ایک ہی جام میں شمس و قمر

ایک ہی جام میں شمس و قمر
ایک ہی جام میں شمس و قمر

  

فیضِ ساقی سے شب و روز ہیں یکساں روشن

ایک ہی جام میں ہم شمس و قمر رکھتے ہیں 

   برسوں پہلے واہ کینٹ میں سبط علی صبا، حسن ناصر اور حلیم قریشی کی ترقی پسند تنظیم فانوسِ ادب کے مقابل بزمِ فروغِ سخن کے مشاعرے میں سُنا یا گیا چچا تپش برنی کا یہ شعر چند روز سے بار بار کیوں یاد آرہا ہے؟ وجہ یہ المیہ کہ فروری کے آخری جمعہ کی سہ پہر ابلاغیات کے منفرد استاد ڈاکٹر مہدی حسن کے لئے قرآن خوانی کا اہتمام تھا کہ نامور صحافی عطا الرحمان صاحب کے چلے جانے کی خبر بھی آ گئی۔ قریبی جاننے والوں کے نزدیک مرحومین کے درمیان فکر و عمل کی باہمی دُوری  محتاج ِ تشریح نہیں۔ نظریاتی مسالک جدا جدا، زندگی  کے پیرائے الگ الگ۔ ایک ہی جام میں شمس و قمر البتہ میرے لئے دونوں کے ساتھ یکساں بے تکلف نیاز مندی کا اشارہ ہے۔ پھر یہ محرومی بھی کہ میرے بوسٹر انجکشن کے نتیجے میں چاند اور سورج ایک ساتھ میری امکانی احتیاطوں کے سمندر میں ڈوب گئے۔ 

   ایک اور زاویے سے دیکھیں تو عمر سے زیادہ پیشہ ورانہ تجربے میں بہت سینئر یہ دونوں صاحبان اِس کالم نویس کے دوست ہی نہیں بلکہ کسی نہ کسی شکل میں باس بھی رہے۔ ایک نے،جو زیادہ حلیم الطبع تھے، شاید مالک کے اُکسانے پر بطور ایڈیٹر مخصوص مشفقانہ انداز میں کچھ بین السطور افسری بھی دکھائی۔ دوسرے نے، جن کی سیف زبانی ضرب المثل رہی، بحیثیت ڈین آف فیکلٹی چائے اور کافی کی سبیل لگا کر اپنے دفتر کو بچپن کی غلط کاریوں کے مرتکب مایوس مریضوں کی آخری علاج گاہ بنا رکھا تھا۔ مفت مشورہ، دوا بلاقیمت اور پھر وہ پوسٹ آپریٹو  کئیر کہ ڈیوٹی ختم کرکے سرجن کی غیر موجودگی میں بھی مریض کلینک کی ڈائننگ ٹیبل پہ ہنستے مسکراتے بیٹھے رہتے، لیکن جناب، اب بات ترتیب سے ہوگی۔ تو آج اُستادوں کے اُستاد مہدی حسن جو دنیا سے جانے میں میرے دوسرے ممدوح پر دو روز کی سبقت لے گئے۔

   ڈاکٹر صاحب کو پہلی بار کب اور کہاں دیکھا؟ اب میرے حافظے میں نہیں۔ اتنا یاد ہے کہ اُن کا نام لاہور میں روزنامہ ”ڈان“ کے نامہ نگار نثار عثمانی سے مال روڈ والے دفتر میں سُنا تھا۔ یہ جنرل ضیا الحق کے طیارے سے  دو سال پہلے کا واقعہ ہے جب بی بی سی لندن سے سالانہ چھٹی کے دوران ’نئی نسل اور تعلیم‘ کے موضوع پر ایک سلسلہ وار پروگرام کرنے کا ارادہ بھی کر لیا۔ ترغیب اُس وبا کی پہلی لہر سے مِلی تھی جو کیمبرج سسٹم کے وائرس سے پیدا ہوا۔ تدریسی میڈیم کے تضادات، بڑھتی ہوئی بے روزگاری، نئی نسل میں فرار کا رجحان، منشیات کااستعمال اور دیگر مسائل۔ آٹھ روز میں کراچی، اسلام آباد اور لاہور جاکر پالیسی سازوں، اساتذہ، والدین اور مختلف سماجی، علاقائی اور تعلیمی پس منظر کے طلبہ سے بیسیوں انٹرویو کیے۔ پنجاب یونیورسٹی بھی جانا ہوا۔ تو کیا ڈاکٹر مہدی حسن سے بھی  ملے؟ جواب نفی میں ہے۔

   اِس پر آپ کا ردِ عمل وہی ہوگا جو یعقوب مرزا کے قلم سے کلامِ ِ فیض کا اغلاط سے پُر انگریزی ترجمہ پڑھ کر ہمارے گورڈن کالج کے پروفیسر سجاد شیخ کا ہوا تھا۔ سجاد شیخ لیاقت میموریل ہال راولپنڈی میں مذکورہ کتاب کی تقریب ِ رونمائی کے صدر تھے۔ پہلے تو انہوں نے ترجمہ شدہ متن کے نقائص ایک ایک کر کے گِنوائے۔ پھر عمر میں خود سے بڑے ترجمہ نگار کا نام بگاڑ کر پنجابی میں کہنے لگے کہ اگر یہ میرے شاگرد ہوتے تو مَیں اِن کے جوتے لگاتا، اور وہ بھی اِس طرح کہ ”بندہ دس مارے تے اِک گِنے۔ اتے نال پُچھے، اوئے دَس کوبیا، ہُن فیرکریں گا؟“ کوبے کی  بقیہ کہانی پروفیسر سجاد شیخ کے اُس وقت کے شاگرد، بعد ازاں ڈان لاہور کے رپورٹر اور اب برطانوی شہر ریڈنگ کے نواح میں بی بی سی مانیٹرنگ کے ساجد اقبال بخوبی بیان کر سکتے ہیں۔ ڈاکٹر مہدی حسن کے کُوبے کا موقف ذرا ہٹ کر ہے، مگر سُن لیجیے۔

   موقف اِس وضاحت پہ مبنی ہوگا کہ رواں صدی سے پندرہ برس پہلے تک پنجاب یونیورسٹی میں میری جان پہچان کا دائرہ بائیں بازو کے درجن بھر اساتذہ تک محدود تھا۔ اِن میں فزکس کے ڈاکٹر انیس عالم، جیالوجی والے منیر غضنفر، پولیٹکل سائنس ڈپارٹمنٹ کے خالد محمود اور مشاہد حسین کے علاوہ کئی دیگر ضیا گزیدہ  استاد بھی تھے جنہیں کبھی اوپن فرنٹ اور کبھی ’گھُس بیٹھیا‘ ٹیکنالوجی اختیار کرنا پڑتی۔ یہ نہیں کہ کسی پروگرام میں انٹرویو دینے کے لئے ذاتی تعلق کوئی بنیادی شرط ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ کراچی میں مرحوم اقبال جعفری اور برادرم مظہر عباس کی مدد سے جبکہ لاہور و اسلام آباد میں ذاتی رابطوں کی بدولت سیاسی وابستگیوں  سے قطع نظر ہر سطح کے چیدہ چیدہ انٹرویو ریکارڈ کر لئے تھے۔ اب خدشہ محسوس ہوا کہ کہِیں لندن جا کر صوتی ٹیپوں کے جنگل میں کوئی منطقی راستہ نکالنا دشوار نہ ہو جائے۔ سو ملاقات نہ کی۔ 

   ریلوے کی زبان  برتوں تو مَیں نے یہ لیٹ مستقل وطن واپسی پر نکالی ہے۔ سلسلہ اُس سہ پہر شروع ہوا جب چارلس والس ٹرسٹ کے سیکرٹری ڈاکٹر ولیم کرالے لاہور میں میرے ساتھ چائے پی کر کہنے لگے کہ کیوں نہ اقبال ٹاؤن میں ڈاکٹر مہدی حسن سے ملنے چلیں اور پھر سی بلاک، ماڈل ٹاؤن میں طاہر مرزا کے گھر کا رُخ کیا جائے۔ مَیں نے فون کیے  تو یوں لگا جیسے میزبان پہلے سے منتظر بیٹھے ہیں۔ اِسی اولین ملاقات میں ڈاکٹر مہدی حسن نے اپنے سیالکوٹی تعلق کا اشارہ یہ کہہ کر دیا تھا کہ اے پی پی کے معرو ف صحافی صفدر قریشی اور اُن سے چھوٹے سجاد دونوں بیگم صاحبہ کے سگے بھائی ہیں اور جناح اسلامیہ کالج میں عربی کے پروفیسر مفتی مشتاق الرحمان بیگم کے بہنوئی۔ طاہر مرزا سے ولیم کرالے کی ِملاقات کا حوالہ یہ ہے کہ طاہر مرزا بی بی سی میں اردو پروگرام پروڈیوسر اور ولیم ہیڈ آف ایسٹرن سروس رہے تھے۔

تو کیا ڈاکٹر مہدی حسن کی کہانی ختم ہو گئی؟ ہرگز نہیں۔ ہمارے پیشہ ورانہ کھیل کا آغاز ایک نجی یونیورسٹی میں ہوا جہاں ڈاکٹر صاحب نے ابلاغیات کے ڈِین کے طور پہ مجھے طلب کر لیا۔ یونیورسٹی کے قیام پہ ابتدائی طلبی ریڈیو جرنلزم  کے لیے تھی جو لاہور میں بی بی سی سے فُل ٹائم وابستگی کے سبب میری معذرت پہ منتج ہوئی۔ اب کے حکم ملا کہ ٹی ایف ٹی طلبہ کو ڈرامہ پڑھائیں۔ مگر کیوں؟ کہنے لگے کہ معروف ڈرامہ نگار اور لکھاری پروفیسر اصغر ندیم سید یہاں سے چلے گئے ہیں، اب آپ کو پڑھانا ہوگا۔ مَیں اور اصغر ندیم سید کے جوتوں میں پاؤں رکھوں؟ بھلا پہاڑ کہاں جانور غریب کہاں؟ ڈرتے ڈرتے پوچھا: ”ڈاکٹر صاحب، اردو ڈرامہ ہے یا انگریزی؟“ ”جی، دونوں۔“ ”سر، بچوں کی اردو کیسی ہے؟“  ”اپنا نام لکھ لیتے ہیں۔“ مَیں نے اردو بارہویں جماعت تک  پر اردو اچھے استادوں سے پڑھی تھی۔سو، گاڑی چل پڑی۔

   پھر گاڑی کے ٹائم ٹیبل میں مزید مضامین کے جنکشن بھی شامل ہو گئے۔ کہتے ہیں کہ ہندوستان میں جنوبی پنجاب کا بٹھنڈہ  اسٹیشن  پُر سہولت ریلوے رابطوں کی بدولت برصغیر کے سب قابلِ ذکر مقامات سے جُڑا ہوا ہے۔ ڈاکٹر مہدی حسن کے یونیورسٹی چھوڑ دینے تک اُن کا کمرہ ہی ہمارا بٹھنڈہ بنا رہا اور جرنلزم سے تھیٹر، فلم، ٹی وی کی برانچ لائنوں پہ چڑھتے اترتے کبھی دیر نہ لگی۔ پھر برطانوی عہد کے اسٹیشنوں پہ ریفریشمنٹ روم ویسٹرن اسٹائل والی چائے کافی ہر دم تیار۔ طعام گاہ مشرقی طرز کو یاد کریں تو جدید دَور کے برعکس ہمارے بٹھنڈہ جنکشن پہ تمباکو کے مرغولے رنگوں کا امتزاج ہی نہیں، مہک کا تنوع بھی پیش کرتے رہتے۔ ذوقِ مطالعہ کی خاطر کتابیں، رسالے بلکہ خاندانی تاریخ کے مخطوطے اِس کے علاوہ تھے۔ خداوند کریم ڈاکٹر مہدی حسن کی اگلی منزلیں آسان کر ے جن کی میزبانی میں ہمیں یہ یاد دلانا نہ پڑتا کہ:

بے طلب دیں تو مزا اُس میں سوا ملتا ہے

وہ گدا جس کو نہ ہو خوئے سوال اچھا ہے 

    

مزید :

رائے -کالم -