!

مزید :

رائے -کالم -