پارلیمینٹ کو عزت دو 

پارلیمینٹ کو عزت دو 
پارلیمینٹ کو عزت دو 

  

آج کل اس بات کا بڑا شہرہ ہے کہ اوپر سے فون آنا بند ہو گئے ہیں یہ بھی کہا جا رہا ہے اب پارلیمینٹ اپنے فیصلے کرنے میں  آزاد ہو گئی ہے۔ کیا واقعی ایسا ہے یا یہ صرف ایک واہمہ ہے اور زیب داستان کے لئے ہے کیا پارلیمنٹ کی خود مختاری کسی کے فون آنے یا نہ آنے سے وابستہ ہے۔ ویسے تو پارلیمینٹ کے رکھوالے یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ وہ تمام اداروں کی ماں ہوتی ہے۔ مگر کیا وجہ ہے کہ یہ ماں جیسا کردار ادا نہیں کر پاتی، ہونا تو یہ چاہئے کہ حکومت ہو یا اپوزیشن ہر فیصلے کے لئے پارلیمینٹ کی طرف دیکھے۔ لیکن صاحبو! سب کی نظریں کسی اور طرف لگی ہوئی ہیں، کتنی عجیب بات ہے کہ حکومت کو لانگ مارچ کے ذریعے گرانے کی کوشش کی جاتی ہے حالانکہ آئین میں واضح ہے کہ عدم اعتماد کی تحریک کہاں پیش کی جا سکتی ہے اور کیسے آئینی طور پر حکومت کو گھر بھیجا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف حکومت ہے۔ اپنے معاملات کو آرڈیننسوں کے ذریعے چلانے کو ترجیح دیتی ہے۔ حالانکہ اسمبلی کے اجلاس بھی جاری ہوتے ہیں۔ پارلیمینٹ کو ایک ڈسپلن کے تحت کیوں نہیں چلایا جاتا کیوں اُسے نظریہئ ضرورت کا چغہ پہنا دیا جاتا ہے اس کا جواب اپوزیشن دیتی ہے اور نہ حکومت کے پاس ہے۔

اصولی طور پر اس سے کسی کو اختلاف نہیں ہو سکتا کہ ملک میں جمہوریت کی سب سے بڑی علامت پارلیمینٹ ہے یہی وہ ادارہ ہے جو آئین ساز بھی ہے اور آئین میں ترمیم کا اختیار بھی رکھتا ہے مگر کیا وجہ ہے کہ اس کی سمت متعین نہیں ہوتی، حکومتیں اپنے فیصلے پارلیمینٹ سے بالا بالا کرنا چاہتی ہیں۔ انہیں پارلیمینٹ ایک فضول قسم کی پابندی لگتی ہے جس سے جان چھڑانا ان کی ترجیح بن جاتی ہے۔ اس حکومت نے تو اپے دور میں ہر معاملہ آرڈیننس کے ذریعے چلایا ہے، پارلیمینٹ کی موجودگی میں آرڈیننس کے نفاذ کو کبھی بھی ایک جمہوری اقدام نہیں سمجھا جاتا، کیونکہ اس سے پارلیمینٹ کی بے وقعتی کا احساس پیدا ہوتا ہے، مگر موجودہ حکومت نے تو آرڈیننسوں کے ذریعے ہی قانون سازی کی ہے۔ حال ہی میں پیکا آرڈیننس بھی نافذ کر دیا ہے، حالانکہ یہ اتنا اہم معاملہ تھا کہ جسے پارلیمینٹ میں ضرور زیر بحث لایا جانا چاہئے تھا۔ اب یہ عدالت میں چیلنج ہو گیا ہے اور جو کام پارلیمینٹ کا تھا وہ پھر عدلیہ کے پاس چلا گیا ہے۔ آئی ایم ایف سے معاہدے کا معاملہ پورے ملک میں تشویش کا باعث بنا ہوا ہے جس کے قومی معیشت پر نہایت منفی اثرات پڑ رہے ہیں اس معاملے کو پارلیمینٹ میں لایا جانا چاہئے تاکہ بحث ہو سکے۔ اس کا لا محالہ حکومت کو ہی فائدہ ہوگا جو دباؤ سے نکل آئے گی اور آئی ایم ایف کے سامنے بھی سرخرو ہو سکے گی،شہباز شریف نے اس کا مطالبہ بھی کیا لیکن ایسا ہوگا نہیں۔ کیونکہ پارلیمینٹ کی موجودہ صورت حال حکومت کے موافق نہیں اور وہ کوئی رسک نہیں لینا چاہتی۔ پارلیمینٹ کو دوسروں کی طرف دیکھنے کی بجائے خود اپنی طرف دیکھنا چاہئے۔ آخر وہ کیا کمزوریاں ہیں جن کی وجہ سے ملک کا سب سے بڑا آئینی ادارہ اپنی حرمت منوانے سے قاصر ہے۔ ایک عام خیال یہ ہے ارکان اسمبلی منتخب ہونے کے بعد اپنے حلقے کے عوام کو بھول جاتے ہیں۔ یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ایوان میں ایسے ممبران کی بڑی تعداد بھی موجود ہے جو پورے عرصہ نمائندگی میں ایک بار بھی اسمبلی کے فلور پر زبان نہیں کھولتے۔ پھر یہ بھی ہے کہ پارلیمینٹ کے ارکان مکھی پر مکھی مارتے ہیں جو کہا جاتا ہے اس پر انگوٹھا لگا دیتے ہیں، آواز اٹھاتے ہیں نہ کسی بات سے انکار کرتے ہیں، لیڈر نے جو کہہ دیا اس پر ہاں کر دی کبھی اپنا ذہن استعمال کیا اور نہ ہی یہ سوچا کہ ان سے جو کچھ منوایا جا رہا ہے اس میں ملک کا کوئی فائدہ بھی ہے؟ امریکہ میں کانگریس یا سینٹ کو نظر انداز کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، وہاں ایک ایک رکن اہمیت رکھتا ہے اور امریکی صدر کو ہر قدم پھونک پھونک کر اٹھانا پڑتا ہے کوئی غیر آئینی یا پارلیمینٹ سے بالا فیصلہ کر کے امریکی صدر چین سے حکومت نہیں کر سکتا اسی لئے وہاں کانگریس اور سینٹ کی اہمیت سب سے زیادہ ہے۔ یہ ان کی جمہوریت کی مضبوطی کا بنیادی سبب ہے۔ عوام کو بھی معلوم ہے کہ ان کے مفادات کا تحفظ کرنے کے لئے ان کے نمائندے موجود ہیں اور حکومت کوئی ایسا بل منظور نہیں کرا سکتی جو عوامی مفادات کے خلاف ہو سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جب اقتدار میں آئے تھے تو انہوں نے بعض ایسے فیصلے کئے جو قومی و عوامی مفاد کے خلاف تھے، خود ان کی پارٹی نے کانگریس اور سینٹ میں ان فیصلوں کی تصدیق کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ جس کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کو بیک فٹ پر جانا پڑا کیا ہمارے ہاں ایسا ہو سکتا ہے؟

نہیں صاحب یہاں تو یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی رکن پارلیمینٹ اونچی آواز میں اپنی جماعت یا وزیر اعظم کے خلاف بات بھی کر سکے ویسے یہ قانون ضرور بنا رکھا ہے کہ پارلیمینٹ میں کہی گئی بات کسی عدالت میں چیلنج نہیں ہو سکتی گویا مکمل آزادی ہے مگر یہ آزادی اس وقت سلب ہو جاتی ہے جب اپنی حکومت کے غلط فیصلوں کے خلاف کلمہ حق کہنا ہو۔ اگر حکومت کی طرف سے یہ بل پیش کیا جائے کہ تمام کوے سفید ہیں تو سرکاری بنچوں سے تعلق رکھنے والے سبھی ارکان روبوٹ بن کر یہی کہیں گے ہاں کوا سفید ہوتا ہے۔ اگر پارلیمینٹ مٹی کے مادھو جیسا کردار از خود اپنا لے گی تو کوئی دوسرا اسے اختیارات یا توقیر دینے نہیں آئے گا سیاستدان جن قومی اداروں سے پارلیمینٹ کے لئے حرمت اور توقیر مانگتے ہیں، ان جیسا ڈسپلن بھی اپنے اندر پیدا کریں۔ پارلیمینٹ کے اختیارات کو خود اپنے اعمال سے منوائیں کہنے کو تو ہم سب نے تسلیم کر رکھا ہے کہ پارلیمینٹ سپریم ہے، آئین میں بھی یہی لکھا ہے یہ کہیں نہیں لکھا کہ پارلیمینٹ سپریم ہے مگر حکومت کے نیچے دب کر کام کرے گی۔ حکومت پر چیک اینڈ بیلنس رکھنا کس کا کام ہے جو پارلیمانی کمیٹیاں بنائی جاتی ہیں وہ اتنی بے اختیار کیوں ہوتی ہیں کہ ان میں وزیر پیش ہوتے ہیں اور نہ افسر، کئی بار تو مختلف محکموں کے افسران نے یہ ٹکا سا جواب دیا وہ ان کمیٹیوں کو جوابدہ ہی نہیں ظاہر ہے ایسے افسران کو حکومت کی حمایت حاصل ہوتی ہے، وگرنہ ان کی کیا جرأت ہے کہ وہ انکار کر سکیں۔

سیاستدان آئے روز یہ کہتے ہیں ملک میں سویلین بالا دستی قائم ہونی چاہئے۔ بڑی اچھی بات ہے آئین بھی اس کی یقین دہانی کرتا ہے، عوام کی بھی یہی خواہش ہے ملک میں جمہوریت قائم رہے اور آئینی ادارے اپنا کام کرتے رہیں، اب سوال یہ ہے اسے عملی جامہ کیسے پہنایا جائے؟ کیا فوج اور سپریم کورٹ پارلیمینٹ کو حرمت کے انجکش لگائیں یا پھر خود پارلیمینٹ نے ملک میں ایک ایسا کردار ادا کرنا ہے، جو کلیدی نوعیت کا حامل ہو۔ سب سے پہلے حکومت اپنے ہر فیصلے کے لئے پارلیمینٹ سے رجوع کرے، آرڈیننسوں کا سہارا ترک کر دے۔ پارلیمینٹ ملک کے مسائل پر توجہ دے، عوام کی خواہشات اور امنگوں کا خیال رکھے حکومت کو گڈ گورننس اور فلاحی کاموں پر مجبور کرے، ہڑبونگ اور انتشار کی بجائے تعمیری سوچ اپنائے تو دیکھتے ہی دیکھتے اس کی حرمت اور احترام زمین سے آسمان تک پہنچ جائے گا مگر خدا لگتی کہئے آپ کو کہیں دور دور تک ایسی باتوں کا امکان نظر آتا ہے۔؟

مزید :

رائے -کالم -