2یوکرینی شہروں میں عارضی جنگ بندی کا اعلان

2یوکرینی شہروں میں عارضی جنگ بندی کا اعلان

  

       ماسکو،کیف،لندن (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) روس نے انسانی بنیادوں پریوکرین کے 2 شہروں میں عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔ غیرملکی میڈیا کے مطابق روس کی وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ انسانی بنیادوں پریوکرین کے 2 شہروں ماریوپل اوروولونواخا میں عارضی جنگ بندی کی جارہی ہے۔ روسی وزارت دفاع کا مزید کہنا تھا کہ ماریوپل اوروولونواخا میں جنگ بندی کا مقصد شہریوں کوانخلا کی سہولت دینا ہے۔اس سلسلے میں یوکرینی حکام سے بات ہوگئی ہے۔ شہریوں کے انخلا کے دوران کسی قسم کی فوجی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ماریوپل کے میئر وادیم بوئیچنکو نے روسی فوجیوں کے حملے اور ناکہ بندی کے دوران انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا۔ادھر روس کے یوکرین پر حملوں کے بعد سماجی رابطوں کی مشہور ویب سائٹ فیس بک نے اشتہارات پر پابندی عائد کی تھی جس کا روس نے بھی جواب دیدیا ہے۔اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ روسی حکومت نے فیس بک پر پابندی لگا دی، روسی خبر رساں ایجنسی آر آئی اے کی رپورٹ کے مطابق یہ اقدام روسی ریاستی میڈیا سے امتیازی سلوک پر اٹھایا گیا۔روسی میڈیا سے امتیازی سلوک کے 26 کیسز رپورٹ ہوئے تھے، اس کے علاوہ بلوم برگ نیوز نے روس میں اپنے صحافیوں کو کام سے روک دیا ہے۔روسی حکام کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر ملک کے خلاف ڈس انفارمیشن اور نفرت انگیز پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے جس کو روکنا بیحد ضروری تھا۔آج پیش ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق روس نے فیس بک، ٹوئٹر سمیت متعدد ایپ اسٹورز تک روسی عوام کی رسائی کو روک دیا ہے۔بین الاقوامی میڈیا کے مطابق روس نے متعدد خبروں کی عالمی ویب سائٹس پر بھی پابندی لگا دی ہے۔مزید برآں روس پر پابندیوں کا مطالبہ کرنے والوں کو سزا دینے کا قانون منظور ہو گیا۔غیر ملکی خبر ادارے کے مطابق صدر ولادیمیر پیوٹن نے روسی فوجیوں کی توہین کرنے والوں کو بھی سزاد ینے کے قانون کی منظوری بھی دیدی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق روس میں نئے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں پر بھاری جرمانے ہوں گے، سنگین نتائج کی حامل فیک نیوز پر15 برس قید کی سزا ہو گی۔دوسری جانب روسی حکام کا کہنا ہے کہ یوکرین میں خصوصی آپریشن کا مقصد یوکرین کو تقسیم کرنا نہیں بلکہ آپریشن یوکرین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ہے۔روس کے صدارتی ترجمان دمتری پیسکوف کا کہنا ہے کہ یوکرین کو غیر فوجی علاقہ بنانا چاہتے ہیں، یوکرین کے نیوٹرل ہونے کی آئینی گارنٹی چاہتے ہیں۔ادھراقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے یوکرین پر روسی حملے کے دوران مبینہ خلاف ورزیوں کی مذمت کیلئے قرار داد بھاری اکثریت سے منظور کرلی ہے۔ یوکرین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کیلئے ایک کمیشن آف انکوائری بھی قائم کردیا گیا ہے۔ اس حوالے سے اقوام متحدہ کی 47 رکنی انسانی حقوق کونسل کے 32 ارکان نے یوکرین کی طرف سے لائی گئی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔روس اور اریٹیریا نے مخالفت میں ووٹ دیا جبکہ 13 ملکوں نے ووٹ نہیں دیا۔ یوکرین کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ نے ٹی وی پر جاری بیان میں کہا کہ 24 فروری کو یوکرین پر روس کے حملے کے بعد سے اب تک کارروائیوں میں جہاں عام شہری مارے گئے وہیں ان حملوں میں 28 بچے بھی جان سے جاچکے ہیں جب کہ 800 سے زائد بچے زخمی ہوئے ہیں۔قومی سلامتی کونسل کے سربراہ نے روس سے جنگ کے دوران خواتین اور بچوں کو محفوظ راستہ دینے کی بھی اپیل کی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس تمام تر صورتحال میں محفوظ راہداری کا سوال سب سے پہلا سوال ہے۔روسی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرینی قوم پرستوں نے پانچ ہزار غیر ملکیوں کو یرغمال بنا لیا ہے، ان میں 16 پاکستانی طالبعلم بھی شامل ہیں۔روسی وزارت دفاع نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرین کے قوم پرستوں ہزاروں غیر ملکیوں کو یرغمال بنا لیا ہے، سومی میں 16 پاکستانی طالبعلم، 576 بھارتی شہری موجود ہیں، چین کے 121، تنزانیہ 159، گھانا کے 100، مصر کے 60شہری موجود ہیں۔ خارکیف میں بھارت کے 1ہزار 500، مصر کے 200 طالب علم موجود ہیں۔

روس،یوکرین

مزید :

صفحہ اول -