پی ایس پی کیساتھ اتحاد سے انکار کیا،مائنس بانی متحدہ فارمولے کے بعد بھی سپیس نہ ملی:فاروق ستار

پی ایس پی کیساتھ اتحاد سے انکار کیا،مائنس بانی متحدہ فارمولے کے بعد بھی سپیس ...

  

      کراچی(این این آئی)بحالی کمیٹی (ایم کیو ایم پاکستان) کے سربراہ فاروق ستار نے کہا ہے کہ ان پر بالواسطہ دباؤ ڈالا گیا کہ پاک سر زمین پارٹی کے ساتھ اتحاد کریں مگر انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کیا، ٹک ٹاک اسٹار حریم شاہ سے کی گئی ملاقاتی اتفاقی تھی اور وہ انہیں پہلے سے نہیں جانتے تھے، زمانہ طالبعلمی میں جن لڑکیوں سے متعلق کچھ سوچ رکھا تھا، میئر بننے تک وہ مائیں بن چکی تھیں، جس وجہ سے ان کے ارمان دل کے دل میں ہی رہے۔ایک خصوصی انٹرویومیں فاروق ستار نے نہ صرف یونیورسٹی کے دور کی یادوں پر کھل کر باتیں کیں بلکہ انہوں نے سیاسی یادداشتوں پر بھی کھل کر گفتگو کی۔فاروق ستار نے کہا کہ لندن میں رہنے والے بانی متحدہ اور نواز شریف کے ساتھ پاکستان کا رویہ مختلف ہے اور دونوں کے ساتھ الگ الگ سلوک کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ماضی میں جب بانی متحدہ تقریر کے دوران کچھ غلط کہہ جاتے تھے تو ان سمیت پارٹی کے تمام لوگ انہیں وہ بات کہنے سے کم از کم چار مرتبہ روکتے تھے مگر اس کے باوجود وہ متنازع بات کر جاتے تھے۔16اگست 2016 میں کراچی پریس کلب پر خطاب کے بعد وہ مصطفی کمال اور دیگر پانچ رہنماؤں کے ہمراہ لندن گئے تھے۔  اور انہوں نے بانی متحدہ کو چند ماہ تک بحالی مرکز میں رکھ کر ان کا علاج کروایا تھا۔

فاروق ستار نے کہا کہ مائنس بانی متحدہ فارمولے کو آگے بڑھانے پر ان کی پارٹی کو سپیس ملنی چاہیے تھی مگر ایسا نہ ہوسکا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے اعتراف کیا کہ ان کی پارٹی اور وہ پرویز مشرف کے مارشل لا ء کے دور میں مزید بہت کچھ کر سکتی تھی مگر انہوں نے منظم طریقے سے بعض کام نہیں کیے۔انہوں نے کہا کہ ان کی خواہش تھی کہ وہ مشرف دور میں رورل سندھ کو وفاق سے تھوڑی سی خصوصی مراعات دلاکر سندھ سے کوٹہ سسٹم ختم کروائیں مگر ایسا بھی نہ ہوسکا۔ایک سوال کے جواب میں فاروق ستار نے کہا کہ ماضی میں ٹک ٹاک سٹار حریم شاہ سے کی گئی ملاقاتی اتفاقی تھی اور وہ انہیں پہلے سے نہیں جانتے تھے۔زمانہ طالبعلمی کو یاد کرتے ہوئے فاروق ستار نے بتایا کہ جب وہ سندھ میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس کی تعلیم حاصل کر رہے تھے تب لڑکیاں انہیں تنگ کرتی تھیں اور ان سے ملاقات کا وقت بھی مانگتی رہتی تھیں مگر ان کے پاس وقت نہیں ہوتا تھا۔ان کے مطابق وہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد جب ہاؤس جاب کرنے لگے، تب ہی انہیں لوکل الیکشن میں کھڑا کیا گیا اور وہ کونسلر بنے، بعد ازاں وہ جلد ہی 28 سال کی عمر میں کراچی کے میئر منتخب ہوئے۔انہوں نے کہا کہ میئر بننے کے بعد کراچی کے کچھ ہسپتال ان کے ماتحت ہوگئے تھے، جن میں ان کی کلاس فیلو لڑکیاں بھی ملازمت کرتی تھیں اور وہ وہی لڑکیاں تھیں جو انہیں یونیورسٹی میں تنگ کرتی تھیں۔فاروق ستار نے بتایا کہ یونیورسٹی میں تنگ کرنے والی لڑکیوں سے متعلق انہوں نے بہت کچھ سوچ رکھا تھا لیکن جب تک وہ میئر بنے تب تک وہ لڑکیاں مائیں بن چکی تھیں اور وہ ان کے بچوں کو دیکھ کر خاموش رہ گئے اور ان کے ارمان دل کے دل میں ہی رہے۔

فارو ق ستار

مزید :

کامرس -